اس کہانی کا کوئی انت نہیں

ناجائزسوسائٹیوں کے عہدیداران نے ماضی میں بھی قیمتی پلاٹوں کی بندربانٹ کی اور کانوں پر جوں بھی نہ رینگی


شہلا اعجاز October 18, 2026

’’ہم گزشتہ پچپن سالوں سے اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں اور آئندہ بھی لڑیں گے۔‘‘ یہ ایک جملہ جیسے دماغ سے چپک کر رہ گیا۔ اپنا حق اور لڑنا، کیا یہ کسی سیاسی رہنما کا جملہ ہے؟ ہرگز نہیں، یہ کسی سیاسی جماعت یا اس سے منسلک کسی فرد کی تقریر کا جملہ نہ تھا بلکہ یہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا سالانہ جنرل باڈی کا اجلاس تھا اور بات جس حق کی ہو رہی تھی وہ حق تھا مظلوم الاٹیز کو ان کے پلاٹ دلوانے کا۔

آگے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہے جو پچپن سالوں سے کھیل تماشہ چلتے چلتے 2026 ان پہنچا اور مظلوم الاٹیز گویا عوام اپنے حق سے ہنوز محروم ہی ٹھہرے۔ایک کتابچہ ہاتھ میں لیے بیٹھے رہے پھر ورق گردانی شروع کی تو پہلے صفحے یعنی سرورق کے پیچھے ایک رجسٹریشن کے سرٹیفکیٹ کی تصویر چھپی تھی جس میں تحریر تھا کہ آج تک اس سوسائٹی کے الاٹیز کو ان کی وہ زمین جس کی ادائیگی بھی وہ کر چکے ہیں ،نہیں ملی ‘کچھ کے بقایا جات کا بھی معاملہ چل رہا تھا ، موجودگی اور ثبوت کے ہمراہ پانی پر پُل بنے چلے جا رہے ہیں اور اس پل کے بعد کے نجانے کتنے ستوندیگر سوسائٹیز میں بن چکے ہیں جبکہ یہاں لوگ منتظر ہیں۔

’’ہمارا تو ٹینک بھی بن چکا تھا، میں خود جاتا تھا اور میں نے بڑی مشکلوں سے اس کی تعمیر کروائی تھی، کام ظاہر ہے کہ رک رک کر یعنی جب پیسہ آتا تو بنتا۔۔۔۔ اب ہم اپنے پلاٹ پر پہنچے تو انھوں نے ہماری ساری تعمیرات کو مسمار کرکے برابر کر دیا تھا اور وہاں لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے تو ہمیں بٹھا لیا اور تب مجھ پر انکشاف کیا کہ قبضہ مافیا کیا ہوتا ہے۔‘‘

یہ بات ان سوسائٹیوں کے اس سیکٹر کی ہو رہی ہے جہاں ایک ناجائز، غیر قانونی گوٹھ اور تجاوزات آکاس بیل کی مانند پھوٹے تھے اور پھر وہی ہوا، ناجائز ایک اور سوسائٹی کے قیام کے منصوبے، بل بورڈ، اشتہارات، دکانیں اور چھوٹے موٹے کئی ہوٹلز، صرف یہی نہیں یہ سلسلہ دیگر سیکٹرز میں پھیلتا چلا گیا۔

ناجائزسوسائٹیوں کے عہدیداران نے ماضی میں بھی قیمتی پلاٹوں کی بندربانٹ کی اور کانوں پر جوں بھی نہ رینگی۔ وقت پھسلتا گیا نجانے کتنے الاٹیز اپنے بچوں کو اپنے گھر کا خواب دکھا کر قبر تلے جا سوئے۔ اپنی زمین پر انجان لوگوں کو رہتا بستا دیکھ کر مظلوم لوگ کڑھتے رہے اور سلسلہ رکا نہیں۔

اس سے پہلے بھی 80 کی دہائی میں افغان مہاجرین کی آمد اور ان کی رہائش کے لیے کھلی زمین پر بٹھا دیا گیا اور جو بیٹھ گئے تو بیٹھ گئے ۔ پھر ایک سلسلہ نیا شروع ہوا جو مظلومیت، محرومیت مایوسی سے ہوتا قبضہ مافیا، دہشت اور لوٹ مار سے ہوتا اسلحہ کی نمائش تک چلا۔ اس میں تصویر کے پیچھے اور تصویر میں نظر آنے والے بااثر لوگ بھی ملوث تھے۔

پاکستان کے عوام نے ہمیشہ دل کھول کر مظلوم لوگوں کی مدد کی ہے چاہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر، ایران ہو یا کوئی اور، یہاں کے لوگوں کے دل بہت وسیع ہیں تب ہی خفیہ ہاتھوں نے اس وسعت اور نرم دلی کا ایسا فایدہ اٹھایا کہ اونٹ اور بدو کی اس کہانی کی مانند اونٹ خیمے کے اندر اور بدو باہر ہو گیا۔

