انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیریئر ہٹانے کے کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل ایمل خان مندوخیل عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل ایمل خان مندوخیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل گئے تھے، تاہم ملاقات نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق گزشتہ روز پی ٹی آئی وکلا کی ملاقات کا دن تھا، لیکن اڈیالہ جیل سے ڈیڑھ کلومیٹر دور راستے بند تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق ملاقات کی درخواست کی، مگر ملاقات نہیں ہو سکی۔
عدالتی اہلکار نے بتایا کہ جیل حکام کے مطابق ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔ وکیل نے استدعا کی کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ذاتی حیثیت میں حاضری یقینی بنائی جائے۔ جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ پولیس اور جیل حکام کی رپورٹ آ گئی ہے اور حکام نے بتایا ہے کہ آج پیشی کے لیے خصوصی گاڑی موجود نہیں ہے۔
ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ اور وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا، جس کے بعد ملزمان اور وکلا کی غیر موجودگی میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ہماری عدالت سے استدعا ہے کہ ہمیں کورٹ میں بلایا جائے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری پرائیویسی کا خیال رکھا جائے، جہاں میٹنگ ہوتی ہے وہاں سب کچھ ریکارڈ ہوتا ہے۔
وکیل ایمل مندوخیل نے کہا کہ انہیں گواہان کے بیانات ریکارڈ کرانے کے حوالے سے کوئی ہدایت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان کی ملاقات کرائی جائے، پھر گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔
ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ عدالت نے کہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مطمئن کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز ہیں اور یہ آپ کا قانونی حق ہے۔
گواہ کیجانب سے شہادت ریکارڈ کروانی شروع کرنے پر وکلاء اور شیریں مزاری کمرہ عدالت سے چلے گئے وکلاء کے جانے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ بھی چلے گئے گواہ ٹریفک پولیس ملازم کا بیان ریکارڈ کروایا گیا۔