بیرونِ ملک جاکر پیسہ کمانے کے لیے پاکستان میں دو ادوار نہایت نمایاں ہیں، ایک تو موجودہ دور ہے، جبکہ ایک ماضی کا دور تھا جب ’’دبئی چلو‘‘ جیسا رجحان پیدا ہوا۔ اس دور میں ایک ان پڑھ شخص بھی دبئی جاکر کمانے کا سوچنے لگا۔ 1970 کی دہائی میں یہ رجحان اتنا بڑا تھا کہ باقاعدہ اس پر 1979ء میں ایک فلم بھی بنائی گئی، جو بہت مقبول ہوئی۔ اس فلم کا نام تھا ’’دبئی چلو‘‘(ان دونوں ادوار کا ایک مثبت پہلو تو معاشی خوشحالی میں نظر آتا ہے، مگر ایک چھپا ہوا تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ سماجی مسائل کا سبب بھی بنا۔
زیرِ نظر کالم میں راقم الحروف نے اس چھپے ہوئے سماجی مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
’’دبئی چلو‘‘ کے زمانے میں بڑی تعداد میں لوگ سمندر پار کمانے کے لیے گئے، ایسے لوگوں کی بہت ساری کہانیاں منظر عام پر آئیں کہ جن سے اس ضمن میں معاشرے پر پڑنے والے منفی اثرات کی ایک جھلک ملتی ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی آج کل سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔
کہانی کے مطابق محمد جاوید لاہور کے رہنے والے فریج اور اے سی کی مرمت کا ہنر جانتے تھے۔ روزگار کی تلاش میں کویت گئے اور تقریباً دس سال وہاں محنت کی۔ جو کچھ کماتے، اپنے معمولی اخراجات نکال کر باقی رقم گھر بھیج دیتے۔ ان کی خواہش تھی کہ بیوی بچوں کو وہ تمام سہولتیں میسر ہوں جو انھیں اپنی زندگی میں نہیں مل سکیں۔
گھر میں پیسہ آیا تو حالات بدل گئے۔ کوٹھی نما گھر بنا، گاڑی آئی اور گھر کی ضرورت کی تقریباً ہر چیز مہیا ہوگئی، لیکن محمد جاوید کی بیوی کی خواہشات بڑھتی چلی گئیں۔ اس کا اصرار تھا کہ واپس آنے کی ضرورت نہیں، وہیں رہیں اور کماتے رہیں۔ کویت سے واپس آکر محمد جاوید نے لاہور میں اپنی دکان شروع کی، مگر کاروبار نہ چل سکا۔ ایک دو سال بعد وہ دوبارہ سعودی عرب چلے گئے۔ تقریباً بیس بائیس سال وہ سعودی عرب میں محنت کرتے رہے۔ دولت تو بڑھتی رہی، مگر فاصلے بھی بڑھتے گئے۔ بچوں کی پرورش ماں کے زیر سایہ ہوئی، لہٰذا ان کی سوچ بھی اسی ماحول میں پروان چڑھی۔
محمد جاوید کو رفتہ رفتہ یہ احساس ہونے لگا کہ گھر میں ان کی حیثیت باپ یا شوہر سے زیادہ ایک کمائی کرنے والی مشین کی بن چکی ہے۔ پھر انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب باقی عمر بیوی بچوں کے ساتھ گزارنی چاہیے۔ مگر بیوی نے صاف کہہ دیا کہ گھر واپس آنے کی ضرورت نہیں، اگر آنا ہی ہے تو اپنے رہنے کا بندوبست خود کریں، گھر کے دروازے ان کے لیے بند ہیں۔
آخرکار ایک دن محمد جاوید لاہور ایئرپورٹ پہنچے۔ بیوی، بیٹا اور بیٹی میں سے کوئی انھیں لینے نہ آیا۔ ایک بھتیجا آیا اور انھیں اپنے گھر لے گیا، کیونکہ گھر والوں نے محمد جاوید کو گھر لانے سے بھی انکار کردیا تھا۔ چند لاکھ روپے ان کے پاس موجود تھے۔ انھوں نے ایک اولڈ ہوم سے رابطہ کیا اور کہا، ’’بیمار ضرور ہوں، مگر بیکار نہیں۔ مجھے رہنے کے لیے چھت اور دو وقت کی روٹی دے دیں، میں آپ کے کام آؤں گا۔‘‘ یوں وہ اولڈ ہوم میں ہی زندگی گزارنے لگے۔
ملک سے باہر جانے کا دوسرا دور موجودہ دور ہے، جس میں نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ملک سے باہر جا رہی ہے، جن کا ایک ہی مقصد ہے کہ باہر جاکر تعلیم بھی حاصل کریں اور ملازمت بھی حاصل کریں، نیز وہیں اپنا مستقبل بنائیں۔ چنانچہ اس وقت تاریخ کی ایک بہت بڑی ہجرت پاکستان سے ہو رہی ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 2025ء میں ستمبر تک 524,716 پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہوئے۔
اس حوالے سے بھی ایک کہانی ہے جو یہاں پیش کی جا رہی ہے۔ یہ کہانی بھی بہت سے گھرانوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کی صورت حال بیان کرتی ہے، یعنی اس مرتبہ بھی ایک معاشرتی مسئلہ جنم لے چکا ہے۔
