ایک پوسٹ آپ کی جان بچا سکتی ہے۔ ایک اور پوسٹ اسی اسکرین پرآپ کو موت کے راستے پر بھی لے جا سکتی ہے۔
کسی آفت کے وقت سوشل میڈیا بیک وقت زندگی بچانے والاابلاغی نظام بھی بن سکتا ہے اور بحران کو کئی گنا بڑھانے والا ذریعہ بھی۔ 26 اگست 2026 کو نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن مٹی، پتھروں ،ملبے کے تیز بہاؤ(debris flow)اور سیلاب کے بعد سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تصاویر، ویڈیوز اور عینی شاہدین کی اطلاعات تیزی سے پھیلیں۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزراحقائق کی جانچ کرنے والے اداروں اے ایف پی ،بی بی سی اور دیگر نے سوشل میڈیا پر موجود ایسے مواد کی بھی نشاندہی کی جس کا ایک حصہ پرانا تھا۔ کچھ غلط سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا گیا تھا اور کچھ مواد جعلی تھا۔ یعنی ایک حقیقی آفت کے ساتھ ایک دوسرا بحران بھی جنم لیتا دکھائی دیا۔ معلومات پر اعتماد کا بحران۔
یہ صورت حال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ آفت کے وقت سوشل میڈیا کب ایک جان بچانے ولا ابلاغی نظام بنتا ہے اور کب بحرآن کو بڑھانے والے multiplier crisis عنصر میں تبدیل ہوجاتا ہے؟۔یہ سوال انسانی جان، عوامی تحفظ، امدادی کارروائی، اداروں پر اعتماد اور بحران کے دوران فیصلہ سازی سے جڑا ہوا ہے۔ عام حالات میں معلومات اہم ہوتی ہیں لیکن آفت کے دوران معلومات خود ایک زندہ رہنے اور محفوظ رہنے کے لیے ضروری ذریعہ بن جاتی ہے۔
خطرہ کہاں ہے؟ کون سا علاقہ خالی کرنا ہے؟ کون سا راستہ محفوظ ہے؟ ریسکیو کہاں پہنچ چکا ہے؟ طبی امداد کہاں دستیاب ہے؟ شیلٹر کہاں قائم ہے؟ کسی لاپتا شخص کے بارے میں تازہ اطلاع کہاں سے مل سکتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب بعض اوقات گھنٹوں نہیں بلکہ چند منٹوں میں درکار ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس ضرورت کو پورا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک درست انتباہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ کسی متاثرہ شخص کی مدد کی درخواست دور بیٹھے لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ کسی محفوظ راستے یا بند سڑک کی اطلاع فوری طور پر شیئر کی جا سکتی ہے۔ کسی لاپتا شخص کی تصویر خاندان، رضاکاروں اور امدادی اداروں تک پہنچ سکتی ہے۔
لیکن سوشل میڈیا کی یہی رفتار، رسائی اور فوری رابطے کی صلاحیت اس کا دوسرا اور خطرناک رخ بھی سامنے لاتی ہے۔ جس رفتار سے ایک درست انتباہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔تقریباً اسی رفتار سے ایک غلط خبر، جعلی انتباہ ، پرانی ویڈیو یا گمراہ کن اطلاع بھی پھیل سکتی ہے۔ آفت کے دوران جب لوگ پہلے ہی خوف، بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہوتے ہیں۔
اس طرح کی معلومات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ ایک غلط اطلاع لوگوں کو محفوظ راستے کے بجائے خطرناک راستے پر لے جا سکتی ہے۔ کسی ایسے علاقے سے انخلا پر مجبور کرسکتی ہے جہاں فوری خطرہ موجود نہ ہو۔ یا اس کے برعکس حقیقی خطرے کو معمولی سمجھنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔ یوں سوشل میڈیا جو ایک طرف لوگوں کو بروقت معلومات فراہم کرکے جان بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ وہیں غلط اور غیر مصدقہ معلومات کے ذریعے خود بحران کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔
اس دوہرے کردار کو صرف کسی ایک واقعے یا کسی ایک ملک کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ قدرتی آفات اور غلط معلومات دونوں اب عالمی سطح پر نمایاں خطرات بن چکے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسکس رپورٹ 2025،جو گلوبل رسکس پرسیپشن سروے 25-2024 میں 900 سے زائد ماہرین، پالیسی سازوں اور کاروباری و سول سوسائٹی کے رہنماؤں کی آرا پر مبنی ہے۔
اس کے مطابق 2025 کے موجودہ عالمی خطرات میں شدید موسمی واقعات(weather events extreme) دوسرے اور غلط معلومات اور گمراہ کن معلومات چوتھے نمبر پر ہیں۔ لیکن اگلے دو برس یعنی 2027 کے منظرنامے میں "غلط معلومات اور گمراہ کن معلومات"پہلے اور"شدید موسمی واقعات"دوسرے نمبر پر ہوں گے۔ جبکہ 2035 کے دس سالہ منظرنامے میں"شدید موسمی واقعات"پہلے اور"غلط معلومات اور گمراہ کن معلومات"پانچویں نمبر پر ہوں گے۔
یہ درجہ بندیاں اس لیے اہم ہیں کہ ان سے دونوں خطرات کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ڈبلیو ای ایف خود 2025 کی رپورٹ میں نشاندہی کرتا ہے کہ"غلط اور گمراہ کن معلومات"دیگر بڑے خطرات جن میں"شدید موسمی واقعات"بھی شامل ہیںکے اثرات کو بڑھا سکتی ہیں۔ چنانچہ قدرتی آفت اور معلوماتی بحران کو مکمل طور پر الگ الگ مسائل سمجھنا اب کافی نہیں رہا۔ اگر ایک ہی ہنگامی صورت حال میں قدرتی خطرہ اور معلوماتی انتشار بیک وقت فعال ہوجائیں تو ایک بحران دوسرے کو بڑھا سکتا ہے اور یوںبحران کے اندر بحرانcrisis withen a crisisپیدا ہوسکتا ہے۔
اس باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی جھوٹی یا گمراہ کن معلومات ایک ہی شکل میں ظاہر نہیں ہوتیں۔ کبھی صارف انجانے میں غلط معلومات کو سچ سمجھ کر شیئر کرتا ہے۔ کبھی کسی خاص مقصد کے لیے جان بوجھ کر گمراہ کن بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی حقیقی معلومات کو اس کے اصل سیاق و سباق سے نکال کر ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے غلط تاثر پیدا ہو۔ اب مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تصاویر، ویڈیوز، آوازوں اور تحریروں کی صورت میں ایسا مواد تیار کیا جاسکتا ہے جو بظاہر حقیقی محسوس ہو۔ جبکہ اس کی حقیقت جانچنا آسان نہ ہو۔ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسکس رپورٹ 2025 میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور انسان کے تیار کردہ غلط یا گمراہ کن مواد میں فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق GenAI نے ایسے مواد کی تیاری اور تقسیم کی رکاوٹیں کم کردی ہیں۔ جبکہ یہ مواد ویڈیو، تصاویر، آواز اور متن سمیت مختلف شکلوں میں سامنے آسکتا ہے۔
