اسلام آباد:
حکومت قومی محاصل میں اضافے کے لیے نیا ٹیکس وصولی ادارہ قائم کرنے یا موجودہ مشینری کی مزید تنظیم نو کرنے پر غور کر رہی ہے، متعدد اصلاحاتی کوششوں کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہونے کے باعث یہ متبادل زیر غور آیا ہے،سرکاری حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے کے روز اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پہلی مرتبہ مکمل طور پر نیا ادارہ قائم کرنے کا خیال پیش کیا گیا۔
اس کے بعد ایف بی آر کے اندر بھی مشاورت شروع ہوگئی ،چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے چند افسران کو وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کرنے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی ذمے داری سونپی ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق ایف بی آر کو 19 اکتوبر کو وزیراعظم کے سامنے انسانی وسائل میں اصلاحات، ایف بی آر کی بہتری اور تنظیم نو سے متعلق جامع تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیا ادارہ قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہونے سے متعلق سوال پر ایف بی آر کے ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ ادارے میں اصلاحات ایک مضبوط اور مسلسل جاری عمل ہے، جس کے دوران درجنوں خیالات اور تجاویز زیر بحث آتی ہیں۔ اسی معاملے پر ایک اور جواب میں ایف بی آر نے تصدیق کی کہ وزیراعظم نے ادارے کو انسانی وسائل میں اصلاحات اور ایف بی آر کی ازسرنو تشکیل و تنظیم نو سے متعلق جامع تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس سلسلے میں کام جاری ہے۔
ادارے نے واضح کیا کہ توجہ ایف بی آر میں اصلاحات پر ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا کام کسی نجی کمپنی کے حوالے کرنے کی اطلاعات کو ترجمان نے مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق مشاورت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ایف بی آر کے مستقبل کے ڈھانچے یا نئے محاصل وصولی ادارے کے حوالے سے کوئی حتمی تجویز منظور نہیں ہوئی۔
زیر بحث امور میں قومی ٹیکس ایجنسی کا قیام بھی شامل ہے۔اگر ایف بی آر کے اختیارات کسی نئے ادارے کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے لیے متعدد قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی، جن میں ایف بی آر ایکٹ 2007 اور کم از کم چار ٹیکس قوانین شامل ہیں۔
ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق اب تک زیر غور سوچ یہ ہے کہ ایف بی آر کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا جو افسران نئے قائم ہونے والے ادارے میں جانے کا انتخاب نہیں کریں گے، وہ موجودہ ادارے میں اپنی رٹائرمنٹ تک خدمات انجام دے سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں ناکامی، ٹیکس وصولیوں کی مطلوبہ سطح حاصل نہ ہونا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں جمود نئے ادارے کے قیام پر غور کی اہم وجوہات ہیں۔
ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کے نتائج سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت دو سال میں ٹیکس وصولیاں 9 ہزار 200 ارب روپے سے بڑھ کر 13 ہزار ارب روپے ہوگئیں۔
تاہم اس جواب میں زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں ہوتی، کیونکہ ترجمان نے ٹیکس وصولیوں میں اضافے کا سہرا تبدیلی کے منصوبے کو دیتے ہوئے اضافی ٹیکسوں اور معیشت کی معمولی شرح نمو کے اثرات کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بھاری ٹیکس عائد کیے تھے، جنہوں نے پہلے سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں اضافے میں بھی کردار ادا کیا۔دوسری جانب کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نومبر 2024 میں چھ ماہ کے لیے 32.5 ارب روپے کے پہلے اخراجاتی پیکیج کی منظوری دی تھی۔
اس رقم میں سے ایک ہزار 87 نئی گاڑیاں خریدنے کے لیے 5.6 ارب روپے مختص کیے گئے،ایف بی آر کو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
قومی ٹیکس نمبرز رکھنے والے 19 ملین افراد میں سے جمعرات کی شام تک صرف 6.9 ملین افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تھے، جبکہ گزشتہ ٹیکس سال میں 8.5 ملین گوشوارے جمع ہوئے تھے۔
حکومت نے تاجروں کو مقررہ ٹیکس نظام میں لانے کی اسکیم بھی شروع کی تھی، جس کا مقصد 3.7 ملین خوردہ فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا تھا۔
ان میں سے ایک ملین تاجروں کو رواں سال ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ڈیجیٹل انوائسنگ اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام کو مربوط کرکے کاروباری لین دین کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جارہی ہے۔
آڈٹ اور کلیئرنس کے لیے معاملات کے انتخاب میں مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینجمنٹ نظام استعمال کیا جارہا ہے۔