پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک کی مقبوضہ بیت المقدس میں کولمبیا سفارتخانے کی مذمت.

وزراء نے کولمبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے


ویب ڈیسک October 16, 2026

پاکستان سمیت متعدد مسلم مملک نے مقبوضہ يروشلم میں کولمبیا کی جانب سے سفارت خانہ کهولے جانے کی سختی سے مذمت کردی ہے.

وزرائے خارجہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ریاست فلسطین، جمہوریہ ترکی، جمہوریہ جبوتی، جمہوریہ لبنان، ریاست لیبیا، جمہوریہ یمن، ریاست قطر، ہاشمی مملکت اردن، وفاقی جمہوریہ صومالیہ، ملائیشیا، مملکت سعودی عرب، ملائیشیا، مملکت سعودی عرب عوامی جمہوری جمہوریہ الجزائر، سلطنت عمان، شامی عرب جمہوریہ، اور جمہوریہ سوڈان نے اپنی مشترکہ بیان میں کہا کہ کولمبیا کی طرف سے یروشلم میں  سفارت خانے کے افتتاح کو مسترد کرتے ہیں.

وزرائے خارجہ نے اپنی مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ ایک ایسا قدم ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے اور امن پر مبنی دو ریاستی نظریے کو نقصان پہنچاتا ہے۔

وزراء نے اس بات کی توثیق کی کہ کوئی بھی اقدام یا فیصلہ جس کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے، یا اسے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنا ہے، کالعدم ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔ یہ موقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں، خاص طور پر سلامتی کونسل کی قراردادوں 476 (1980) اور 478 (1980) سے مطابقت رکھتا ہے، جو یروشلم کے کردار یا حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں اور ریاستوں سے اس شہر سے سفارتی مشن واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو کہ فلسطینی سرزمین کا حصہ ہے۔

وزراء نے کولمبیا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور اسے واپس لے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو برقرار رکھے، اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بشمول مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے ان کے حق کو متاثر کرتے ہیں.