غلط اور گمراہ کن معلومات کی مختلف صورتوں کو سمجھنے کے لیے ان کے درمیان
بنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی بانی و چیئرپرسن ، شعبہ ڈیجیٹل میڈیا ، اسکول آف کمیونیکیشن اسٹڈیز ، جامعہ پنجاب اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ " مس انفارمیشن ‘‘Misinformation’’ (غلط معلومات )ایسی معلومات جو حقیقت کے خلاف ہوں لیکن اکثر غیر ارادی طور پر پھیلائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص پرانی سیلابی ویڈیو کو یہ جانے بغیر کہ وہ کب اور کہاں بنائی گئی تھی موجودہ سیلاب کی ویڈیو سمجھ کر شیئر کر سکتا ہے۔
ڈس انفارمیشن‘‘ Disinformation ’’(گمراہ کن معلومات) وہ معلومات جو جان بوجھ کر جھوٹ یا دھوکہ دینے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔لوگوں کو دھوکہ دیا جاسکے، کسی خاص تاثر کو فروغ دیا جاسکے، یا کسی فرد، تنظیم یا ملک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ مال انفارمیشن‘‘ Malinformation’’ (نقصان دہ معلومات) وہ درست معلومات ہوتی ہیں جنہیں جان بوجھ کر اس طرح استعمال کیا جائے کہ کسی فرد، ادارے یا گروہ کو نقصان پہنچے یا بدنام کیا جائے۔ یہ معلومات اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر، مسخ کر کے یا اس انداز میں پیش کی جاتی ہیں کہ ایک گمراہ کن یا نقصان دہ تاثر پیدا ہو"۔
یہ مسئلہ اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے جب میدان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی آتی ہے۔ جدید اے آئی کی مدد سے کسی شخص کی آواز یا چہرہ اس طرح بدلا جا سکتا ہے کہ لگے جیسے کوئی سرکاری اہلکار، امدادی ادارہ یا مشہور شخصیت نے واقعی کوئی بیان دیا ہو۔
مثال کے طور پرکسی ڈیزاسٹر کے دوران کسی سرکاری اہلکار یا امدادی ادارے کی جعلی ویڈیو یا آڈیو عوام میں خوف، الجھن یا غلط فیصلوں کا باعث بن سکتی ہے۔اے آئی سے تیار کردہ مواد صرف ڈیپ فیک تک محدود نہیں۔ اس کے ذریعے جعلی تصاویر، ویڈیوز، آڈیوز، تحریری بیانات اور دیگر مواد بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایسا مواد حقیقی واقعات کے طور پر پیش کیا جائے اور لوگ بغیر تحقیق یا حقائق کی جانچ کیے اسے آگے پھیلانا شروع کر دیں۔
اسی اطلاعاتی ماحول environment information میں پروپگینڈا کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ کسی آفت کے دوران حکومت، ادارے، ملک یا گروہ کے حق یا مخالفت میں ایک طرفہ اور جذباتی بیانیہ مسلسل پھیل سکتا ہے جو عوامی تاثر کو متاثر کرے۔ تاہم ہر سخت تنقید یا مخالف رائے پروپیگنڈا نہیں ہوتی۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا معلومات کو جان بوجھ کر یکطرفہ، گمراہ کن یا جذباتی طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی رائے کو کسی خاص مقصد کے لیے متاثر کیا جاسکے۔ اسی طرح آفات کے دوران دھوکا دہی (scams)بھی ایک واضح اور سنگین خطرہ ہوتے ہیں۔ جعلی امدادی مہمات، جعلی عطیہ کے لنکس، جعلی تنظیمیں اور متاثرین کے نام پر مالی امداد کی اپیلیں سب لوگوں کی ہمدردی، خوف اور فوری مدد کی خواہش کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
یہاں سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی ایک اور بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے۔ قدرتی آفت کے بارے میں مواد تیار کرنے والے ہر شخص کا مقصد لازماً درست اور مستند معلومات فراہم کرنا نہیں ہوتا۔ موجودہ دور میں توجہ کے حصول کی معیشت (attention economy)میں ویوز، لائک، کمینٹس، شئیر اور فالورز خود ایک اہم کرنسی بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی جو ذرائع ابلاغ، سماجی رابطوں کے ذرائع، غلط معلومات اور عوامی آگاہی کے شعبوں میں تدریس و تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔اْن کا کہنا ہے کہ " ایسا مواد جو لوگوں کو چونکائے، خوف زدہ کرے، جذبات ابھارے یا فوری ردعمل پر مجبور کرے زیادہ engagement پیدا کرسکتا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات درست معلومات سے زیادہ سنسنی خیز معلومات کو ترجیح ملنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔
ایک dramatic video، shocking caption یا انتہائی پراعتماد دعویٰ اس لیے زیادہ پھیل سکتا ہے کہ وہ انسان کے جذبات کو متحرک کرتا ہے نہ کہ اس لیے کہ وہ درست ہے۔ اس ماحول میں لائکس اورشئیرز خود اس دعوے کے لیے مصنوعی اعتماد پیدا کرسکتے ہیں۔ حالانکہ ویوز یا شئیرزکسی معلومات کے درست ہونے کا ثبوت نہیں ہوتے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہوسکتا ہے جب توجہ حاصل کرنے کی خواہش، معلومات کی تصدیق کے بغیر اشاعت کے ساتھ سوشل میڈیا کے نظام کی طرف سے کسی مواد کو زیادہ لوگوں تک پہنچانا ( amplification algorithmic)بھی آپس میں مل جائے"۔
اس مسئلہ سے متعلق ایک اور پہلو آفات کے دوران سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ حتٰی کہ غیر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ماہرین کی طرح ڈیزاسٹرزکے مختلف پہلوؤں پر رائے اور پیش گوئیاں کرنا بھی ہے۔ ایسی غیر ماہرانہ مگر پْراعتماد رائے عوام کے لیے کس طرح نقصان دہ ہو سکتی ہے؟یہ سوال یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے اسکول آف گورننس اینڈ سوسائٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سینٹر فار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر احمد علی گل کے سامنے رکھا گیا تو اْن کا کہنا ہے کہ " آفات ایک ایسا موضوع ہے کہ ہر شخص کو موسمیات، پانی کے بہاؤ، زلزلوں کی سائنس، آفات کے خطرات درکار ہنگامی امداد کے شعبوں میں باقاعدہ مہارت حاصل نہیں ہوتی اس لیے درست رائے دینے کے لیے متعلقہ شعبے کی مہارت لازمی ہے۔صرف چند ویڈیوز، تصاویر یا سوشل مڈیا پوسٹس کی بنیاد پر آفت کی شدت، ممکنہ اثرات یا آئندہ صورتِ حال کے بارے میں، پْراعتماد رائے اور پش گوئی گمراہ کن ہو سکتی ہے۔
