ٹرمپ انتظامیہ کا الہان عمر کی امریکی شہریت ختم کرنے پر غور، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ

الہان عمر 1995 میں کینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں قیام کے بعد امریکا پہنچی تھیں اور 2000 میں امریکی شہری بن گئی تھیں


ویب ڈیسک October 15, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس الہان عمر کی امریکی شہریت ختم کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے حکام اور تحقیقات سے واقف افراد کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ صومالیہ سے پناہ گزین کی حیثیت سے امریکا آنے والی الہان عمر نے شہریت کیسے حاصل کی۔ حکام ان کے خاندان کے امیگریشن ریکارڈز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ مینیسوٹا میں قائم گرینڈ جیوری کے سامنے گواہی حاصل کرنے کے لیے ان کے بعض رشتہ داروں سمیت مختلف افراد کو ایک درجن سے زائد سمن جاری کیے گئے ہیں۔

اخبار کے مطابق تفتیش کار اس الزام کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا الہان عمر یا ان کے مرحوم والد نے امیگریشن دستاویزات میں ان کی عمر 18 سال کے بجائے 17 سال ظاہر کی تھی۔ مبینہ طور پر اس سے انہیں اپنے والد کے ذریعے شہریت حاصل کرنے میں مدد مل سکتی تھی، ورنہ انہیں الگ سے درخواست دینا پڑتی۔

الہان عمر کے والد کا انتقال 2020 میں ہو گیا تھا، جس کے باعث اس معاملے میں شواہد جمع کرنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ الہان عمر اس سے قبل امیگریشن فراڈ کے الزامات کی تردید کر چکی ہیں، جبکہ ان کے دفتر نے موجودہ تحقیقات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی امیگریشن حکام نے اسی نوعیت کے الزام کا جائزہ لیا تھا، تاہم دھوکا دہی کے شواہد ناکافی ہونے کے باعث اس معاملے کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔

شہریت سے متعلق تحقیقات کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل وفاقی ایجنٹوں نے الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق یہ کارروائی جاری وفاقی تحقیقات کا حصہ تھی اور عدالتی اجازت سے حاصل کیے گئے سرچ وارنٹ کے تحت کی گئی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تلاشی کے دوران ایجنٹوں نے الہان عمر کا پاسپورٹ، موبائل فون، ذاتی کمپیوٹرز اور نوٹ بکس بھی قبضے میں لیے۔ یہ کارروائی امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ہوئی ہے۔ الہان عمر مینیسوٹا کے پانچویں انتخابی حلقے سے مسلسل پانچویں مدت کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔

الہان عمر 1995 میں کینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں قیام کے بعد امریکا پہنچی تھیں اور 2000 میں امریکی شہری بن گئی تھیں۔ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں ترقی پسند رہنما ہیں اور طویل عرصے سے صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کی تنقید کا سامنا کرتی رہی ہیں۔

تاہم اخبار کی رپورٹ کے مطابق تاحال ان کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے کسی عدالتی مقدمے کے دائر ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ شہریت کی منسوخی کے لیے عدالتی کارروائی درکار ہوگی؛ محض تحقیقات شروع ہونے سے ان کی شہریت ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی انہیں ملک بدر کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے الہان عمر کے گھر پر چھاپے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اس کارروائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور یہ محکمہ انصاف کا معاملہ ہے۔