اسلام آباد:
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات ایک ڈھونگ تھا، حکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی کا پہلے سے طے کیا ہوا تھا، ہم عمران خان سے ملاقات سے بھی پیچھے ہٹ گئے مگر آپ لوگ کسی بات پر پیچھے نہیں ہٹے۔
سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ایسی ترامیم جو آئین کی روح کے خلاف ہیں وہ غلط ہیں، اس ڈاکیومنٹ کے ساتھ کھیلا جاتا ہے جو ہماری فیڈریشن کی وحدت کی روح ہے، اقتدار اللہ کی جانب سے ایک امانت ہے، اللہ نے ہمیں حق دیاہے کہ اپنے نمائندے منتخب کریں، آئین پاکستان کہتا ہے ہم اللہ اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، فروری 2024ء سے جو کچھ ہورہا ہے عوام اس سے خوش نہیں، 12 اکتوبر کو ایک طالع آزما نے دوتہائی اکثریت کو اٹھاکر باہر پھینکا، منتخب وزیراعظم کو ایک آمرنے جیل میں پھینکا اور پھانسی دی، کوئی نکلا باہر؟ ایسے کام نہ کریں جس سے عوام لاتعلق ہوجائیں۔
انہوں ںے کہا کہ عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈال ڈال کر مایوس نہ کیا جائے، کیا خیبرپختونخوا میں اتنے حالات خراب ہوگئے تھے کہ منتخب حکومت کو پھینکا جائے؟ مذاکرات میں، میں بھی موجود تھا سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ہوچکا تھا، مسئلہ اس وقت ہوا جب سیکیورٹی کے مسائل پر بات ہوئی، سیاسی مسائل کو آپ نے امن و امان کے ساتھ نتھی کردیا۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی جارہی، ایک قیدی سے ملاقات نہیں کروا رہے جوایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہے، ہم عمران خان سے اس لیے ملنا چاہتے ہیں دنیا کے موجودہ حالات میں ان سے رہنمائی حاصل کریں، ہم نے اس رات یہ بھی مان لیا تھا کہ ہماری ملاقات نہ کراؤ اور آگے بڑھو، مگر ہمیں اندازہ ہے فیصلہ ہوچکا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ گورنر کو زیبا ہے کہ وہ کہے بلوں سے باہر نکلو اس طرح اسلحہ اٹھانے والے بڑھ جائیں گے، خیبرپختونخوا کے جوانوں کو آپ نے اس ایکشن سے کیا پیغام دیا ہے؟ آپ نے ثابت کردیا نوجوانوں کو بتادیں کہ سیاسی جدوجہد،عدلیہ کوئی معنی نہیں رکھتی، آپ پہلے دن سے کہہ رہے تھے دہشت گرد آرہے ہیں آپ کے اس عمل سے دہشت گردی و بدامنی بڑھے گی پھر کہیں گے خدانخواستہ منظور پشتین اور ٹی ٹی پی ٹھیک ہے۔
انہوں ںے کہا کہ پرویز مشرف ایک آمر تھا وہ اختلاف برداشت کرلیتا تھا آپ جمہوری ہو کر برداشت نہیں کرسکتے؟ آپ تحریک انصاف کے کے ایم این ایز، ایم پی ایز کو اٹھارہے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات ایک ڈھونگ تھا، آپ نے سب کچھ پہلے سے طے کیا ہوا تھا، ہم عمران خان سے ملاقات کے مطالبے سے بھی پیچھے ہٹ گئے تھے لیکن آپ کسی بات پر پیچھے نہیں ہٹے، ہم اس بات پر متفق تھے کہ سہیل آفریدی اور ہم ساتھ ہوں گے، غلطی کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے،گورنر راج کو ختم کریں، اس طرح سے امن قائم نہیں ہوسکتا، اس کا نقصان پاکستان کو ہوگا۔
سینیٹر علی ظفر
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ محسن نقوی کو بتانا چاہتا ہوں کس طرح آئین کا شکار کیا گیا ہے، حکومت نے وزیراعلی، اسپیکر اور دیگر وزراء کو گرفتار کرلیا ہے یہ آئین شکنی ہے، ہم دہشت گردی کو شکست دینے کے معاملے پر سب اکٹھے ہیں، لیکن دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑتے لڑتے آئین کو ردی کی ٹوکر میں نہ پھینک دیں، کون سا قانون آپ کو اجازت دیتا ہے کہ دہشت گردی کی مد میں آپ ایک صوبے پر قبضہ کرلیں، آئین کی کون سی شق کہتی ہے کہ دہشت گردی کی مد میں ایک صوبائی حکومت کو ہٹا دیں، آئین اجازت نہیں دیتا گورنر راج یا ایمرجنسی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کریں اگر بیرونی حملہ ہو تو ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، آئین کہتا ہے اندرونی خلفشار ہو تو صوبائی اسمبلی قرارداد پاس کرے تو ایمرجنسی لگ سکتی ہے، آرٹیکل 232 اور 234 حکومت اپنی من مانی سے نہیں لگا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جب کہتی ہے صوبائی حکومت دہشت گرد ہے یا ان کی سہولت کار ہے تو اس کے ثبوت ایوان میں بھیجیں، ان سے کہیں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی سمری ایوان میں پیش کی جائے، محسن نقوی نے مذاکرات کے بارے میں جو بات کی وہ حقیقت سے متصادم ہے، خان صاحب سے ملاقات نہیں ہوپارہی تھی، خیبرپختونخوا میں لوگ ان کی بات نہیں مان رہے تھے لگتا ہے مذاکرات کو پہلے سے ہی فیل کرنے کا ارادہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی لگانے کی بہت بڑی غلطی کردی ہے، کے پی کے میں حکومت چل رہی تھی، آئین کی کونسی شق میں لکھا ہے کہ آپ وزیراعلی کوہٹا کر کابینہ کو ختم کرسکتے ہیں آئین کی کونسی شق میں لکھا ہے آپ ایک وزیراعلی یا کابینہ کو جیل میں ڈال دیں آپ حکومت کو ہٹا سکتے ہیں لیکن تحریک کو ختم نہیں کرسکتے آپ عوام کی سوچ کو پابند نہیں کرسکتے آپ نہ صرف ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اس ملک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں آپ ریاست کو کمزور کررہے ہیں اس جنگ میں آئین اور جمہوریت کو ہارنے نہیں دیں گے حکومت کو درخواست کرتا ہوں اس عمل کو واپس کریں اور ہمارے ساتھ بیٹھیں۔
اس کے بعد اپوزیشن نے سینیٹ اجلاس میں احتجاج شروع کردیا۔