یہ ’’نیم حکیم‘‘ کے رویے کی مانند ہے جو غیر ضروری خوف، غلط سمت میں نقل مکانی یا حقیقی خطرے کو نظر انداز کرنے جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ آفات بڑے پیمانے پر تباہی لاتی ہیں، جو اکثر اپنے متاثرین کو مالی اور جسمانی طور پر مکمل بے بس اور متاثرکر دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ ان تباہ کاریوں کے مناظر (تصاویر اور ویڈیوز) کو استعمال کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز یا کلک بیٹ (bait click ) (گمراہ کن) سرخیاں لگاتے ہیںاور اکثر مزید سنسنی خیز مناظر یا تھمب نیلز (thumbnails)تخلیق کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا سہارا لیتے ہیں۔چونکہ خوف ہماری توجہ کو فوراً اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔اس لیے ایسی پوسٹیں خوف اور گھبراہٹ کو بیچ کر وائرل ہوتی ہیں۔ نتیجہ عوامی سطح پر مزید انتشار اور غلط فہمی کی صورت میں نکلتا ہے۔اسی لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ حفاظتی اقداماتخاص طور پر پیشگی تنبیہ (warnings early) اور متاثرہ علاقوں سے انخلاء (evacuations) کے لیے صرف سرکاری معلومات کے ذرائع جیسے کہ NDMA، PDMAs اور مقامی شہری انتظامیہ کے سوشل میڈیا پیجز، ایپس اور پریس ریلیزز پر ہی بھروسہ کیا جائے"۔
انٹرنیٹ کی طاقت سے مسلح سوشل میڈیا کی تیز ترین نفوذ پذیری نے جھوٹے مواد کو جس رفتار سے پھیلنے کا موقع دیا ہے۔اس کا ایک مضبوط تجرباتی ثبوت MIT کی معروف تحقیق میں بھی ملتا ہے۔Massachusetts Institute of Technology کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ '' فیک نیوز سچی خبر کی نسبت زیادہ تیز ی سے پھیلتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق سچی خبروں کو 1500 لوگوں تک پہنچنے میں چھ گنا زیادہ وقت لگا بانسبت جھوٹی خبروں کے۔ جبکہ جھوٹی خبروں کے دوبارہ ٹویٹ کئے جانے کا امکان سچی خبروں کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھا''۔ گلوبل مارکٹم اینڈ اوپنیئن ریسرچ اسپیشلسٹ (Ipsos) کی جانب سے تھنکو ٹنک سنٹر فار انٹرنشنل گورننس انوویشن (CIGI) کے لئے2019 میں کے گئے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جعلی خبریں ایک عالمی وباء ہیں اور اِن کا اثر وسیع ہے۔''دنیا کے 25 ممالک میں (جن میں پاکستان بھی شامل تھا)ہ 25,000 سے زیادہ انٹرویوز پر مشتمل سروے سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 86 فصد شہریوں کا خیال ہے کہ وہ جعلی خبروں کا شکار ہوئے۔ یعنی ہر پانچ میںا سے چار افراد۔ پاکستان کے بارے میںسروے کہ نتائج یہ بتاتے ہیں کہ 56 فیصد ہم وطنوں نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا سامنا کرنے کی تصدیق کی۔فیس بک پر فیک نیوز کا سامنا کرنے والے پاکستانی کا تناسب 61 فیصد تھا۔ جبکہ27 فیصد زیر جائزہ پاکستانیوں نے مین اسٹریم میڈیا سورسز پر فیک نیوز کے مشاہدے کے بارے میں بتایا''۔
پاکستان کے حوالے سے یہ تناظر اس لیے اہم ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ReportalDataکی ڈیجیٹل 2021:پاکستان ،نامی رپورٹ کے مطابق جنوری 2021 میں پاکستان میں 61.34 ملین انٹرنیٹ صارف تھے اور 46 ملین سوشل میڈیا صارف تھے۔
یعنی 27.5 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی جبکہ 20.6 فیصد سوشل میڈیا۔ چند برس بعد ملک کا یہ ڈیجیٹل انوائرمنٹ خاصا وسیع ہوچکا ہے۔اسی ادارے کی ڈیجیٹل 2026:پاکستان، نامی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 تک پاکستان میں 117 ملین انٹرنیٹ صارف تھے یعنی ملک کی 45.6 فیصد آبادی۔ اسی رپورٹ کے مطابق ملک میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 79.9 ملین تھی جو کل آبادی کے 31.2 فیصد کے برابر تھی۔قدرتی آفات کے تناظر میں یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اب صرف تفریح یا دوستوں سے رابطے کا ذریعہ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ خبروں، عوامی مباحث، موسمی صورتحال اور ہنگامی اطلاعات کے لیے بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس پلیٹ فارم کے ذریعے ایک درست پیشگی انتباہ) warning early ) لاکھوں افراد تک فوراً پہنچ سکتا ہے، اسی پلیٹ فارم کے ذریعے ایک غلط خبر، جعلی ویڈیو یا گمراہ کن اطلاع بھی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ یہ اطلاعاتی ماحول (environment information ) اس بات کو اور نمایاں کرتا ہے کہ بحران کے ابلاغ (crisis communication) میں صرف پہنچ (reach) کافی نہیں، بلکہ اعتماد (credibility) بھی لازمی ہے۔
پاکستان کی قدرتی آفات کے سامنے کمزوری اس ضرورت کو مزید واضح کرتی ہے۔ ورلڈ بینک کے کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل کے مطابق پاکستان 2020 کے انفارم رسک انڈیکس میں 191 ممالک میں مجموعی ڈیزاسٹر رسک کے لحاظ سے 18ویں نمبر پر تھا۔ ملک کو خاص طور پر سیلاب (flooding)، خشک سالی (drought)، ٹراپیکل سائیکلونز اور زلزلوں (earthquakes) جیسے خطرات کا سامنابنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی بانی و چیئرپرسن ، شعبہ ڈیجیٹل میڈیا ، اسکول آف کمیونیکیشن اسٹڈیز ، جامعہ پنجاب اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ " مس انفارمیشن ‘‘Misinformation’’ (غلط معلومات )ایسی معلومات جو حقیقت کے خلاف ہوں لیکن اکثر غیر ارادی طور پر پھیلائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص پرانی سیلابی ویڈیو کو یہ جانے بغیر کہ وہ کب اور کہاں بنائی گئی تھی موجودہ سیلاب کی ویڈیو سمجھ کر شیئر کر سکتا ہے۔
ڈس انفارمیشن‘‘ Disinformation ’’(گمراہ کن معلومات) وہ معلومات جو جان بوجھ کر جھوٹ یا دھوکہ دینے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے۔لوگوں کو دھوکہ دیا جاسکے، کسی خاص تاثر کو فروغ دیا جاسکے، یا کسی فرد، تنظیم یا ملک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ مال انفارمیشن‘‘ Malinformation’’ (نقصان دہ معلومات) وہ درست معلومات ہوتی ہیں جنہیں جان بوجھ کر اس طرح استعمال کیا جائے کہ کسی فرد، ادارے یا گروہ کو نقصان پہنچے یا بدنام کیا جائے۔ یہ معلومات اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر، مسخ کر کے یا اس انداز میں پیش کی جاتی ہیں کہ ایک گمراہ کن یا نقصان دہ تاثر پیدا ہو"۔
