جاپانی وزیراعظم نے روس میں ایک جاپانی صحافی کی گرفتاری کے بعد ماسکو کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ جاپان روسی سرزمین پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
سانائے تاکائیچی نے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے اور واضح کیا کہ جاپانی شہری کی حفاظت اس وقت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
روسی سکیورٹی ادارے ایف ایس بی کے مطابق جاپانی صحافی یوکی ایمائی، جو جاپانی اخبار ہوکائیڈو شمبن سے وابستہ ہیں، نے روس کی دفاعی صلاحیتوں سے متعلق معلومات جمع کیں اور انہیں جاپانی انٹیلی جنس اداروں تک پہنچانے کی کوشش کی۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ صحافی کو مشرقی علاقے سخالین میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ روس سے روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔
روس نے صحافی کو ماسکو منتقل کیا ہے اور ایک عدالت نے انہیں تقریباً دو ماہ تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے صحافی سے ابھی تک براہِ راست رابطہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔
ٹوکیو نے روسی سفیر کو طلب کرکے صحافی کی گرفتاری پر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اسے منصفانہ اور غیر جانب دارانہ سلوک فراہم کیا جائے۔ جاپانی حکومت روس سے قونصلر ملاقات کی اجازت بھی مانگ رہی ہے تاکہ صحافی کی صحت اور صورتحال کی تصدیق کی جاسکے۔