(حصہ اوّل)
سہیل احمدصدیقی
[email protected]
ہرچند کہ یہ موضوع اہل ِذوق اور اہلِ تحقیق کے لیے نیا نہیں، پھر بھی سدا بہار ہے کیونکہ اِس کی مختلف جہتیں ہم جیسے محققین کو ہمیشہ کوئی نہ کوئی نئی معلومات فراہم کرتی ہیں اور تحقیق کا کوئی نیا باب بھی وا ہوجاتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک صاحب نے نئی نئی معلوماتی وڈیوز بنانی شروع کیں تو اوّل اوّل اس موضوع کو شرف بخشا، مگر ......... جن دو شعروں کی اپنے خیال میں تصحیح فرمائی، اُن میں پہلے کے شاعر کی روح تڑپ گئی ہوگی، کیونکہ اُس بے چارے نے وہی کہا تھا جو مشہور ہے، البتہ دوسرا شعر موصوف نے صحیح بیان کیا......اس ماجرے کو مضمون کے آخر میں بیان کروں گا، پہلے اپنے انتہائی مشفق کرم فرما، ایک سو پانچ سالہ بزرگ محقق ِ اشعار، جناب محمد شمس الحق مرحوم (مرتب ’اردو کے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں‘) کو یاد کرلوں جنھوں نے خاکسار کی ایک ادنیٰ کوشش ’’اردو کے مشہور اشعار۔ ایک جائزہ‘‘ نامی (رَدّتحقیق پر مبنی) کتابچے کی بھرپور تحسین فرمائی، مجھ سے طلب کیا اور سہواً راہ پاجانے والی بعض ایسی عبارتوں کی نشان دہی کی جو ہر ایک کے علم میں نہیں۔ اُن سے چند ہی ملاقاتیں ہوئیں، مگر بہت یادگار۔ (بات کی بات ہے کہ جب اس کتابچے کی توسیع اور نظرِثانی کا کام شروع ہوا تو صفحات کی تعداد 272 تک جاپہنچی، مگر ایک طویل مدت کے بعد، ہنوز، وسائل میسر نہیں کہ شایع کرسکوں)۔ انھوں نے اپنی دیگر کتب بھی مجھے عنایت فرمائیں۔
’اردو کے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں‘ اپنے موضوع پر نہایت مفید کتاب ہے جس میں مرتب نے اپنی طویل عمر کا نصف زائد حصہ صَرف کرتے ہوئے ایسے متعدد اَشعار کی نشان دہی کی جو ماقبل یا تو عوام وخواص کے علم میں نہ تھے۔ یا ۔ جن کی تصدیق مع حوالہ ہر کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ میرے فاضل مرحوم بزرگ دوست نے جا ں فشانی اور عرق ریزی سے کام کیا اور ایسی یادگار چھوڑ گئے جس کی تحسین وتقلید دائمی رہے گی۔ یہ ضرور ہے کہ اِکّا دُکّا کاوشیں اس ذخیرے میں اضافے کی ہوئی ہیں، مگر پوری کتاب کو اَز سرِ نَو تازہ یا جدید کرنے یعنی update کرنے کی کوئی ہمّت نہیں کرسکا۔ کتاب کے پیش لفظ سے قبل کسی بزرگ کا دیباچہ یا تقریظ نہ ہونا بہت خوش آئند ہے کہ اس طرح صاحبِ کتاب کا اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ موصوف اس سے قبل اسی نوعیت کی چند کتب ترتیب دے کر شایع کرواچکے تھے، مگر یہ کتاب اُن کی عمر بھر کی جمع پونجی ہے۔ تفصیل اس اِجمال کی یہ ہے کہ ماقبل موصوف نے ’گُل ہائے رنگ رنگ‘ کے عنوان سے تین جلدوں میں اردو کے منتخب اشعار جمع کرکے نیشنل بُک فائونڈیشن، اسلام آباد کے زیرِاہتمام شایع کروائے۔ 