امریکی میزائل دفاعی نظام کے ذخائر خطرناک حد تک کم؟ برطرف جنرل کی پیشگی وارننگ سامنے آگئی

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپریل میں، جنگ جاری ہونے کے دوران، جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا


ویب ڈیسک October 16, 2026

امریکی فوج کے برطرف کیے گئے سابق سربراہ جنرل رینڈی جارج نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے کئی ماہ قبل خبردار کیا تھا کہ امریکی میزائل دفاعی نظام کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہیں اور انہیں دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں 2030 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق جنرل رینڈی جارج نے دسمبر کے اواخر میں یہ خدشات ظاہر کیے تھے، جبکہ ایران کے خلاف جنگ تقریباً دو ماہ بعد شروع ہوئی۔

یہ معلومات ان امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آئی ہیں جو جنرل کے جائزے سے واقف تھے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپریل میں، جنگ جاری ہونے کے دوران، جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

میزائل دفاعی نظام کے ذخائر میں کمی سے متعلق یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کے دفاعی وسائل اور جدید میزائلوں کی دستیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں ذخائر کی موجودہ مقدار یا قلت کی مکمل تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