یہ مسئلہ اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے جب میدان میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی آتی ہے۔ جدید اے آئی کی مدد سے کسی شخص کی آواز یا چہرہ اس طرح بدلا جا سکتا ہے کہ لگے جیسے کوئی سرکاری اہلکار، امدادی ادارہ یا مشہور شخصیت نے واقعی کوئی بیان دیا ہو۔ مثال کے طور پرکسی ڈیزاسٹر کے دوران کسی سرکاری اہلکار یا امدادی ادارے کی جعلی ویڈیو یا آڈیو عوام میں خوف، الجھن یا غلط فیصلوں کا باعث بن سکتی ہے۔اے آئی سے تیار کردہ مواد صرف ڈیپ فیک تک محدود نہیں۔ اس کے ذریعے جعلی تصاویر، ویڈیوز، آڈیوز، تحریری بیانات اور دیگر مواد بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایسا مواد حقیقی واقعات کے طور پر پیش کیا جائے اور لوگ بغیر تحقیق یا حقائق کی جانچ کیے اسے آگے پھیلانا شروع کر دیں۔
اسی اطلاعاتی ماحول environment information میں پروپگینڈا کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ کسی آفت کے دوران حکومت، ادارے، ملک یا گروہ کے حق یا مخالفت میں ایک طرفہ اور جذباتی بیانیہ مسلسل پھیل سکتا ہے جو عوامی تاثر کو متاثر کرے۔ تاہم ہر سخت تنقید یا مخالف رائے پروپیگنڈا نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا معلومات کو جان بوجھ کر یکطرفہ، گمراہ کن یا جذباتی طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی رائے کو کسی خاص مقصد کے لیے متاثر کیا جاسکے۔
اسی طرح آفات کے دوران دھوکا دہی (scams)بھی ایک واضح اور سنگین خطرہ ہوتے ہیں۔ جعلی امدادی مہمات، جعلی عطیہ کے لنکس، جعلی تنظیمیں اور متاثرین کے نام پر مالی امداد کی اپیلیں سب لوگوں کی ہمدردی، خوف اور فوری مدد کی خواہش کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
یہاں سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی ایک اور بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے۔ قدرتی آفت کے بارے میں مواد تیار کرنے والے ہر شخص کا مقصد لازماً درست اور مستند معلومات فراہم کرنا نہیں ہوتا۔ موجودہ دور میں توجہ کے حصول کی معیشت (attention economy)میں ویوز، لائک، کمینٹس، شئیر اور فالورز خود ایک اہم کرنسی بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی جو ذرائع ابلاغ، سماجی رابطوں کے ذرائع، غلط معلومات اور عوامی آگاہی کے شعبوں میں تدریس و تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔اْن کا کہنا ہے کہ " ایسا مواد جو لوگوں کو چونکائے، خوف زدہ کرے، جذبات ابھارے یا فوری ردعمل پر مجبور کرے زیادہ engagement پیدا کرسکتا ہے۔
چنانچہ بعض اوقات درست معلومات سے زیادہ سنسنی خیز معلومات کو ترجیح ملنے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک dramatic video، shocking caption یا انتہائی پراعتماد دعویٰ اس لیے زیادہ پھیل سکتا ہے کہ وہ انسان کے جذبات کو متحرک کرتا ہے نہ کہ اس لیے کہ وہ درست ہے۔ اس ماحول میں لائکس اورشئیرز خود اس دعوے کے لیے مصنوعی اعتماد پیدا کرسکتے ہیں۔ حالانکہ ویوز یا شئیرزکسی معلومات کے درست ہونے کا ثبوت نہیں ہوتے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہوسکتا ہے جب توجہ حاصل کرنے کی خواہش، معلومات کی تصدیق کے بغیر اشاعت کے ساتھ سوشل میڈیا کے نظام کی طرف سے کسی مواد کو زیادہ لوگوں تک پہنچانا ( amplification algorithmic)بھی آپس میں مل جائے"۔
اس مسئلہ سے متعلق ایک اور پہلو آفات کے دوران سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ حتٰی کہ غیر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا ماہرین کی طرح ڈیزاسٹرزکے مختلف پہلوؤں پر رائے اور پیش گوئیاں کرنا بھی ہے۔ ایسی غیر ماہرانہ مگر پْراعتماد رائے عوام کے لیے کس طرح نقصان دہ ہو سکتی ہے؟یہ سوال یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے اسکول آف گورننس اینڈ سوسائٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سینٹر فار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر احمد علی گل کے سامنے رکھا گیا تو اْن کا کہنا ہے کہ " آفات ایک ایسا موضوع ہے کہ ہر شخص کو موسمیات، پانی کے بہاؤ، زلزلوں کی سائنس، آفات کے خطرات درکار ہنگامی امداد کے شعبوں میں باقاعدہ مہارت حاصل نہیں ہوتی اس لیے درست رائے دینے کے لیے متعلقہ شعبے کی مہارت لازمی ہے۔صرف چند ویڈیوز، تصاویر یا سوشل مڈیا پوسٹس کی بنیاد پر آفت کی شدت، ممکنہ اثرات یا آئندہ صورتِ حال کے بارے میں، پْراعتماد رائے اور پش گوئی گمراہ کن ہو سکتی ہے۔یہ ’’نیم حکیم‘‘ کے رویے کی مانند ہے جو غیر ضروری خوف، غلط سمت میں نقل مکانی یا حقیقی خطرے کو نظر انداز کرنے جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ آفات بڑے پیمانے پر تباہی لاتی ہیں، جو اکثر اپنے متاثرین کو مالی اور جسمانی طور پر مکمل بے بس اور متاثرکر دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ ان تباہ کاریوں کے مناظر (تصاویر اور ویڈیوز) کو استعمال کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیز یا کلک بیٹ (bait click ) (گمراہ کن) سرخیاں لگاتے ہیںاور اکثر مزید سنسنی خیز مناظر یا تھمب نیلز (thumbnails)تخلیق کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا سہارا لیتے ہیں۔چونکہ خوف ہماری توجہ کو فوراً اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔اس لیے ایسی پوسٹیں خوف اور گھبراہٹ کو بیچ کر وائرل ہوتی ہیں۔ نتیجہ عوامی سطح پر مزید انتشار اور غلط فہمی کی صورت میں نکلتا ہے۔اسی لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ حفاظتی اقداماتخاص طور پر پیشگی تنبیہ (warnings early) اور متاثرہ علاقوں سے انخلاء (evacuations) کے لیے صرف سرکاری معلومات کے ذرائع جیسے کہ NDMA، PDMAs اور مقامی شہری انتظامیہ کے سوشل میڈیا پیجز، ایپس اور پریس ریلیزز پر ہی بھروسہ کیا جائے"۔