1300شعراء کے تقریباً15000اشعار کی جمع وتدوین کوئی معمولی کام نہ تھا۔اسی پر بس نہیں، انھوں نے دوسری اور تیسری جلد میں تمام شعراء کے سوانح بھی درج کیے۔ شمس صاحب کی کتاب ’اردوکے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں‘ میں ان کتب سے استفادے کے ساتھ ساتھ، متعدد دواوِین اور دیگر مآخذ سے خوشہ چینی بھی شامل ہے۔
اس کتاب کی اہمیت خود مرتب مرحوم کے منقول الفاظ میں یہ بھی ہے کہ بقول ڈاکٹر گوہر نَوشاہی ’’میرے نزدیک اچھّی کتاب کی تعریف یہ نہیں کہ اُس میں کچھ اضافہ نہ کیا جاسکے، بلکہ اچھّی کتاب اُسے کہتے ہیں جس میں کچھ خارج کرنا دشوار ہو‘‘۔ 2001ء کے اوائل میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والی اس کتاب کی اشاعت دویا تین بار ہوچکی ہے;مجھے شمس الحق مرحوم نے 2010ء کا ترمیم شدہ ایڈیشن عنایت فرمایا ، مگر شاید اِس کے بعد بھی کوئی ایڈیشن شایع ہوا تھا۔
انھوں نے بجا فرمایا کہ ’’بعض شعراء کے اِکّا دُکّا شعر، زباں زدِخاص وعام ہیں اور محض اِنہی اشعار کی بدولت اُن کے نام زندہ ہیں۔ یہ شعر اُردو اَدب سے دل چسپی رکھنے والے اکثر اَصحاب نے سُنے ہوں گے، لیکن شاعر کا نام بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا‘‘۔ اس تمہید کے بعد اُنھوں نے کچھ اشعار مثال کے طور پر پیش کیے:
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جوکیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
(لالہ مادھو رام جوہرؔ فرخ آبادی)
اس شعر کو عوام وخواص میں بِگڑی ہوئی شکل میں شہرت ملی:
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
دیکھ ہی لیں گے اشارہ سرِمحفل جو کیا
(یہ میری ذاتی تحقیق ہے: س ا ص)
کب ہے عریانی سے بہتر کوئی دنیا میں لباس
یہ وہ جامہ ہے کہ جس کا نہیں سیدھا اُلٹا
(صاحب مِرزا شناورؔ)
پِیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے
اِک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
(خوش وقت علی ورشیدؔ)
خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری ہوجائے
(نواب امین الدولہ مہرؔ)
یہ شعر بھی عوامی سطح پر بِگڑ کر یوں مشہورہوا کہ دوسرے مصرع میں تبدیلی ہوگئی:
کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری مل جائے ( س ا ص)
گئے دونوں جہان کے کام سے ہم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصال ِ صنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
(مرزا صادق شررؔ)
ڈھلا ہے حُسن، لیکن رنگ ہے رُخسار ِ جانا ں پر
ابھی باقی ہے کچھ کچھ دھوپ دیوارِ گلستاں پر
(نواب محمد باقر علی خان مشّاقؔ لکھنوی)
