فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی ر) کےان لینڈ ریونیو آفیسرز ایسوسی ایشن (آئی آر ایس او اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں مزید سٹرکچرل اصلاحات کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹرکچرل اصلاحات کے نام پر ایف بی آر میں مزید اکھاڑ پچھاڑ کے بجائے جاری اصلاحات کو مستحکم کیا جائے۔
اس حوالے سے ان لینڈ ریونیو افسران ایسوسی ایشن کی جانب سے دیئے گئے تحریری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ جب اصلاحات کے بڑے اقدامات تاحال زیرِ عمل ہیں تو مزید انتظامی تبدیلیوں پر غور کرنے کے بجائے موجودہ اصلاحات کو مستحکم کرنے اور ان کے نتائج کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ایسوسی ایشن نے بامعنی اصلاحات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے زور دیا کہ ادارہ جاتی تبدیلیوں کا فیصلہ معروضی جائزے، زمینی حقائق اور وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ڈیجیٹل انوائسنگ، پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) انضمام، کمپلائنس رسک مینجمنٹ (سی آر ایم)، پیداواری نگرانی اور فیس لیس ان لینڈ ریونیو سسٹم جیسے اہم اقدامات ابھی تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں، اس لیے انہیں مطلوبہ نتائج دکھانے کے لیے مناسب وقت دیا جانا ضروری ہے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اصلاحات اداروں کو مضبوط بنانے کا مسلسل عمل ہونا چاہییں، نہ کہ بار بار تجربات اور تنظیمِ نو کا سلسلہ، کیونکہ موجودہ اقدامات کا جائزہ لیے بغیر بار بار انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہونے، ادارہ جاتی تسلسل متاثر ہونے، عملی استعداد کمزور پڑنے اور محصولات کی وصولی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ایسوسی ایشن نے یاد دلایا کہ پاکستان میں 2009کے دوران انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کو ان لینڈ ریونیو کے تحت یکجا کرنے کا مقصد ٹیکس انتظامیہ میں ہم آہنگی، وسائل کے مؤثر استعمال اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنا تھا۔
پاکستان کے موجودہ منتشر ٹیکس نظام میں کاروباری اداروں کو وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر متعدد ٹیکس حکام کے ساتھ الگ الگ تعمیلی تقاضوں، رپورٹنگ کی ذمہ داریوں اور نفاذ کے طریقہ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے کاروباری اخراجات اور انتظامی پیچیدگیاں بڑھتی ہیں اور کاروبار کرنے میں آسانی متاثر ہوتی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اصلاحات کا حتمی مقصد ایک مربوط قومی ٹیکس نظام کا قیام ہونا چاہیےجس میں طریقہ کار ہم آہنگ، معلوماتی نظام باہم مربوط اور مختلف ٹیکسوں و دائرہ اختیار میں نفاذ کے اقدامات مربوط ہوں؛ لہٰذا اصلاحات کی سمت مزید انتظامی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے بجائے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور انضمام کو فروغ دینا ہونی چاہیے۔
ایسوسی ایشن نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اصلاحات پر عمل درآمد کرنے والے افسران سے بامعنی مشاورت پائیدار اصلاحات کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ ان کی کامیابی کا انحصار ادارہ جاتی اعتماد، عملی تسلسل اور متعلقہ افسران کی شمولیت پر ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ محصولات کا انتظام محض حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست کی استعداد، استحکام اور تسلسل کی بنیاد ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت اور ایف بی آر کی قیادت پر زور دیا کہ مزید ساختی تبدیلیوں پر غور کرنے سے پہلے جاری اصلاحات کو مستحکم کیا جائے، ان کے نتائج کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کی جائے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کے محصولات کے نظام کو ادارہ جاتی استحکام، تسلسل اور ہم آہنگی و انضمام پر مبنی طویل مدتی وژن کی ضرورت ہے، اس لیے بار بار تنظیمِ نو کے بجائے جاری اصلاحات کو مستحکم کرنا ہی آگے بڑھنے کا مناسب راستہ ہے۔