آئین کا آرٹیکل 232، ایمرجنسی کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری، مگر صدر اعلان کرسکتےہیں

صدرمملکت کے ایمرجنسی کے اعلان کو 10 روز میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا لازم ہے


وقاص احمد October 10, 2026
(فوٹو: انٹرنیٹ)

آئین پاکستان کے تحت جنگ یا بیرونی جارحیت کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے اور اسی طرح کسی صوبے میں داخلی بدامنی بھی ایمرجنسی کا باعث بن سکتی ہے، جس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری قرار دی گئی ہے تاہم آرٹیکل 232 کے تحت صدرمملکت بھی ایمرجنسی کا اعلان کرسکتےہیں۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 232 میں قومی ایمرجنسی کے نفاذ کا طریقہ کار واضح ہے، جس کے تحت جنگ یا بیرونی جارحیت کی صورت میں  ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے، صوبے کے قابو سے باہر داخلی بدامنی بھی ایمرجنسی کی بنیاد بن سکتی ہے تاہم داخلی بدامنی پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری قرار دی گئی ہے لیکن صدر مملکت بھی ایمرجنسی کا اعلان کر سکتے ہیں۔

صدرمملکت کے ایمرجنسی کے اعلان کو 10 روز میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا لازم ہے، ایمرجنسی کے اعلان کے 30 روز میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا ضروری ہے، پارلیمنٹ سے مطلوبہ منظوری نہ ملے تو ایمرجنسی دو ماہ بعد ختم ہو جاتی ہے اور پارلیمنٹ ایمرجنسی کے دوران خصوصی اختیارات کے تحت قانون سازی کر سکتی ہے۔

آئین کے تحت ایمرجنسی میں بعض صوبائی انتظامی اختیارات وفاق یا گورنر استعمال کر سکتے ہیں اور وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو انتظامی ہدایات جاری کر سکتی ہے، متصادم صوبائی قانون پر ایمرجنسی کے تحت بنائے گئے وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔

خصوصی اختیار کے تحت بنائے گئے بعض وفاقی قوانین ایمرجنسی کے 6 ماہ بعد غیر مؤثر تصور ہوتے ہیں تاہم ایمرجنسی کے دوران قومی اسمبلی کی مدت میں ایک سال تک توسیع کی جا سکتی ہے، قومی اسمبلی کی مدت میں توسیع ایمرجنسی کے خاتمے کے 6 ماہ بعد تک جاری نہیں رہ سکتی۔

وفاقی حکومت ایمرجنسی کے دوران متعلقہ ہائی کورٹ کے اختیارات اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی۔

ایمرجنسی کے دوران بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے آئین پاکستان کا آرٹیکل 233 موجود ہے، ایمرجنسی کے نفاذ اور تسلسل پر پارلیمانی نگرانی آئینی تقاضا ہے۔

آئین کا آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی پر خصوصی انتظام سے متعلق ہے، صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہ چل سکے تو آرٹیکل 234 کے تحت کارروائی ممکن ہے، جس کے لیے گورنر کی رپورٹ پر صدر مملکت صوبے میں خصوصی آئینی اعلان جاری کر سکتے ہیں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ الگ الگ قراردادیں منظور کریں تو اعلان جاری کرنا لازم ہوتا ہے، صدر مملکت صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھال سکتے ہیں اور گورنر کو صدر کی جانب سے صوبائی اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔

آئین کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات براہ راست صدر اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے، صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ یا اس کی اتھارٹی کے تحت استعمال ہو سکتے ہیں، پارلیمنٹ کو صوبائی اسمبلی کے دائرہ اختیار کے معاملات پر قانون سازی کا اختیار دیا جا سکتا ہے اور صوبائی اداروں اور اتھارٹیز کے بعض اختیارات بھی خصوصی انتظام میں شامل ہو سکتے ہیں۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 234 کا اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کرنا لازم ہے، مشترکہ اجلاس سے منظوری نہ ملے تو اعلان 2 ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے، پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس کی قرارداد سے اعلان میں مزید توسیع کر سکتی ہے، آرٹیکل 234 کے تحت ہر توسیع زیادہ سے زیادہ 2 ماہ کے لیے کی جا سکتی ہے، صوبے میں خصوصی آئینی انتظام نیا گورنر راج کسی صورت 6 ماہ سے زیادہ برقرار نہیں رہ سکتا، قومی اسمبلی تحلیل ہو تو آرٹیکل 234 میں الگ آئینی طریقہ کار موجود ہے۔

قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں خصوصی اعلان ابتدائی طور پر 3 ماہ برقرار رہ سکتا ہے، مقررہ مدت میں عام انتخابات نہ ہوں تو سینیٹ کی منظوری سے متعلق آئینی شرط لاگو ہوتی ہے جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت ہائی کورٹ کے اختیارات صدر یا گورنر نہیں سنبھال سکتے اور ہائی کورٹ سے متعلق آئینی دفعات معطل کرنے کا اختیار بھی حاصل نہیں ہے۔

خصوصی اختیارات کے تحت بنائے گئے بعض قوانین اعلان ختم ہونے کے 6 ماہ بعد غیر مؤثر ہو سکتے ہیں، صوبائی حکومت کے اختیارات، صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ کا کردار آرٹیکل 234 میں الگ الگ متعین ہے، آئین کا آرٹیکل 233 ایمرجنسی میں بنیادی حقوق پر اثرات کی وضاحت کرتا ہے۔

ایمرجنسی کے دوران بعض بنیادی حقوق سے متعلق خصوصی آئینی اختیارات نافذ ہو سکتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 233 کی شق ون میں 6 بنیادی حقوق سے متعلق آرٹیکلز کا ذکرہے، آرٹیکل 15 نقل و حرکت کی آزادی سے متعلق ہے، آرٹیکل 16 پرامن اجتماع کے حق سے متعلق ہے، آرٹیکل 17 انجمن یا اتحاد بنانے کے حق سے متعلق ہے، آرٹیکل 18 پیشہ، تجارت اور کاروبار کی آزادی سے متعلق ہے، آرٹیکل 19 اظہار رائے اور پریس کی آزادی سے متعلق ہے اور آرٹیکل 24 جائیداد کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ہے، ایمرجنسی میں ان بنیادی حقوق کے استعمال پر آئینی شرائط کے تحت پابندیاں ممکن ہیں۔

آرٹیکل 233 کی شق دو کے تحت صدر مملکت کو خصوصی حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے، صدر مملکت مخصوص بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع کا حق معطل قرار دے سکتے ہیں، عدالت سے رجوع کے حق کی معطلی مخصوص مدت کے لیے ہوسکتی ہے۔

صدر مملکت کا حکم پورے پاکستان یا کسی مخصوص حصے کے لیے جاری ہو سکتا ہے، آرٹیکل 233 کے تحت صدر کا حکم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا لازم ہے۔

بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق حکم پر آرٹیکل 232 کی متعلقہ شرائط لاگو ہوں گی، ایمرجنسی ختم ہونے پر خصوصی اختیارات کے تحت بنائے گئے قوانین غیر مؤثر تصور ہوتے ہیں۔