انٹرنیٹ کی طاقت سے مسلح سوشل میڈیا کی تیز ترین نفوذ پذیری نے جھوٹے مواد کو جس رفتار سے پھیلنے کا موقع دیا ہے۔اس کا ایک مضبوط تجرباتی ثبوت MIT کی معروف تحقیق میں بھی ملتا ہے۔Massachusetts Institute of Technology کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ '' فیک نیوز سچی خبر کی نسبت زیادہ تیز ی سے پھیلتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق سچی خبروں کو 1500 لوگوں تک پہنچنے میں چھ گنا زیادہ وقت لگا بانسبت جھوٹی خبروں کے۔ جبکہ جھوٹی خبروں کے دوبارہ ٹویٹ کئے جانے کا امکان سچی خبروں کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تھا''۔ گلوبل مارکٹم اینڈ اوپنیئن ریسرچ اسپیشلسٹ (Ipsos) کی جانب سے تھنکو ٹنک سنٹر فار انٹرنشنل گورننس انوویشن (CIGI) کے لئے2019 میں کے گئے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جعلی خبریں ایک عالمی وباء ہیں اور اِن کا اثر وسیع ہے۔''دنیا کے 25 ممالک میں (جن میں پاکستان بھی شامل تھا)ہ 25,000 سے زیادہ انٹرویوز پر مشتمل سروے سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 86 فصد شہریوں کا خیال ہے کہ وہ جعلی خبروں کا شکار ہوئے۔ یعنی ہر پانچ میںا سے چار افراد۔ پاکستان کے بارے میںسروے کہ نتائج یہ بتاتے ہیں کہ 56 فیصد ہم وطنوں نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا سامنا کرنے کی تصدیق کی۔فیس بک پر فیک نیوز کا سامنا کرنے والے پاکستانی کا تناسب 61 فیصد تھا۔ جبکہ27 فیصد زیر جائزہ پاکستانیوں نے مین اسٹریم میڈیا سورسز پر فیک نیوز کے مشاہدے کے بارے میں بتایا''۔
پاکستان کے حوالے سے یہ تناظر اس لیے اہم ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ReportalDataکی ڈیجیٹل 2021:پاکستان ،نامی رپورٹ کے مطابق جنوری 2021 میں پاکستان میں 61.34 ملین انٹرنیٹ صارف تھے اور 46 ملین سوشل میڈیا صارف تھے۔ یعنی 27.5 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی جبکہ 20.6 فیصد سوشل میڈیا۔ چند برس بعد ملک کا یہ ڈیجیٹل انوائرمنٹ خاصا وسیع ہوچکا ہے۔اسی ادارے کی ڈیجیٹل 2026:پاکستان، نامی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 تک پاکستان میں 117 ملین انٹرنیٹ صارف تھے یعنی ملک کی 45.6 فیصد آبادی۔ اسی رپورٹ کے مطابق ملک میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 79.9 ملین تھی جو کل آبادی کے 31.2 فیصد کے برابر تھی۔قدرتی آفات کے تناظر میں یہ اعداد و شمار اس لیے اہم ہیں کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اب صرف تفریح یا دوستوں سے رابطے کا ذریعہ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ خبروں، عوامی مباحث، موسمی صورتحال اور ہنگامی اطلاعات کے لیے بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جس پلیٹ فارم کے ذریعے ایک درست پیشگی انتباہ) warning early ) لاکھوں افراد تک فوراً پہنچ سکتا ہے، اسی پلیٹ فارم کے ذریعے ایک غلط خبر، جعلی ویڈیو یا گمراہ کن اطلاع بھی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ یہ اطلاعاتی ماحول (environment information ) اس بات کو اور نمایاں کرتا ہے کہ بحران کے ابلاغ (crisis communication) میں صرف پہنچ (reach) کافی نہیں، بلکہ اعتماد (credibility) بھی لازمی ہے۔
پاکستان کی قدرتی آفات کے سامنے کمزوری اس ضرورت کو مزید واضح کرتی ہے۔ ورلڈ بینک کے کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل کے مطابق پاکستان 2020 کے انفارم رسک انڈیکس میں 191 ممالک میں مجموعی ڈیزاسٹر رسک کے لحاظ سے 18ویں نمبر پر تھا۔ ملک کو خاص طور پر سیلاب (flooding)، خشک سالی (drought)، ٹراپیکل سائیکلونز اور زلزلوں (earthquakes) جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ورلڈ بینک کے موجودہ پاکستان کنٹری پیج کے مطابق پاکستان قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور شدید موسمی واقعات سے متاثر ہونے والے دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ جون 2025 میں ورلڈ بینک نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے سالانہ نقصانات ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔2022 کے تباہ کن سیلاب اس کمزوری کی ایک بڑی مثال تھے۔ اس سانحے نے تقریباً 33 ملین افراد کو متاثر کیا اور 30 ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات کا سبب بنا۔ حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی اداروں کی پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ کے مطابق سیلاب سے 1,730 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، 8 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، جبکہ مجموعی نقصانات 14.9 ارب ڈالر اور معاشی خسارہ تقریباً 15.2 ارب ڈالر تھا۔ بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 16.3 ارب ڈالر کی ضرورت کا تخمینہ لگایا گیا۔
ایسے ملک میں قدرتی آفت کے دوران اطلاعات/ معلومات کوئی ثانوی چیز نہیں بلکہ disaster response کا بنیادی حصہ بن جاتی ہے۔ UNDRR گلوبل سٹیٹس آف ملٹی ہیزرڈ ارلی وارننگ سسٹمز 2025 رپورٹ کے مطابق کثیر خطرات کے لیے جامع اور بہتر ابتدائی انتباہی نظام رکھنے والے ممالک میںقدرتی آفات کے باعث ہلاکتیں محدود صلاحیت رکھنے والے ممالک کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا کم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بروقت اور قابلِ اعتماد انتباہ صرف اطلاع نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا کی پہنچ ایک اہم وسیلہ بن جاتی ہے۔ یو این ڈی آر آر کی 2025 کی سالانہ رپورٹ بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ادارے کے پورے مواصلاتی نیٹ ورک پر لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال ادارے کی مختلف آفیشل ویب سائٹس پر ریکارڈ 71 لاکھ (7.1 ملین) وزٹس کیے گئے۔
اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا اور پبلک کمیونیکیشن چینلز کے ذریعے مزید 60 لاکھ (5.9 ملین) افراد تک رسائی حاصل کی گئی- یہ تمام حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر ہم سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو صحیح طریقے سے استعمال کریںتو عوامی تعلیم، آفات سے پہلے کی تیاری اور شعور بیدار کرنے کے لیے اس سے بہتر اور کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس opportunity کو سمجھنے کے لیے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے مختلف مراحل کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ آفت صرف اس
