کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کیخلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر

درخواستوں میں کہا گیا ہے دہشتگردی کو بنیاد بناکر منتخب صوبائی حکومت کےخلاف کارروائی امتیازی سلوک ہے


ویب ڈیسک October 16, 2026

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور کر لیں۔

رپورٹ کے مطابق کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، درخواستوں میں وفاقی و صوبائی حکومت اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواستوں میں فیڈریشن آف پاکستان، صدر، وزیراعظم، گورنرکےپی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کو بنیاد بناکر منتخب صوبائی حکومت کےخلاف کارروائی امتیازی سلوک ہے، بلوچستان میں دہشتگردی اور جانی نقصانات کے باوجود گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، دہشتگردی کو جواز بناکر کےپی میں پی ٹی آئی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

درخواستوں میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ 2007 سے 2015 تک دہشتگردی کے باوجود کےپی میں گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، پی ٹی آئی دہشتگردی کےخلاف کارروائیوں اور امن کےقیام کی حمایت کرتی ہے، دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات سیاسی دباؤ بڑھانےکیلئے استعمال کیے جا رہے ہیں، وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے 2024 کے عام انتخابات میں کےپی میں دو تہائی اکثریت حاصل کی، گور نرراج کے نفاذ کیلئے آرٹیکل 234 کے تقاضوں اور طریقہ کار پر عمل ضروری ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی آرٹیکل232 اور متعلقہ پارلیمانی تقاضوں کے مطابق جانچا جائے، مذاکرات کی ناکامی کو پی ٹی آئی کےخلاف جواز بنایا جا رہا ہے۔

درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران غیرقانونی اقدام کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، آئینی اور جمہوری احتجاج کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر منتخب حکومت معطل کرنا قابلِ سوال ہے، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ غیرآئینی، غیرقانونی اور بدنیتی پرمبنی ہے، ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ عوام کے بنیادی حقوق اور جمہوریت کے مینڈیٹ کےخلاف ہے۔

پشاور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنرراج کے اقدام کو کالعدم اور غیرقانونی قرار دیا جائے، اور درخواست کے حتمی فیصلے تک گورنر راج کے اعلامیے کو معطل کیاجائے۔

عدالت نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کیخلاف درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے منظور کر لیں۔

اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، سردار اختر مینگل اور اخونزادہ حسین احمد بھی پشاور ہائیکورٹ پہنچے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، محمود خان اچکزئی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے معظم بٹ ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کردی، درخواست میں صوبے میں گورنر راج، ایمرجنسی کو کلعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