پاکستان کی عالمی منڈیوں میں واپسی؛ وزیرخزانہ نے قرضوں کا دباؤ کم کرنے کی  حکمت عملی بتادی

معاشی استحکام کے لیے مہنگائی، زرمبادلہ ذخائر اور شرح پالیسی کو مناسب سطح پر رکھنا ضروری ہے، محمد اورنگزیب


ویب ڈیسک October 12, 2026

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی عالمی  منڈیوں میں واپسی اور ملک پر قرضوں کا دباؤ کم کرنے سے متعلق حکومتی حکمت عملی واضح بیان کردی۔

بنکاک میں غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی درمیانی مدت کی قرض حکمت عملی کا بنیادی مقصد عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بڑھانا اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے مہنگائی، زرمبادلہ ذخائر اور شرح پالیسی کو مناسب سطح پر رکھنا ضروری ہے۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں 75 کروڑ ڈالر کے بانڈز نجی طور پر جاری کیے، جبکہ کریڈٹ انہانسمنٹ کے ذریعے چین کی پانڈا بانڈ مارکیٹ تک بھی کامیاب رسائی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی اور گہری بانڈ مارکیٹ ہے، اس لیے وہاں پانڈا بانڈز کا اجرا پاکستان کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تقریباً 3 ہفتے قبل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے پیش کردہ حجم سے دو گنا طلب موصول ہوئی۔ اس اجرا میں ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 4 سال کے وقفے کے بعد عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے۔

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ پاکستان رواں مالی سال عالمی سرمایہ منڈیوں سے قرض لینے میں جلد بازی نہیں کرے گا، کیونکہ بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے فی الحال وہاں سے قرض لینا لازمی نہیں۔ بانڈز کے اجرا کا وقت اور حجم قیمت، قرض کی میعاد اور عالمی منڈیوں کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کی درمیانی مدت کی حکمت عملی کے تحت اسلامی سکوک جاری کرنے کے لیے مینڈیٹس دیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پہلی مرتبہ ایسے بانڈز کے اجرا کے لیے بھی مینڈیٹس دیے گئے ہیں جن کی مالیت روپے میں ہوگی، لیکن ادائیگی ڈالر میں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار ان بانڈز میں دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈ پروگرام کے تحت مزید بانڈز جاری کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ پاکستان اب تک 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کرچکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت پہلی مرتبہ اپنے موجودہ یورو بانڈز کی ڈیجیٹل ٹوکنائزیشن کے امکانات کا بھی جائزہ لے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اگلے 2 سے 3 سال میں بعض مختصر مدت کے بیرونی قرضوں کو طویل میعاد کے قرضوں میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس اقدام سے قرضوں کی بار بار تجدید اور ادائیگی کے دباؤ میں کمی آئے گی۔ مختصر مدت کے قرضوں کی مسلسل ادائیگی اور دوبارہ قرض لینے کی ضرورت ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کے لیے بھی سازگار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مجموعی بیرونی قرضوں کی سطح برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اس قرض حکمت عملی میں موجودہ قرضوں کی ری فنانسنگ، مالیاتی ذرائع میں تنوع اور قرضوں کی میعاد بڑھانا شامل ہے۔ محمد اورنگزیب نے قرضوں کے پائیدار انتظام کے لیے عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بڑھانے کو ضروری قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف پروگرام اور مالی معاونت کے دوران تعاون پر دوطرفہ شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل سے اب تک پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں 3 مرتبہ بہتری آئی ہے اور اب ملک کی ریٹنگ بی کیٹیگری میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 40 سال کے دوران پاکستان کی بہترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی پلس رہی ہے۔ موجودہ پیش رفت برقرار رہی تو اگلے مالی سال کے آغاز تک یہ درجہ حاصل ہوسکتا ہے۔ پاکستان کا ہدف خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری لاتے ہوئے ڈبل بی کیٹیگری میں داخل ہونا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ  بیرونی قرضوں کی پائیداری اور ادائیگیوں کے لیے مناسب میعاد مقرر کرنا اس مقصد کے حصول میں مدد دے سکتا ہے۔ حکومت عالمی سرمایہ منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے مختلف مالیاتی ذرائع استعمال کرنے پر بھی کام کررہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی سوچ امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہورہی ہے۔ امریکہ کے تجارتی نمائندے کے دفتر کے ساتھ ٹیرف مذاکرات اور فریم ورک معاہدے کے لیے فعال بات چیت جاری ہے۔ پاکستان دوطرفہ معاشی روابط کو تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے ساتھ پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر بات چیت ہورہی ہے۔ ان مذاکرات میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ امریکی حکام کے ساتھ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ سے ممکنہ تعاون سمیت مختلف امور پر بھی گفتگو جاری ہے، تاہم تاحال کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ سے تعاون ملے یا نہ ملے، پاکستان عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ امریکی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جبکہ واشنگٹن کے گزشتہ دورے میں وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے تعمیری بات چیت ہوئی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان امریکا کی جانب سے ملنے والے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری روابط سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ حکومت امریکا کے ساتھ اقتصادی تعاون کے مختلف امکانات پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ کیا جاسکے۔