لمحے تک محدود نہیں ہوتی جب سیلاب آتا ہے، زلزلہ آتا ہے یا طوفان ٹکراتا ہے یا کوئی انسان کی پیدا کردہ آفت۔ آفت سے پہلے، آفت کے دوران اور آفت کے بعد کے مراحل اپنی اپنی needs information رکھتے ہیں۔ان تینوں مراحل میں سوشل میڈیا life saving بھی ہوسکتا ہے اور multiplier crisisبھی۔
آفت سے پہلے سوشل میڈیا موسم کی پیشگوئیاں، پیشگی انتباہ ، انخلا کی ہدایات، حفاظتی اقدامات اور risk awareness کو تیزی سے عوام تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سوشل میڈیا ایک مؤثر tool communication disaster risk بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اسی مرحلے میں جعلی انتباہ ، غیر مصدقہ موسمی پیشگوئی یا افواہ پھیل جائے تو لوگ بلاوجہ خوفزدہ ہوسکتے ہیں۔ غیر ضروری نقل مکانی کرسکتے ہیں یا اس کے برعکس حقیقی انتباہ کو بھی نظرانداز کرسکتے ہیں۔ اس لیے پیشگی انتباہ صرف انتباہ نہیں بلکہ قابل بھروسہ انتباہ ہے۔
آفت کے دوران information خودtool rescue بن جاتی ہے۔ متاثرہ شخص کو یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ خطرہ کہاں ہے اور بچنے کا راستہ کہاں ہے۔ کون سی سڑک محفوظ ہے۔کون سا پل ٹوٹ چکا ہے۔ کون سا علاقہ زیرِ آب ہے۔ریسکیو ٹیم کہاں پہنچ چکی ہے۔ کہاںطبی امداد دستیاب ہے اور کس مقام پرشیلٹرقائم ہے۔ سوشل میڈیا ان سوالات کے جواب تیزی سے عوام تک پہنچانے میں مدد کرسکتا ہے۔ متاثرہ علاقے سے آنے والی verified rescue post اداروں کوزمینی حقائق سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ کسی لاپتہ فردکی تصویر وسیع پیمانے پر پھیل کر خاندان تک پہنچ سکتی ہے اور کسی community isolated کی request emergency امدادی اداروں تک پہنچ سکتی ہے۔
لیکن یہی وہ مرحلہ بھی ہے جہاں misinformation سب سے زیادہ خطرناک بن سکتی ہے۔ اگر کسی علاقے کے بارے میں غلطی سے یہ خبر پھیل جائے کہ وہاںسیلاب آچکا ہے تو لوگ غیر ضروری طور پر نقل مکانی کرسکتے ہیں۔ اگر کسی حقیقی خطرے کے بارے میں غلط یا متضاد معلومات پھیلیں تو لوگ انخلا میں تاخیر کرسکتے ہیں۔ اگرمحفوظ راستے کوغیر محفوظ یاغیر محفوظ راستے کومحفوظ قرار دیا جائے تو غلط انفارمیشن براہِ راست انسانی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
آفت کے بعد بھی بحران ختم نہیں ہوتا۔ متاثرین کو خوراک، پانی، سائبان، طبی امداد، روزگار اور بحالی کی ضرورت رہتی ہے۔ اس مرحلے پر سوشل میڈیا لاپتہ افرادکی تلاش، coordination relief امداد، بحالی اور متاثرہ لوگوں کی ضروریات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہے جب امداد کی جعلی اپیلیں، جعلی امدادی ادارے، غلط اعداد و شمار اور امدادی اداروں کے خلاف افواہیں بھی پھیل سکتی ہیں۔ اگر لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ریلیف فنڈ میں رقم پہنچ ہی نہیں رہی تو وہ عطیہ دینے سے گریز کرسکتے ہیں۔ اگر انہیں کسی جعلی ادارے یا اکاؤنٹ پر اعتماد دلا دیا جائے تو ان کی رقم غلط ہاتھوں میں جاسکتی ہے۔ یوں disaster کے بعد misinformation ایک crisis secondary پیدا کرسکتی ہے۔
قدرتی آفت کے تناظرمیں misinformation کاایک اہم خطرہ یہ بھی ہے کہ لوگ ہمیشہ فوری طور پر فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کون سی بات سچ ہے۔ کون سی جھوٹ اور کون سی آدھی سچائی۔ ایسی صورتِ حال میں صارف کے لیے درست اور غلط معلومات میں فرق کرنا کیوں مشکل ہو جاتا ہے اور اْسے کن باتوں کو سامنے رکھنا چاہیے؟۔ڈیجیٹل میڈیا اور نئی ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے کردار پر کام کرنے والے ماہراسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ میڈیا و کمیونیکیشن اسٹڈیز کے چیئرمین، پروفیسر ڈاکٹر ملک عدنان جن کی سربراہی میں شعبے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے بی ایس سطح کا ایک منفرد پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔وہ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ " آفت کے وقت خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں لوگ ہر نئی اطلاع کو اہم سمجھتے ہیں اور بعض اوقات صرف اس لیے اسے درست مان لیتے ہیں کہ وہ تصاویر، ویڈیو یا کسی پْراعتماد دعوے کے ساتھ سامنے آئی ہوتی ہے۔ اِن کے مطابق مسئلہ صرف جھوٹی خبر کا نہیں۔ایسی معلومات کا بھی ہے جو بظاہر درست ہوں لیکن ان کا وقت یا پس منظر بدل جانے سے ان کا مطلب بھی بدل جاتا ہے۔ ایسے حالات میں صارف کے لیے ضروری ہے کہ کسی اطلاع پر فوری ردعمل دینے کے بجائے اس کے ماخذ اور پس منظر کو دیکھے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ کیا یہی بات کسی قابلِ اعتماد ذریعے سے بھی سامنے آئی ہے"۔
پاکستان کے 2022 کے تباہ کن سیلاب اس disorder informationکو سمجھنے کے لیے ایک اہم کیس اسٹڈی ہیں۔ اْس وقت ملک کا بڑا حصہ زیرِ آب تھا۔ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور سوشل میڈیا پر سیلاب سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کا ایک سیلاب آگیا۔ لیکن ان میں سے ہر تصویر یا ویڈیو پاکستان کے 2022 فلڈزکی نہیں تھی۔ فیکٹ چیکنگ اداروں نے اس دوران کئی ایسی مثالیں سامنے لائیں جن میں پرانی یا دوسرے ملکوں کی فوٹیج کو پاکستان کے سیلاب سے منسلک کیا گیا تھا۔
مثلاً 2022 کے مون سون کے دوران ایک ویڈیو کو کراچی میں ہونے والے microburst (چھوٹا مگر شدید طوفانی جھکڑ) کے طور پر شیئر کیا گیا۔حالانکہ AFP Fact Check کے مطابق وہ ویڈیو دراصل 2018 میں امریکی ریاست ایریزونا کے شہر Phoenix میں بننے والے microburst کی تھی۔ 11 جولائی 2022 کو شیئر کی گئی ایک فیس بک پوسٹ پر اس ویڈیو کو 60 ہزار سے زیادہ views ملے تھے۔
پاکستان میں 2022 کے سیلاب کے دوران ایک جعلی اسکرین شاٹ بھی گردش کرتا رہا جس میں بظاہر Dawn اخبار کی سرخی دکھائی گئی تھی۔ اس سرخی کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ سیلاب کلائمیٹ چینج کے بجائے لوگوں کے قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے آیا۔ تاہم AFP فیکٹ چیک نے واضح کیا کہ یہ Dawn کی اصل خبر نہیں تھی بلکہ ایک ترمیم شدہ اسکرین شاٹ تھا۔ اصل Dawn اسٹوری کی سرخی مختلف تھی اور اخبار نے خود بھی اس جعلی سرخی کی تردید کی۔
