سعودی عرب 83 ارب ڈالر کے فوجی بجٹ کے باوجود حوثی حملوں کو روکنے میں ناکام کیوں؟

سعودی عرب دنیا میں زیادہ سے زیادہ فوجی اخراجات کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے


ویب ڈیسک October 12, 2026
حوثیوں کے سعودی عرب کے ایئرپورٹس پر حملوں میں پائلٹ سمیت 12 افراد جاں بحق ہوگئے؛ (فوٹو: فائل)

سعودی عرب کے 83 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ اور جدید ترین ہتھیاروں کے باوجود حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے مملکت کے فضائی دفاع کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے 2025 میں اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 6.5 فیصد دفاع پر خرچ کیا جس کے باعث وہ دنیا میں فوجی اخراجات کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے پاس امریکی ایف-15 طیارے، یورپی ٹائفون لڑاکا طیارے اور پیٹریاٹ و تھاڈ میزائل دفاعی نظام موجود ہیں تاہم جدید ہتھیاروں کی بڑی تعداد بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہے۔

دوسری جانب حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ وہ مختلف رفتار کے میزائلوں اور ڈرونز کو بیک وقت استعمال کرکے فضائی دفاعی نظام کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کے بعض ہتھیار اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت بھی دکھا چکے ہیں۔

کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے سیکیورٹی تجزیہ کار تھامس جونیو نے بتایا کہ سعودی عرب کا تقریباً 22 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا رقبہ ہر اہم مقام کا مسلسل دفاع مشکل بنا دیتا ہے۔ ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات، فوجی اڈوں اور مقدس شہروں کو بیک وقت محفوظ رکھنا آسان نہیں۔

ماہرین کے مطابق مسلسل حملوں سے دفاعی میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ حوثیوں کو ہر حملے میں کامیابی حاصل کرنا ضروری نہیں؛ کسی اہم تنصیب کو نشانہ بنانا بھی معاشی نقصان اور خوف پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔

ریاض کے ہوائی اڈے اور دیگر اہم تنصیبات پر حملوں سے سعودی عرب کے سیاحتی و کاروباری مرکز بننے کے منصوبے، وژن 2030، کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرتی جنگ نے مملکت کے لیے حوثیوں کے خلاف تنازع سے نکلنے کی کوشش مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا البتہ حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے اکثر حملوں کو ناکام بنایا ہے اور یہ حملے معمولی نوعیت ہیں جن سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

واضح رہے کہ حوثیوں نے باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کی اور اب سعودی عرب میں آئل تنصیبات اور ایئرپورٹس کو بھی نشانہ بنارہے ہیں جس میں پائلٹ سمیت 12 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