وزیر خزانہ نے پاکستانی روپے کے استحکام کو مجموعی معاشی استحکام کا عکاس قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر چند ہفتے قبل 21.4 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گئے تھے اور اب یہ تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔ اس کے برعکس 3 سال قبل ملکی ذخائر صرف 2 ہفتوں کی درآمدات پوری کرنے کے لیے کافی تھے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بنیادی طور پر قرض لینے کے بجائے مارکیٹ سے زرمبادلہ خریدنے کے ذریعے ہوا ہے۔ ذخائر کی مقدار کے ساتھ ان کا معیار بھی روپے کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح پالیسی اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار میں ہیں، تاہم توقع ہے کہ روپیہ آئندہ بھی مستحکم رہے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق 3 سال قبل پاکستان کی معاشی شرح نمو منفی 0.3 فیصد تک گر گئی تھی، تاہم اس سے اگلے سال یہ بڑھ کر 2.6 فیصد ہوگئی۔ پاکستان نے گزشتہ مالی سال 3.7 فیصد شرح نمو حاصل کی، جبکہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ حکومت معاشی اشاریوں کی مسلسل نگرانی کررہی ہے۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے مہنگائی اور معاشی نمو پر اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے۔ گزشتہ مالی سال بھی اس تنازع کے باعث پاکستان کی معاشی ترقی متاثر ہوئی تھی۔ وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک علاقائی کشیدگی کے اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مہنگائی اور معاشی نمو سے متعلق ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال جولائی سے ستمبر کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان نے ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل کیے ہیں۔ ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اب دہرے ہندسے میں داخل ہوچکا ہے۔ حکومت ٹیکس وصولیوں اور معاشی سرگرمیوں سے متعلق اعدادوشمار پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ مالیاتی اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد پاکستان نے توانائی کی خریداری اور درآمدات کے انتظامات مؤثر انداز میں کیے ہیں۔ مارچ میں تنازع کے آغاز سے اب تک ملک کو ایندھن کی قلت، پیٹرول پمپس پر قطاروں یا امن و امان کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ حکومت توانائی کی مسلسل فراہمی کے لیے انتظامات کررہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق اکتوبر کے لیے خام تیل اور گیس کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات موجود ہیں، جبکہ حکومت نومبر کے لیے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خریداری کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع طویل ہوتا ہے تو توانائی کی خریداری اور دستیاب وسائل کی تقسیم سے متعلق حکومتی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا پڑسکتا ہے۔

محمد اورنگزیب نے توانائی کے تحفظ کے ساتھ غذائی تحفظ کو بھی پاکستان کے لیے یکساں اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوریا اور ڈی اے پی کھاد کے موجودہ ذخائر اور مقامی پیداواری صلاحیت کے باعث پاکستان غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ حکومت علاقائی تنازع کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات اور وسائل کی دستیابی پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کمزور طبقات کو ہدفی سبسڈیز فراہم کی گئی ہیں۔ حکومت مہنگائی اور معاشی نمو کے اعدادوشمار پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ حالات کے مطابق اقدامات کیے جاسکیں۔ توانائی اور غذائی تحفظ کے معاملات بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات اور ایرانی قیادت کے ساتھ اعتماد نے اسلام آباد میں مفاہمت کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔ حکومت معاشی استحکام کے ساتھ عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی، تجارتی تعاون، سرمایہ کاری اور بیرونی قرضوں کے بہتر انتظام کے لیے اپنی درمیانی مدت کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