یہ مثال اس لیے اہم ہے کہ یہاں misinformation نے صرف واقعے کی visual representation کو تبدیل نہیں کیا بلکہ disaster کی explanation بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ایک حقیقی قدرتی آفت کو مخصوص مذہبی یا نظریاتی narrative کے ساتھ جوڑنے کے لیے جعلی مواد استعمال کیا گیا۔
امدادی سرگرمیوں سے متعلق غلط معلومات بھی کم نقصان دہ نہیں ہوتیں۔ ستمبر 2022 میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ سندھ میں ایک سیاست دان نے سیلاب متاثرین کے لیے آنے والے ہزاروں خیمے اور راشن بیگز غیر قانونی طور پر اپنے پاس ذخیرہ کر لیے ہیں۔ لیکن جیو فیکٹ چیک نے تحقیقات کے بعد واضح کیا کہ یہ دعویٰ درست نہیں تھا۔ اصل میں یہ امداد متحدہ عرب امارات کے شیخ نہیان بن زاید النہیان کا نجی عطیہ تھی۔ پانچ ہزار سے زیادہ خیمے اور راشن بیگز اْن کی جانب سے خریدے گئے تھے اور متاثرہ علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں عارضی طور پر ایک چاول کی مل میں رکھا گیا تھا۔ اس جھوٹے دعوے سے متعلق ویڈیوز کو تقریباً 30 ہزار ویوز ملے، جبکہ ٹویٹس کو 10 ہزار سے زیادہ مرتبہ ری-ٹویٹ کیا گیا۔
ایک اور معاملے میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں صرف آٹھ لاکھ روپے جمع ہوئے ہیں۔ جیو فیکٹ چیک نے سرکاری دستاویز کی بنیاد پر اسے غلط قرار دیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق 30 دسمبر 2022 تک اس فنڈ میں تقریباًپانچ ارب سے زائد رقم جمع ہوئی۔ ایسے دعوے محض سیاسی بحث کو متاثر نہیں کرتے یہ لوگوں کے عطیہ دینے کے فیصلے کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
قدرتی آفت کے دوران جعلی امدادی مہمیں بھی اسی ماحول سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ 2022 کے سیلاب کے دوران پشاور انتظامیہ کی جانب سے سیلاب متاثرین کے نام پر قائم کیے گئے غیر قانونی امدادی کیمپس کے خلاف کارروائی کی گئی۔ سوشل میڈیا اور زمینی سطح کی جعلی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑ سکتی ہیں۔
video Manipulatedکا خطرہ بھی پاکستان کے سیلابی تجربے میں سامنے آیا۔ ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ پھیلایا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان سیلاب متاثرین کے لیے جمع کی گئی رقم واپس لے رہے ہیں۔سوچ فیکٹ چیک نے تصدیق کی کہ ویڈیو کو reverse کرکے چلایا گیا تھا۔ اصل ویڈیو میں ایمل ولی خان pool donation میں رقم ڈال رہے تھے۔
یہ مثال دکھاتی ہے کہ کبھی اصل فوٹیج حقیقی ہوتی ہے لیکن ایڈٹنگ اور context کی تبدیلی اسے گمراہ کن بنا دیتی ہے۔ یعنی ڈیجیٹل ایج میں صرف یہ ثابت کرنا کافی نہیں کہ ویڈیو اصلی ہے۔یہ بھی ثابت کرنا ضروری ہے کہ اسے کس ترتیب، کس context اور کس دعوے کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔
یہ تمام مثالیں ایک اہم صورتِ حال کی نشاندہی کرتی ہیں کہ قدرتی آفت کے دوران معلوماتی انتشار کی مختلف شکلیں ایک دوسرے سے الگ نہیں رہتیں۔ ایک پرانی ویڈیو غلط معلومات کے طور پر گردش کرسکتی ہے پھر اس میں ایک مخصوص دعویٰ شامل کرکے اسے جان بوجھ کر گمراہ کن انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد ایسے دعوے کو مزید قابلِ یقین بنا سکتا ہے جبکہ اسے سیاسی یا جغرافیائی بیانیے کے ساتھ جوڑ کر ایک مخصوص تاثر پیدا کیا جاسکتا ہے۔
اسی ماحول میں جعلی امدادی اپیل کے ذریعے لوگوں کو مالی فراڈ کا نشانہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ یوں معلوماتی انتشار ایک سلسلہ وار عمل کی صورت اختیار کرسکتا ہے جس کا اثر صرف کسی ایک غلط خبر تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوامی رائے، سیاسی بیانیے، امدادی سرگرمیوں پر اعتماد اور لوگوں کے مالی فیصلوں تک پہنچ سکتا ہے۔
سیلاب یا کسی دوسری آفت کے دوران جعلی امدادی اپیلیں اور غلط معلومات سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں متاثرین اور عطیہ دینے والوں کے لیے یہ جاننا کتنا مشکل ہوتا ہے کہ کون سی اپیل حقیقی ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا احتیاط ضروری ہے؟ یہ سوال بورے والا میں الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر عطا الرحمٰن کے سامنے رکھا گیا۔ وہ مقامی سطح پر فلاحی اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے ساتھ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے کے عملی کام سے بھی وابستہ ہیں۔ عملی تجربے کی وجہ سے انہیں براہِ راست مشاہدہ رہتا ہے کہ کسی آفت کے دوران متاثرہ علاقوں، راستوں، لوگوں کی ضروریات اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق درست معلومات کتنی اہم ہوتی ہیں۔
گزشتہ سال دریائے ستلج میں آنے والے سیلاب کے دوران بھی انہوں نے بورے والا اور اس کے گرد و نواح میں امدادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ " آفت کے وقت لوگوں میں مدد کرنے کا جذبہ بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ فوری طور پر کسی ضرورت مند تک امداد پہنچانا چاہتے ہیں۔ یہی جذبات بعض اوقات جعلی امدادی اپیلوں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ کسی اپیل پر فوراً رقم بھیجنے یا امدادی سامان فراہم کرنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ اپیل کس فرد یا ادارے کی طرف سے کی گئی ہے۔ اس کی تصدیق کہاں سے ہو رہی ہے اور کیا اس ادارے کی کوئی قابلِ اعتماد موجودگی اور ساکھ بھی ہے۔ بعض اوقات اچھی ساکھ والی تنظیم کے نام سے ملتا جلتا نام بھی رکھ لیا جاتا ہے اور خاص طور پر کسی وائرل پوسٹ یا جذباتی پیغام کو صرف اس لیے درست نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسے بہت سے لوگ آگے بڑھا رہے ہیں"۔اس کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ قدرتی آفت کے دوران امدادی کاموں کے لیے متاثرہ علاقوں، راستوں اور لوگوں کی ضروریات سے متعلق معلومات بہت اہم ہوتی ہیں۔
