ملتان:
ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس خوفناک حادثے کا شکار ہوگئی، پوری ٹرین پٹڑی سے اتر گئی جبکہ چند کوچز الٹ گئیں جس کے نتیجے میں 5 مسافر جاں بحق اور 12 سے زائد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق حادثہ صبح تقریباً سوا 5 بجے پیش آیا جس کے بعد امدادی اداروں نے فوری کارروائیاں شروع کر دیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو نشتر اسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
حادثے کے بعد ٹرین میں سوار مسافر اپنا سامان لے کر پٹڑیوں کے کنارے بیٹھے دکھائی دیے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹرین کراچی سے پشاور جارہی تھی کہ شیر شاہ پل کے قریب پٹڑی سے اتر گئی۔
بعض ذرائع نے حادثے کے وقت ٹرین کی رفتار تیز ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حادثے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
ایک مسافر کے مطابق روہڑی کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کی بوگی نمبر 9 کے نٹ بولٹ درست کیے گئے تھے۔ اس بیان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کا حادثے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے ٹرین حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے زخمی ہونے والے مسافروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
محمد حنیف عباسی نے کہا کہ جاں بحق اور زخمی مسافروں کو ریلوے انشورنس پالیسی کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی حادثے کی جگہ کا جائزہ لینے کے لیے روانہ ہوگئے۔ محمد حنیف عباسی حادثے کی جگہ پہنچ کر صورتحال اور امدادی کارروائیوں کا خود جائزہ لیں گے۔
فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کو ٹرین حادثے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ ٹرین آپریشن بذریعہ لودھراں، جہانیاں مکمل طور پر بحال ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرین حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
حادثے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ بوگیوں کے پٹری سے اترنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہے۔