پشاور:
پشاور میں دیر کالونی اسکول سانحہ کے دوسرے روز بھی پورے شہر میں سوگ کا سماں رہا، اہم سیاسی، سرکاری و دیگر شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری رہا جنہوں نے نہ صرف متاثرہ اسکول بلکہ ورثا سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جمعرات کی صبح اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش واقعہ میں اسکول استانی سمیت 33 بچے جاں بحق ہوگئے تھے، آج اسکول کا معائنہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ پر مشتمل غیرملکی ٹیم نے بھی دورہ کرکے اسکول انفرااسٹرکچر کا جائزہ لیا جبکہ جاں بحق بچوں کے ورثاء سے بھی ملاقات کی۔
دورے کے دوران سیکریٹری پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی نے یو این وفد کو تفصیلی بریفنگ دی اور انہیں حقائق سے آگاہ کیا۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر امیرمقام، صوبائی وزیر داخلہ کفایت، وزیر صحت، مختلف محکموں کے مشیر اور دیگر سیاسی قائدین اور سرکاری افسران نے بھی ورثا سے ملاقاتیں کیں۔ ادھر واقعہ کی تحقیقات کے لیے انکوائریز کمیٹیز قائم ہیں تاہم اب تک کسی محکمے نے دورہ نہیں کیا ہے کہ وہ تحقیقات کریں۔
جاں بحق دو بچوں کے والد ذاکر اللہ نے بتایا کہ اس کے تین بچے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، بیٹی نے آکر خبر دی جب وہاں پہنچا تو بچوں پر ملبہ پڑا تھا، ان کا نکلنا مشکل تھا اور قیامت خیز مناظر تھے، ہر بندہ پریشان تھا، دونوں بیٹے ابوبکر اور محمد شہید ہوگئے جو دوسری کلاس میں تھے بچے ملبے تلے دبے تھے جو نظر بھی نہیں آرہے تھے انہیں نکال کر ریسکیو نے اسپتال منتقل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ پشاور سروس کلب میں نائب خطیب ہیں اور ان کا اصل تعلق دیر سے ہے ان کے بچے شروع سے ہی اسی سکول میں پڑھتے تھے، اسی طرح ایک بچے کو فیس نہ دینے پر فیس لانے کے لیے بھیجا گیا واپس آیا تو چھت گرچکی تھی اس کے عبداللہ، شایان اور محمد دوست تھے جو شہید ہوگئے۔
بچوں کے مطابق چھت ہلتی تھی جب وہ گھومتے تھے تاہم ٹیچر نے بتایا کہ وہ نہ گھبرائے کچھ نہیں ہوگا اسی طرح دیگر گھرانوں کے بھی بچے اس سانحہ میں شہید ہوچکے ہیں۔ اسی طرح پیر محمد کے خاندان کے پانچ بچے بھی اس سانحہ کا شکار ہوکر جاں بحق ہوچکے ہیں۔