اپنے عملی تجربے کی روشنی میں آپ نے ایسی غلط یا غیر مصدقہ معلومات کو امدادی کارروائیوں میں کس طرح رکاوٹ بنتے دیکھا ہے؟اْنھوں نے اس بارے میں کہا کہ " آفت کے دوران ہمارے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہوتا ہے کہ کہاں پانی زیادہ ہے، کون سا راستہ کھلا ہے، کہاں لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور کس علاقے میں کس چیز کی فوری ضرورت ہے۔ اگر ان میں سے کسی بارے میں غلط اطلاع مل جائے تو امدادی ٹیم کا وقت اور وسائل غلط جگہ صرف ہو سکتے ہیں جبکہ کسی ایسے علاقے تک پہنچنے میں تاخیر ہو سکتی ہے جہاں واقعی مدد کی ضرورت ہو۔ اس لیے فیلڈ کی سطح پر معلومات کی درستگی بہت اہم ہے کیونکہ ایک غلط اطلاع صرف الجھن پیدا نہیں کرتی بلکہ امدادی کارروائی کی رفتار بھی متاثر کر سکتی ہے۔"
آفت کے دوران نقصان دہ معلومات کے اثرات کو صرف سوشل میڈیا صارفین کا مسئلہ سمجھنا بھی درست نہیں کیونکہ میڈیا کے ادارے خود اسی معلوماتی ماحول کا حصہ ہیں۔ یونیسکو کی مئی 2025 میں جاری رپورٹ disasters of face the in Media کے مطابق 56.1 فیصد جواب دینے والے میڈیا اداروں نے بتایا کہ وہ ہنگامی صورتِ حال سے متعلق تازہ معلومات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے ہیں۔ لیکن صرف 46.3 فیصد اداروں کے پاس صارفین کی تیار کردہ معلومات کی تصدیق سے متعلق پالیسیاں موجود تھیں۔ اسی تحقیق میں 55 فیصد اداروں نے بتایا کہ انہوں نے ہنگامی صورتِ حال یا قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے مخصوص مالی اور انسانی وسائل مختص نہیں کیے تھے۔
کسی آفت کے دوران میڈیا کے لیے فوری خبر دینے اور اس کی درستگی کو یقینی بنانا قدرے مشکل ہو جاتا ہے۔ خصوصاً جب معلومات کا بڑا حصہ عام صارفین کی فراہم کردہ تصاویر، ویڈیوز اور اطلاعات پر مشتمل ہو۔ ایسے میں میڈیا کو فوری خبر دینے اور معلومات کی تصدیق کے درمیان توازن کیسے قائم کرنا چاہیے؟میڈیا اور ابلاغ کے ماہر ڈاکٹر ملک عدنان کا کہنا ہے کہ " قدرتی آفت کے دوران میڈیا کے سامنے ایک مشکل توازن ہوتا ہے۔ اسے خبر بھی فوری دینی ہوتی ہے، زمینی صورتِ حال بھی دکھانی ہوتی ہے اور عینی شاہدین کی معلومات بھی سامنے لانی ہوتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ صارفین کی تیار کردہ معلومات حقیقی اور قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں، تصویر کہاں کی ہے، ویڈیو کب کی ہے، اس کا اصل ذریعہ کیا ہے اور اسے نشر کرنے سے عوامی تحفظ پر کوئی منفی اثر تو نہیں پڑے گا۔ بحران کے دوران وقت کم ہوتا ہے اور معلومات کی طلب بہت زیادہ۔ یہی وہ خلا ہے جس میں غلط اور غیر مصدقہ معلومات تیزی سے جگہ بنا سکتی ہیں۔ اگر کوئی میڈیا ادارہ تصدیق کے بغیر وائرل مواد نشر کردے تو وہ صرف ایک غلط پوسٹ کو دوبارہ پھیلا نہیں رہا ہوتا بلکہ اپنی ادارہ جاتی ساکھ بھی اسی معلومات کے ساتھ داؤ پر لگا دیتا ہے"۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی ورلڈ ڈیزاسٹرز رپورٹ 2026 کے مطابق نقصان دہ معلومات کو صرف ابلاغ کا مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک حقیقی انسانی بحران بن سکتی ہیں۔ گمراہ کن معلومات امداد تک لوگوں کی رسائی مشکل بنا سکتی ہیں، اداروں اور امدادی کارکنوں پر اعتماد کم کر سکتی ہیں، معاشرتی اتحاد کو متاثر کر سکتی ہیں اور متاثرہ افراد، رضاکاروں اور امدادی کارکنوں کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہیں۔آئی ایف آر سی کے سیکریٹری جنرل جاگن چپگین ( Chapagain Jagan ) نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ بحران کے دوران درست معلومات خوراک، پانی اور پناہ کی طرح اہم ہوتی ہیں۔ اگر معلومات درست اور قابلِ اعتماد نہ ہوں تو وہ خوف میں اضافہ کر سکتی ہیں، امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں اور لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
بحران کے وقت معلومات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یونونرسٹی آف منجمنٹ اینڈ ٹیکنا لوجی لاہور کے مرکز برائے آفات سے نمٹنے کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر احمد علی گل کہتے ہیں کہ "کس آفت کی صورتحال میں معلومات کی تین خصوصیات فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ درست ہونا، بروقت دستیاب ہونا اور قابلِ اعتماد ہونا۔ ان کے مطابق اگر معلومات درست ہوں لیکن دیر سے پہنچیں تو ان کی جان بچانے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔ اگر معلومات بہت جلد پہنچ جائیں مگر غلط ہوں تو یہ خطرہ کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتی ہیں۔ اور اگر معلومات درست اور بروقت ہوں لیکن عوام کو ماخذ یا ذریعے پر اعتماد نہ ہو تو لوگ ان پر عمل نہیں کریں گے۔ اس لیے آفات کے دوران مؤثر ابلاغ دراصل رفتار اور تصدیق کے درمیان ایک نازک توازن ہے۔ بحران مں سب سے پہلے پہنچنے والی خبر لازمی نہیں کہ سب سے درست بھی ہو"۔اس پوری صورتِ حال میں 13 اکتوبر کو منایا جانے والا عالمی یومِ ’آفات کے خطرات میں کمی‘ ایک اہم پیغام دیتا ہے۔
آفات کے خطرات میں کمی صرف مضبوط عمارتوں، بہتر منصوبہ بندی، امدادی سامان یا محفوظ بنیادی ڈھانچے کا نام نہیں، بلکہ درست معلومات، بروقت انتباہ اور ذمہ دارانہ ابلاغ بھی اس کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کو بذاتِ خود مسئلہ قرار دینا درست نہیں۔ یہ نہ تو خود جان بچانے والا نظام ہے اور نہ ہی بحران کو بڑھانے والا ذریعہ۔ دراصل یہ ایک ابلاغی ڈھانچہ ہے اور اس کے کردار کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے کس نوعیت کی معلومات پھیلتی ہیں۔ ہر صارف کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ایسی پوسٹ کو شیئر کرنا محض ایک معمولی ڈیجیٹل عمل نہیں جس کی درستی کے بارے میں اسے مکمل یقین نہ ہو۔ جہاں ایک صارف کی جھوٹی پوسٹ کئی لوگوں کو گمراہ کرکے انہںم غلط فصلے کرنے پر مجبور کرسکتی ہے، وہں اییک پوسٹ پھیلا نے والا صارف بھی دوسرے لوگوں کی گمراہ کن یا جعلی معلومات پر یقین کرکے غلط فصلہ کرسکتا ہے اور خود کو مزید خطرے مںی ڈال سکتا ہے۔لہٰذا سوشل میڈیا کا استعمال ہر لمحہ ذمہ داری، احتیاط اور معلومات کی تصدیق کا تقاضا کرتا ہے۔