امریکا دباؤ ڈال کر ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتا؛ صدر پزیشکیان

ایران طاقت کے استعمال اور دباؤ کے ذریعے مسلط کیے جانے والے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گا، صدر


ویب ڈیسک October 16, 2026
قطر میں منجمد 12 ارب ڈالرز میں نصف رقم جلد ہمارے حوالے کردی جائے گی؛ ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش نہیں رکھتے اور وہ ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیا ہیں لیکن امریکا کے دباؤ سامنے نہیں جھکیں گے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق صدر مسعود پزیشکیان نے امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں اور حالیہ مہینوں میں ہونے والے حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات انسانی ہمدردی کے اصولوں سے بالاتر اور ناقابل جواز ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف تباہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور ان کے ملک پر جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے تاہم امریکا یہ سمجھتا ہے کہ دباؤ ڈال کر ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران طاقت کے استعمال اور دباؤ کے ذریعے مسلط کیے جانے والے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گا۔

امریکا اور اسرائیل کے مارچ میں ایران پر حملے کے بعد سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کشیدہ ہے بلکہ یہ جنگ پھیل کر یمن اور سعودی عرب تک پہنچ گئی ہے جہاں حوثیوں نے باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کردی۔

مارچ سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے اور امریکی کوششوں کے باوجود تاحال یہ آبی گزرگاہ کھل نہیں پائی ہے جس سے دنیا میں تیل و گیس کی ترسیل رک گئی ہے اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