ٹرمپ جنگ بندی منصوبہ؛ یوکرین نے حملے روک دیے، روس باز نہ آیا

ٹرمپ کی جنگ بندی اپیل پر یوکرین نے روسی ریفائنریوں پر حملے نہیں کیے مگر روس نے یوکرین کے 19 علاقوں کو نشانہ بنایا


ویب ڈیسک October 13, 2026

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی اپیل کے بعد یوکرین نے دو روز کے لیے روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے روک دیے لیکن روس نے جواب میں یوکرین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ ان دو دنوں کے دوران روس نے یوکرین کی توانائی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جبکہ ملک کے 19 علاقے حملوں کی زد میں آئے۔

یوکرینی صدر نے روسی حملوں میں شہری ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خارکیف میں ایک رہائشی عمارت تباہ ہوگئی جس کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں رات بھر جاری رہیں۔ حملے میں 4 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوئے۔

یوکرینی صدر نے کیف میں بیلسٹک میزائل حملے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 5 میزائلوں نے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا لیکن اس حملے سے قبل یوکرین کو اپنے شراکت داروں کی جانب سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملی۔

وولودیمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ روس نے رات کے حملوں میں جیٹ انجن والے ڈرونز، خودکار حملہ آور ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سمیت مختلف اقسام کے 100 سے زیادہ ہتھیار استعمال کیے۔

انھوں نے باور کرایا کہ یوکرین کشیدگی کم کرنے کے لیے باہمی اقدامات پر تیار ہے تاہم روس پر مؤثر عالمی دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ جنگ اسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب حملہ آور کو یہ احساس ہو کہ وہ جنگ کو مزید طول نہیں دے سکتا۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکا، یورپ اور دیگر اتحادیوں سے یوکرین کے دفاع اور شہریوں کو میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تعاون جاری رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