اسلام آباد:
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سوال اٹھایا ہے کہ پختونخوا میں طویل حکمرانی کے باوجود امن اور روزگار کے مسائل کیوں برقرار ہیں؟
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت قبائلی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا جواب دیں۔ امن کے نام پر احتجاجی سیاست سے مسائل حل نہیں ہوں گے، سنجیدہ حکمت عملی اور عملی اقدامات درکار ہیں۔ قبائلی عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں، وہ اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طویل صوبائی حکمرانی کے باوجود امن، روزگار اور بنیادی سہولتوں سے متعلق سوالات جواب طلب ہیں۔ فاٹا کے انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں پولیس کا نظام کتنا مضبوط ہوا؟ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کون سے مؤثر ادارے قائم کیے گئے؟ سی ٹی ڈی کی استعداد، تھانوں کی تعداد اور جدید نگرانی کے نظام میں کیا بہتری آئی؟ قبائلی نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
طارق فضل چوہدری نے سوال اٹھایا کہ قبائلی اضلاع میں جدید اسپتالوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں کی کمی کیوں برقرار ہے؟ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن و امان کی سنگین صورتحال پر پریشان ہیں۔ پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ٹھوس فیصلوں کا تقاضا کرتی ہیں۔ عوام کو نعروں اور جلسوں کے بجائے زندگی بہتر بنانے والے اقدامات چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام بہادر، باوقار اور محب وطن ہیں، انہیں حقوق اور بنیادی سہولتوں کے لیے مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ قبائلی نوجوان صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، انہیں روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں فاٹا یونیورسٹی اور چار کیڈٹ کالجز جیسے منصوبوں پر کام کیا گیا۔ قبائلی اضلاع میں اعلیٰ تعلیم، دانش اسکولوں اور جدید طبی سہولتوں کا فروغ ترجیح ہونی چاہیے۔
اپنے بیان میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں کھیلوں کے مراکز اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ خیبر پختونخوا کے ہر ضلع میں ترقی کے نئے دروازے کھولنا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا ہوں اور صوبے میں سرمایہ کاری بڑھے۔ قبائلی علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی تعاون اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ عوامی حمایت کا اصل معیار کارکردگی ہے، طویل اقتدار کے بعد سوالات کا جواب حقائق اور اقدامات سے دیا جائے۔ ہم خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کا خاتمہ اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم اور ہر گھر کو خوشحالی ملنی چاہیے۔ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ خیبر پختونخوا کا محفوظ مستقبل ہی پاکستان کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