محققین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں آن لائن اشتہارات کے ذریعے لوگوں کی ڈیوائسز کو ہیک کر رہی ہیں۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے وابستہ آن لائن حقوق کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب کے مطابق ویب پیجز پر دکھائے جانے والے اشتہارات کو لوگوں کی ڈیوائسز میں ایسا نقصان دہ سافٹ ویئر انسٹال کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو بعد میں ان کی جاسوسی کرتا ہے۔
محققین نے خبردار کیا کہ ان نقصان دہ اشتہارات کے ذریعے صارفین کے کسی اشتہار پر کلک کیے بغیر بھی ان کی ڈیوائسز میں اسپائی ویئر (جاسوسی کرنے والا سافٹ ویئر) انسٹال کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ان اشتہارات کو اس انداز میں مخصوص کیا جا سکتا ہے کہ وہ بالکل مطلوبہ افراد کو دکھائی دیں۔
سٹیزن لیب نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کے اس طریقہ کار کی پہلی معلوم مثال ہے جسے انہوں نے ایڈفیکشن کا نام دیا ہے۔
محققین نے خبردار کیا کہ ممکنہ طور پر اس قسم کے حملے اس سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ہو رہے ہیں۔
انٹرنیٹ پر اشتہارات اکثر ریئل ٹائم آکشن کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں۔ اس طریقہ کار میں ویب سائٹس اشتہارات دکھانے کے لیے اپنی جگہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو فروخت کرتی ہیں۔
یہ خودکار عمل روزانہ اربوں مرتبہ، ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں انجام پاتا ہے۔ ایسا ہر بار ہوتا ہے جب کوئی صارف ایسی ویب سائٹ کھولتا ہے جہاں اشتہارات دکھانے کے لیے جگہ موجود ہوتی ہے۔