جامعہ داؤد کے داخلہ ٹیسٹ میں کراچی بورڈ کے 92 فیصد امیدوار کامیاب، اندرون سندھ نمایاں پیچھے

ایم ڈی کیٹ میں اندرون سندھ کے طلبہ کی نمایاں کارکردگی پر مختلف حلقوں نے نتائج کو مشکوک قرار دیا تھا


ویب ڈیسک October 12, 2026

کراچی:

داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج میں کراچی کے تعلیمی بورڈ کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب اندرون سندھ کے بیشتر تعلیمی بورڈز سے نمایاں طور پر زیادہ رہا۔

آئی بی اے کراچی کے تحت ہونے والے داخلہ ٹیسٹ میں کیمبرج کے تمام امیدوار کامیاب قرار پائے جن کی کامیابی کا تناسب 100 فیصد رہا، آغا خان ایجوکیشنل بورڈ کے 49 امیدواروں میں سے 48 نے کامیابی حاصل کی جس کا تناسب تقریباً 98 فیصد بنتا ہے۔

کراچی بورڈ سے سب سے زیادہ 1,662 امیدواروں نے داخلہ ٹیسٹ کے لیے درخواستیں دیں جن میں سے 1,521 امیدوار کامیاب قرار پائے، اس طرح کراچی بورڈ کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب تقریباً 92 فیصد رہا۔

دوسری جانب اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈز کے نتائج نسبتاً کم رہے۔ سکھر بورڈ کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب 69 فیصد، میرپورخاص بورڈ 71 فیصد، حیدرآباد بورڈ 74 فیصد، نواب شاہ بورڈ 78 فیصد اور لاڑکانہ بورڈ کا نتیجہ 75 فیصد رہا۔

ضیاء الدین امتحانی بورڈ کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب تقریباً 73 فیصد جبکہ سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا تناسب تقریباً 62 فیصد رہا۔ مجموعی طور پر صرف تین بورڈز کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب 92 فیصد یا اس سے زیادہ تھا۔

اس سے قبل جامعہ این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج میں بھی مختلف تعلیمی بورڈز کے امیدواروں کی کارکردگی میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا۔ کیمبرج کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب 94 فیصد، آغا خان ایجوکیشن بورڈ کا 88 فیصد، فیڈرل بورڈ کا 83.71 فیصد جبکہ کراچی بورڈ کا 80 فیصد رہا تھا۔

اندرون سندھ کے بورڈز میں حیدرآباد بورڈ کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب 46.83 فیصد، نواب شاہ کا 42.03 فیصد، میرپورخاص کا 40.43 فیصد، لاڑکانہ کا 36.71 فیصد اور سکھر بورڈ کا 35.06 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب آئی بی اے سکھر کے تحت میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے ایم ڈی کیٹ میں اندرون سندھ کے طلبہ کی نمایاں کارکردگی بھی سامنے آئی تھی۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق کیمبرج، آغا خان بورڈ اور کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کا کوئی امیدوار ٹاپ 20 میں جگہ نہیں بنا سکا تھا جبکہ انجینئرنگ کے داخلہ ٹیسٹ میں ان تعلیمی اداروں کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب نمایاں رہا۔