اب آپ ہی بتائیے کہ اگر شمس مرحوم نے اتنی محنت کرکے ایسے اشعار مع اسمِ شعر بالتحقیق یکجا نہ کیے ہوتے تو کیا ہمیں ان کے بارے میں کچھ معلوم ہوپاتا؟
بہت ہی مشہور مصرع ہے : مجھ پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا
کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ بھی غلط مشہور ہے۔ خواجہ حیدرعلی آتش ؔ کا شعر یوں ہے:
اَور کوئی طلب اَبنائے زمانہ سے نہیں
مجھ پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں کرتے
ایک اور مثال آتشؔ ہی کے ہم عصر ، نامور سخنور مصحفیؔ کے اس شعر میں دیکھی جاسکتی ہے:
بلبل نے آشیانہ جب اپنا اُٹھالیا
اُس کی بلاسے بُوم بسے یا ہُما رہے
حالانکہ شاعر نے تو یوں کہا تھا:
بلبل نے آشیانہ چمن سے اُٹھالیا
پھر اِ س چمن میں بُوم بسے یا ہُما بسے
یہ استاد ِ سخن آج زندہ ہوتے اور اپنے شعر کا حُلیہ بگڑا ہوا دیکھتے یا سُنتے تو غصے میں آپے سے باہر ہوجاتے۔
ایک مشہور ِزمانہ شعر ہے جو صدیوں بعد بھی ہر لحاظ سے کسی تراشے ہوئے ہِیرے کے مانند جاذبِ نظر اور ’سولہ آنے سچ‘ معلوم ہوتا ہے ، بہت سوں کو یاد بھی ہے ، مگر اِس کے شاعر کا نام کم لوگ اِس نسبت سے جانتے ہیں۔ یہ شعر اُردو کے اوّلین بڑے شاعر ولیؔ گجراتی دکنی (دکن والے بعض لوگوں کے نزدیک اورنگ آبادی) سے یادگار ہے:
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
شاہ مبارک آبروؔ اَپنے وقت کے بڑے شاعر تھے۔ اُن کا شعر مشہور ہے:
میاں کے لوگ کہتے ہیں، کمر ہے
کہاں ہے ، کس طرح کی ہے، کدھر ہے
حالانکہ اُنھوں نے پہلا مصرع یوں باندھا تھا: تمھارے، لوگ کہتے ہیں ، کمر ہے
بات کی بات ہے کہ ’کمر‘ کے متعلق مہتاب رائے تاباںؔ کا یہ شعر بھی شاملِ کتاب ہے:
یا تنگ نہ کر ، ناصحِ ناداں، مجھے اِتنا
یا چل کے دِکھا دے دہن ایسا، کمر ایسی
اس سے کہیں زیادہ تاباںؔکا وہ شعر ہے جس پر محمدحسین آزادؔ نے ایک افسانہ تراش کر ’آب ِ حیات‘ میں شامل کیا اور کسی گمنام ،کمسن شاعر سے منسوب کردیا۔شعر بہرحال، بالتحقیق تاباںؔ کا ہے:
شعلہ بھڑک اُٹھا مِرے اِس دل کے داغ سے
آخر کو آگ لگ گئی ، گھر کے چراغ سے
دوسرا مصرع عموماً لوگ یوں پڑھتے ہیں: اس گھر کو آگ لگ گئی، گھر کے چراغ سے
پرکاش پنڈِت نے ’’اردو کی بہترین شاعری‘‘ کے عنوان سے انتخاب شایع کیا تو اُس میں ایک پوری غزل ، اردو کے شاعر ِبے نظیر، نظیر ؔ اکبر آبادی سے منسوب کرتے ہوئے شامل کی جس کا مطلع تھا:
دُور سے آئے تھے ساقی ، سُن کے مَے خانے کو ہَم
پر ترستے ہی چلے ، اب ایک پیمانے کو ہَم
شمس الحق صاحب کی تحقیق کے مطابق یہ شعر اور پوری غزل درحقیقت اَمیر خاں انجامؔ کی ہے۔
میرؔصاحب کا شعر ہے:
بہت کچھ کہا ہے ، کرو میرؔ بس!
