یمن کے جنوبی شہر عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کے میزائل حملے میں کم از کم 4 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے جبکہ جائے وقوعہ سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملے کی تصدیق یمنی حکومت کے 3 فوجی ذرائع اور مقامی پولیس اہلکاروں نے کرتے ہوئے بتایا کہ صدارتی محل کو پانچ میزائل لگے۔
سیکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حوثیوں کے میزائلوں نے العاشق صدارتی محل کو نشانہ بنایا جہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا صدر دفتر بھی قائم ہے۔
عدن کے رہائشیوں نے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی جبکہ اے ایف پی کے ایک صحافی نے محل کے مقام سے دھواں اٹھتے بھی دیکھا۔
حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ گروپ نے العاشق محل میں قائم فوجی آپریشنز کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔
جنگ زدہ علاقہ ہونے اور سخت گیر صحافتی پابندیوں کے باعث حملے کے تمام نقصانات اور متاثرہ تنصیبات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
عدن یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا عبوری دارالحکومت ہے جبکہ اصل دارالحکومت صنعا پر حوثی گروپ کا قبضہ ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان اقتدار اور علاقائی کنٹرول پر تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔
واضح رہے کہ یمن میں انتقالِ اقتدار کا یہ تنازع 2014 سے گھمبیر صورت حال اختیار کرگیا ہے جہاں ملک کے کئی حصوں پر حوثیوں کا قبضہ ہے جبکہ کچھ ہی علاقے ہیں جہاں سعودی قیادت اتحادی فوج کے پاس کنٹرول ہے۔