خام تیل؛ پاکستان کے لیے بڑی پیشرفت، لیبیا سے درآمد، ترکیہ کا اہم منصوبہ سامنے آگیا

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی ریاض میں 17 ویں بین الاقوامی توانائی فورم کے وزارتی اجلاس میں شرکت


ویب ڈیسک October 12, 2026

خام تیل کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کی دعوت پر 17ویں بین الاقوامی توانائی فورم کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہدایات پر اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔ علی پرویز ملک نے سعودی سرزمین پر حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے عالمی توانائی تحفظ، سستی فراہمی اور پائیداری یقینی بنانے کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مقامی پیداوار، اسٹریٹجک ذخائر اور توانائی کے ذرائع میں تنوع کے ذریعے توانائی تحفظ بہتر بنا رہا ہے۔

دریں اثنا وزیر پیٹرولیم نے لیبیا کے وزیر تیل و گیس سے ملاقات کی، جس میں خام تیل کی درآمد اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان نے اپنی ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل درآمد کرنے کی ترغیب دی ہے۔

ملاقات میں لیبیا کے وزیر تیل و گیس نے پاکستانی کمپنیوں کو خام تیل کی فراہمی میں مدد دینے کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں ممالک نے ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے شعبے میں تجربات کے تبادلے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

علاوہ ازیں علی پرویز ملک نے قطری وزیر توانائی سعد الکعبی سے بھی ملاقات کی، جس میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار سے ملاقات میں پاکستان میں سمندر سے تیل و گیس کی تلاش پر گفتگو ہوئی۔

ترک وزیر کے مطابق ترکش پیٹرولیم کا سیسمک جہاز انڈس بیسن میں ڈیٹا جمع کرنے کے لیے اگلے ماہ پاکستان پہنچے گا۔

وزیر پیٹرولیم نے عالمی توانائی بحران کے دوران سعودی عرب، قطر اور کویت سمیت برادر ممالک کے تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ بین الاقوامی توانائی فورم کے اجلاس کے موقع پر عالمی توانائی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں پاکستان نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے، متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا گیا۔