کہ اللہ بس اور باقی ہَوَس
اس کا دوسرا مصرع خاکسار نے کسی اور شاعر کے کسی شعر میں شامل دیکھا تھا، مگر اَب یاد نہیں کس کے۔
فتح علی شیداؔ کا یہ مشہور ِ زمانہ شعر ملاحظہ فرمائیں جو ’تذکرہ ٔ حیدری‘ کے مؤلف نے بھی نقل کیا اور بتایا کہ شاعر موصوف ، میرزا رفیع سوداؔ کے شاگرد تھے:
وے صورتیں الٰہی، کس مُلک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جِن کے، آنکھیں ترستیاں ہیں
یہ شعر متروکاتِ سخن میں سب سے زیادہ مشہور ہوا ۔’وے‘ بجائے ’وہ‘ اور کسی بھی لفظ کی جمع اس طرح بنانا اب اردو میں متروک ہے ، لیکن پنجابی اور سرائیکی میں زندہ ہے اور کبھی ہماری قدیم دکنی بولی میں بھی رائج اور مقبول تھاجیسے انکھیاں، انکھڑیاں، باتاں، راتاں، ملاقاتاں وغیرہ ۔
عوام وخواص نظیر ؔاکبر آبادی کا ایک مشہور شعر بالکل غلط پڑھتے ہیں۔ اصل یہ ہے:
تھا اِرادہ تِری فریاد کریں حاکم سے
وہ بھی کم بخت تِرا چاہنے والا نکلا
اور غلط یوں مشہور ہے کہ ’’ہم نے سوچا تھا کہ حاکم سے کریں گے فریاد.....‘‘
میر حسنؔ کے مشہور اَشعار میں یہ بھی شامل ہے:
کسی پاس دولت یہ رہتی نہیں
سدا نائو کاغذ کی بہتی نہیں
اسی کتاب میں میرحسنؔ کے اس شعر سے مماثل، سعادت یار خاں رنگیںؔ کا مشہور شعر بھی نقل کیا گیا:
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
نائو کاغذ کی کہیں چلتی نہیں
ممکن ہے کہ رنگیںؔ نے تضمین کے طور پر یہ شعر کہا ہو۔ جب تک تحقیق نہ ہو کوئی الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ یہ احتیاط اس لیے ضروری ہے کہ ترجمہ، توارُد، چربہ، تضمین اور سرقہ جیسی اصطلاحات کے استعمال میں اکثر لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ابھی جب یہ مضمو ن زیرتحریر ہے تو تازہ واردات میرے ساتھ بھی فیس بک پر ہوچکی ہے جس کا ذکر یہاں بے سُود ہے۔
آپ نے یقینا سُنا ہوگا ’’گِرتے ہیں شہسوار ہی، میدان ِ جنگ میں‘‘، یہ غلط مشہور ہے۔ صحیح شعر یوں ہے:
شہ زور اَپنے زور میں گِرتا ہے مثلِ برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھُٹنوں کے بل چلے
یہ میرزا عظیم بیگ عظیم ؔ کا شعر ہے۔
ایک بہت ہی مشہور شعر جگر ؔ مراد آبادی سے منسوب چلا آرہا ہے، مگر درحقیقت اُس کے شاعر منشی موجی رام موجیؔ ہیں۔ملاحظہ فرمائیں:
دل کے آئینے میں ہے تصویر ِ یار
جب ذرا گردن جھُکائی، دیکھ لی
شاہ نصیرؔ کا ایک مشہور شعر اَپنی مضمون آفرینی اور ایک ترکیب کے معنیٰ خیز (نہ کہ ذومعنی) استعمال کے سبب نہایت دل کش اور منفرد ہے:
اے خالِ رُخِ یار! تجھے ٹھیک بناتا
جا، چھوڑدیا، حافظِ قرآن سمجھ کر
یہاں شاعر نے تشبیہ کو اِس قدر عروج بخشا کہ پڑھانے والے کے لیے اس کی تشریح محال ہے۔ یہاں شاعر نے رعایت ِ لفظی سے کام لیتے ہوئے پہلے تو محبوب کے چہرے کو مصحف قرار دیا ، پھر مصحف بھی گویا قرآن جیسا (کیونکہ مصحف کہنے سے قرآن مجید کی طرف دھیا ن جاتا ہے) اور ایسے میں اُس مصحف کا محافظ، محبوب کے گال کے تِل کو قرار دے کر مبالغے کی اعلیٰ مثال قائم کردی۔ اس سے ہٹ کر ایک اور مشہور شعر میں، بلکہ مصرع میں بہت نازک مسئلہ درپیش ہے۔ ایک شاعر تھے امام علی صاحب ِ قِرآں ۔ اُن کا مصرع ہے کہ