جنید کے والدین نے اپنے اکلوتے بیٹے کو تعلیم کے لیے تمام سہولیات فراہم کیں۔ جب اس نے انٹر کر لیا تو انھوں نے اسے پاکستان سے باہر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہ وہاں سے اچھی ڈگری حاصل کرے، بہتر مستقبل بنائے اور ملازمت کرکے گھر کے اخراجات میں بھی کچھ حصہ ڈال سکے۔ جنید بیرون ملک نہیں جانا چاہتا تھا، لیکن اس کے والدین نے اسے سمجھایا کہ بہتر مستقبل کے لیے اسے باہر جانا چاہیے۔ چنانچہ وہ جرمنی پہنچ گیا اور وہاں تعلیم شروع کردی۔
وہاں جاکر اسے معلوم ہوا کہ پاکستان سے آنے والے دیگر طلبہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ اخراجات پورے کرنے کے لیے شام کے وقت پٹرول پمپس یا ریستورانوں وغیرہ میں کام بھی کرتے ہیں۔ اسے بھی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑی۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر وہ پریشان ہوا۔ والدین نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔ ’’بیٹا! زندگی میں کچھ حاصل کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ تم بھی محنت کرو۔‘‘
وقت گزرتا گیا اور اس نے جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلی۔ اس کے بعد والدین نے اسے مشورہ دیا کہ وہیں ملازمت کرلو، کیونکہ پاکستان میں شاید تمہیں اتنی اچھی آمدنی والی ملازمت نہ مل سکے۔ چنانچہ اس نے وہیں ملازمت شروع کردی۔ اسی دوران والدین نے پاکستان میں اس کا رشتہ طے کردیا اور اسے شادی کے لیے پاکستان بلایا۔ وہ پاکستان آیا، اس کی شادی ہوگئی اور شادی کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ دوبارہ بیرون ملک چلا گیا۔ اس کے والدین بھی یہی چاہتے تھے۔
لڑکے اور لڑکی، دونوں کے گھر والے اس بات پر خوش تھے کہ ان کی اولادیں بیرونِ ملک رہیں گی اور ان کا اچھا مستقبل ہوگا،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ والدین کو تنہائی محسوس ہونے لگی۔ لڑکے کے والدین بیمار رہنے لگے اور انھوں نے بیٹے سے کہا کہ اب وہ پاکستان واپس آ جائے، انھیں اس کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مگر بیٹا اور اس کی بیوی واپس آنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اب ہم پاکستان میں کیسے رہیں؟ ہمیں تو یہاں کی زندگی کی عادت ہوچکی ہے۔ پاکستان کا ہنگامہ خیز ٹریفک، لاقانونیت اور مجموعی ماحول ہمارے لیے مشکل ہے۔ ہمارے بچے بھی اب اسی ماحول کے عادی ہوچکے ہیں۔ ہم پاکستان واپس نہیں آسکتے۔‘‘
اس دوران انھوں نے والدین کو خرچ بھیجنا بھی کم کردیا۔ بیٹے کا کہنا تھا کہ بیرون ملک زندگی گزارنے کے لیے صرف اسے ہی نہیں بلکہ اس کی اہلیہ کو بھی ملازمت کرنا پڑتی ہے اور وہ ایک ہوٹل میں ویٹر کا کام کرتی ہے۔ دونوں بڑی مشکل سے اپنے معیار زندگی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یوں والدین اپنے بیٹے کی راہ دیکھتے رہے، مگر وہ واپس نہ آیا۔ پھر ایک دن جنید کے والد کا انتقال ہوگیا۔ جنید کو پاکستان آنے کے لیے چھٹیاں ملنے میں کافی وقت لگا، چنانچہ اس کے پاکستان پہنچنے تک والد کی تدفین ہوچکی تھی۔ اب والدہ تنہا رہ گئیں تھیں، مگر جنید والدہ کو یہ کہہ کر واپس آگیا کہ اب اس کی چھٹیاں ختم ہورہی ہیں، لہٰذا مزید نہیں رک سکتا۔
جنید والدہ سے بہت محبت کرتا تھا، مگر مجبوری یہ تھی کہ وہ اپنی بزرگ ماں کو نہ اپنے ساتھ لے جا سکتا تھا اور نہ ہی واپس پاکستان آسکتا تھا۔ یوں جنید چلا گیا اور اس کی ماں گھر میں اکیلی رہ گئی، جو اکثر بیمار رہتی تھیں۔ اب تنہائی ان کے لیے سب سے بڑی بیماری بن گئی تھی، کیونکہ اب کوئی محلے والا بھی ان کے گھر بمشکل ہی آتا تھا۔
جنید کی کہانی صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، ایسی اور اس جیسی ملتی جلتی بہت سی کہانیاں ہمارے معاشرے میں جنم لے چکی ہیں اور بقول ہمارے ایک بینکر دوست کے، ہر ہفتے وہ باہر جانے والے درجنوں نوجوانوں کے کیس پروسس کرتے ہیں۔ گویا جنید کے گھر جیسی نہ جانے کتنی کہانیاں روز جنم لے رہی ہیں۔ خوشحالی کی یہ قیمت کیسی ہے؟ خوشحالی کی خواہش میں ہجرت سے ہجر تک کا یہ سفر کیسا ہے؟ آئیے غور کریں۔