لاہور ہائیکورٹ میں چھ جعلی رجسٹریاں کرنے پر مقدمہ کے معاملے میں جھنگ کے رجسٹری محرر کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سب رجسٹرار محبوب اور؟محرر تاج محمد کی درخواست ضمانتوں پر سماعت کی عدالت نے درخواست پر سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے ڈی جی سے کیسوں کی انکوائریز اور تفتیش کی بابت ڈیپوٹیشن پالیسی کا میکنزم طلب کر لیا، عدالت نے ڈی جی سے قانون میں ممکنہ ترامیم کی بابت رپورٹ طلب کر لی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اپ کی انکوائریز اور تفتیش کی وجہ سے کیسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، ڈی جی سہیل ظفر چٹھہ نے مؤقف اپنایا کہ اینٹی کرپشن کے دس ریجن ہیں، ہر ریجن میں لیگل ونگ موجود ہے، ہمیں کیسوں کی انکوائری اور تفتیش میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈی جی اینٹی کرپشن نے کہا کہ انکوائری سے قبل معاملہ کی چھان بین کا سلسلہ ختم کر دیا، تفتیشی افسران مرضی سے کیسوں کی چھین بین کرتے تھے، مجھے تاریخ خا علم نہین کب اینٹی کرپشن کا طریقہ کار تبدیل کیا، اس وجہ سے زیر التوا مقدمات کی انکوائری میں اضافہ ہوگیا، 60 ہزار شکایت موصول ہوئیں ۔
2024 میں 16 ہزار 6 سو سے زائد کمپلینٹ کو نمٹا دیا، ڈی جی نے کہا کہ 9 ہزار 5 سو سے زائد انکوائری نمٹا دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے، ڈی جی نے کہا کہ تفتیش ضابطہ فوجداری قانون کے مطابق کی جاتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اپ کی تفتیش کا میکنزم کیا ہے، حتمی فیصلہ عدالت کرتی ہے، ڈی جی نے جواب دیاکہ ہم نے انوسٹی گیشن بورڈ بنایا، کیا اپ نے اس بارے حکومت کو لکھا اور اجازت لی۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ اپ کے تفتشی کتنی انکوائری کر سکتے ہیں، ڈی جی نے جواب دیا کہ ہم قانون میں ترامیم کے کئے اج ہی حکومت خو لکھ دیں گے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اپ ایک کیس کی کتنی بار تفتیش کر سکتے ہیں، ڈی جی نے کہا کہدو بار تفتیش تبدیل کرسکتے ہیں، اس بابت حکومت کو لکھ کر اجازت لے لی جاے گی، ہماری تفتیش چار ماہ میں مکمل کرنا ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ دوسری انکوائری کتنئ دیر میں مکمل ہونا چاہئے، ڈی جی نے جواب دیا کہ اسکے لئے 15 روز چاہیے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے لیگل ونگ میں کتنے افسران ہیں، ڈی جی نے جواب دیا کہ میں نے اتے ہی لیگل افسران کو انکوائری کرنے سے روک دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے محکمہ میں ڈیپوٹیشن کا طریقہ کار کیا ہے، ڈی جی نے کہا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے لئے 5 سالہ تجربہ یونا ضروری ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پراسیکیوٹرز کو بھی ڈیپوٹیشن پر لے سکتے ہیں، پراسیکیوٹر قانون کا علم رکھنے کی وجہ سے اپکو بہتر معاونت کر سکتا ہے، اپ قانون میں ترامیم کے لئے کیا میکنزم بنائیں گے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جھنگ میں چھ جعلی رجسٹریاں درج کرنے کا مقدمہ درج کیا، انٹی کرپشن نے انکوائری کے بعد ایف آئی آر 2020 کی، درخواست گزار اس دوران ڈیوٹی سرانجام دیتا رہا، اب اس کیس میں آنٹی کرپشن نے درخواست گزار کو ملوث کردیا، درخواست گزار کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، عدالت درخواست گزار کی عبوری ضمانت کنفرم کرے۔