ع پوچھا صاحب ِ قِرآں نے جادی سے
یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ لفظ قُرآن نہیں، قِرآن ہے یعنی زیر سے اور تاریخ میں دو بادشاہوں، امیرتِیمور اور شاہجہاں کو ’صاحبِ قِرآں‘ کے لقب سے یاد کیا گیا کیونکہ یہ دونوں بادشاہ ایک روایت کے مطابق اُس گھڑی پیداہوئے تھے جب سیارہ زُحل (Saturn) اور مُشتری (Jupiter) کا ملاپ ہورہا تھا جسے علم نجوم (astrology) میں قِرآن السعدَین یعنی دو مبارک چیزوں کا ملن کہتے ہیں۔ اس عمل کو مبارک اور اُس گھڑی پیدا ہونے والے کو بَلَند اقبال، صاحب ِ شان وشوکت سمجھا جاتا ہے۔ یہ دونوں بادشاہ اپنے اپنے وقت میں کمال کو پہنچے۔ اب زبان کا معاملہ یہ ہے کہ ’صاحبِ قِرآں‘ کو ملا کر صاحبقراں لکھنا صحیح نہیں، کیونکہ اس سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔ اس مصرع کے بعد والا مصرع مرتب مرحوم نے قصداً اَدھورا لکھا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ شاید کوئی فُحش ٹکڑا ہوگا جو حذف کیا اور فقط یوں لکھا:
......................درار سی کیا ہے
اس کے بعد پورا شعر موجود ہے جو بہت مشہور ہے:
ہنس کے بولی کہ دیکھ لو صاحب
ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے
اس تمام تذکرے کے بعد وہ بات بھی کہتا چلوں جس کا ذکر آغاز میں ادھور ا چھوڑا تھا۔ فیس بک پر ایک صاحب شاہد صمد ہیں جن کی ایک وڈیو کلپ بہت تیزی سے پھیلی یعنی آج کے چالو محاورے میں Viralہوئی۔ اس میں انھوں نے اپنے طور پر حتمی اور قطعی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرزا غالبؔ کے شاگرد، میاں داد خاں سیّاح ؔ(1829ء ۔یا۔1830 ء تا 1907ء ) کا مقبول شعر یوں نہیں، یوں ہے یعنی آج تک غلط ہی مشہور ہے:
قیس جنگل میں اکیلا ہے، مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مِل بیٹھیں گے دیوانے دو
موصوف کا فرمان ہے کہ چونکہ عرب میں جنگل نہیں صحرا ہوا کرتے ہیں، اس لیے یہ شعر یوں ہوگا کہ... قیس صحرا میں اکیلا ہے..........
بصد احترام عرض ہے کہ کسی بھی شعبے اور معاملے میں رَدّتحقیق سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔ شعر وہی ہے جو مشہور ومقبول ہے اور اِسے نہ صرف شمس الحق صاحب کی کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے، بلکہ محترمہ اَداؔ جعفری کی کتاب ’غزل نُما‘ (اشاعت ِ اوّل:1987ء، ناشر : انجمن ترقی اردوپاکستان، کراچی) میں بھی مع حوالہ اسی طرح درج ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ شاہد صمد صاحب کو جواب دینے والوں میں اکثریت شعرفہم اور صاحبِ علم ہے، اس لیے اُنھیں صحیح شعر بتاکر سمجھا یا گیا کہ ایسی بے سند بات کرنا مناسب نہیں!
فدویؔ عظیم آبادی کا مشہور شعر ہے:
ٹُک ساتھ ہو حسرت دلِ مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے، ذرا دُھوم سے نکلے
شمس الحق صاحب نے بھی یہی نقل کیا ہے۔ شاہد صمد صاحب نے فرمایا کہ یہ شعر بھی غلط پڑھا جاتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے:
چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے بڑی دُھوم سے نکلے
یہاں بندہ اُن کی تائید کرتا ہے۔ (جاری)