کراچی؛ پولیس کی کارروائی، سونے کی مبینہ ڈکیتی کا معاملہ 24 گھنٹے میں حل، ملزمان گرفتار

واقعہ خاندانی تنازع سے متعلق تھا اور خاتون نے اپنے ڈرائیورکے ذریعے مبینہ طور پر ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا، پولیس


منور خان October 17, 2026
فوٹو: پولیس

کراچی کی ساحل پولیس نے ڈیفنس فیز 8 میں ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے سونے کی مبینہ ڈکیتی کا معمہ حل کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ڈرائیور سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ساحل پولیس کو جمعے کی شب اطلاع ملی تھی کہ کار سوار ملزمان شہری سے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا سونا اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے اور واردات کی اطلاع ملتے ہی ساحل پولیس نے ایس ڈی پی او درخشاں کی سربراہی میں فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش شروع کی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز اور تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کے ذریعے ڈکیتی کا معمہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں حل کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر کے گاڑی اور سامان برآمد کرلیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ واردات کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ واقعہ مبینہ ڈکیتی کا نہیں بلکہ خاندانی تنازع سے متعلق تھا اور ابتدائی تفتیش کے مطابق عائشہ نامی خاتون نے اپنے ڈرائیور حیدر کے ذریعے مبینہ طور پر ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا جس کے لیے ڈرائیور نے 2 افراد کی خدمات حاصل کیں۔

انہوں نے بتایا کہ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ واقعے میں ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا جو سونا بتایا گیا تھا وہ بھی مبینہ طور پر موجود نہیں تھا، مدعیہ کی جانب سے پولیس کو مزید بیان دیا گیا ہے کہ معاملہ ان کے خاندان سے متعلق ہے اور وہ فی الحال مزید قانونی کارروائی نہیں چاہتیں تاہم ساحل پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمان کے خلاف ضابطے کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔

ایس ایچ او ساحل فاروق سنجرانی کا کہنا تھا  کہ واقعہ فیز 8 خیابان خالد صبا کراسنگ کے پاس بتایا گیا تھا جبکہ عائشہ نامی خاتون کے پاس مدعیہ کی جانب سے سونا رکھوایا گیا تھا جسے واپس کرنے کے دوران ڈکیتی کی خود ساختہ واردات کا ڈرامہ رچایا گیا جسے پولیس نے ناکام بنا کر اصل حقائق سامنے لے آئی۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا، ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ساؤتھ مہزور علی اور ایس ایچ او ساحل سمیت پولیس کی پوری ٹیم کی کامیاب کاروائی پر انھیں شاباش دی اور کہا کہ گرفتار ملزم سے تفتیش کے ذریعے تمام تر حقائق سامنے لائیں جائیں اور واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے جبکہ پولیس حقائق کی روشنی میں کارروائی کرے اور کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے۔