لیکن کام پھر بھی جاری ہے دور دراز کے سیکٹرز پر سڑکوں کی مرمت اور باؤنڈری والز کے منصوبے بھی ہیں پر دل میں ایک خوف سا ہے کہ کیا ایک بار پھر اس بنے بنائے گلستان پر قبضہ مافیا ناگ کی مانند آ کر بیٹھ جائیں گے، لیکن عوام مایوس نہیں ہے کیونکہ مایوسی تو کفر ہے اندھیرا ہے۔ دوسرے دن ایک اور تقریب، کھلتے جھلملاتے چہرے، یادیں باتیں اور سنہرے لوگ جو اپنی زندگی کے تجربوں سے سیکھنے کے بعد نئی نسل کو منتقل کرنے کو تیار ہیں کہ ایسے ہی باضمیر لوگ ایک قوم کو منزل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں چاہے راہ میں کتنی ہی دشواریاں حائل ہوں۔

کتاب کی رونمائی کی اس تقریب میں خاص بات یہ تھی کہ 70 برس پہلے کا ایک نمونہ دوبارہ نئے کاغذ کی مہک کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ سب اچھا جا رہا تھا اپنائیت کا ایک خیال بھی ابھر رہا تھا کہ چاہت اور محبت کی ایک الگ ہی خوشبو ہوتی ہے۔

’’ہاں وہ میری سسرال والے ہیں۔‘‘

ایک جملہ اور یاد کچھ دکھ سے ابھری تھی، اپنا پہلا سلسلہ وار ناول ’’سنجوگ‘‘ جو ملک کے ایک مشہور و معروف رسالے میں چھپا تھا ،اس دکھ سے منسلک کچھ تحریر بھی کیا تھا کہ شاید اس طرح ان محبت کے مارے لوگوں کا کچھ حق ادا کر پائیں لیکن ایڈیٹنگ کے الگ مسائل سب لفظ خود ہی قتل کر دیے۔

ان کے والد ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے پاکستان بننے سے قبل ڈاکٹری کی تعلیم کے حصول کے لیے بحری جہاز میں بیٹھ کر انگلستان گئے تھے۔ اس قدر مذہب سے جڑے تھے کہ فرنگیوں کے کھانوں پر ذرا اعتبار نہ تھا کہ کہیں حرام نجس نہ ملا دیا ہو، لہٰذا آلو ابال ابال کر کھاتے رہے پھر ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی اور غیر منقسم ہندوستان لوٹے۔

لکھنو کی سرزمین کھاتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ اور ایک ڈاکٹر کے صاحبزادے، ذات میں کچھ غرور اور نخرے بھی تھے والد نے بڑے سے گھر کا ایک حصہ مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے مختص کر رکھا تھا لیکن وہ باپ کی طرح اتنے پڑھاکو نہ تھے۔ خاندانی روایات اور اقدار معاشرے میں ایک مقام سب ہی تو حاصل تھا اور پاکستان بننے کے بعد زندگی بدلتی گئی۔

’’ہم نے بھی اپنے والد محترم کی جائیداد کے سارے کاغذات بڑے سنبھال کر رکھے ہیں اب تک۔‘‘

’’کیوں؟‘‘ سوال میں ایک طنزیہ انداز پنہاں تھا جو ان کی معصومیت بھرے جملے پر ابھرا تھا۔

’’بھئی ہمارے والد صاحب کی جائیداد تھی وہاں تو ہمارے۔۔۔۔‘‘

’’اب ایسا کریں ان سب کو جمع کریں اور آگ میں جھونک دیں۔‘‘

’’ایں۔۔۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘ حیرانگی بھری ناراضی ابھری۔

’’تو اور کیا کہیں، اب آپ ان کاغذات کا کیا کریں گے، جب کرنے کا وقت تھا تب تو آپ نے کچھ کیا نہیں اور جن لوگوں کے پاس تنکا بھی نہ تھا وہ محلے دو محلے لے کر بیٹھے ہیں۔‘‘

اس طنز، اس سرزنش پر وہ بس مسوس کر رہ گئے۔

’’ابا! آپ نے بڑا غلط کیا، آپ چچا سے بھی مشورہ کر سکتے تھے۔‘‘

نوجوان بیٹا باپ کی اس کوتاہی پر خاموش نہ رہ سکا کہ نوے کی دہائی میں ایک ہی گھر میں سوتیلے بہن بھائیوں (جو ان سے عمر میں خاصے بڑے تھے) کے ساتھ رہنا، گو دیوار کھینچ کر چولہا چولی الگ کر لیا گیا تھا ، لیکن زندگی کے چھوٹے موٹے مسائل الجھنیں بھی بچوں کو ذہنی اذیت سے دوچار کر دیتی ہیں۔صاحب لوگوں کے نوکر بخوبی واقف تھے کہ پیسے کے زور پر عزت کیسے حاصل کی جاتی ہے اور بھی یہ ہو کر رہا۔

صاحب لوگ اپنے کاغذات کو سینے سے لگا کے رہے، پرسکون کیوں کسی کو پوچھتا اور صاحب لوگوں کے زیر نگرانی کام کرنے والے بڑے بڑے پلازوں، ملوں، فیکٹریوں، شورومز کے مالک بن بیٹھے۔ بات اتنی ہی ہوتی تو ٹھیک تھی کہ سب ایسے ہی پڑھتے آئے ہیں۔

سنا ہے اور افسوس بھی کیا ہے پر وہ چہرہ کیسے بھولے ایک نوجوان، معصوم، مایوس جو اپنے دیگر خاندان والوں کی زندگی کی چکا چوند سے بار بار الجھتا تھا اسے کوفت محسوس ہوتی تھی کہ ایسا ان کے ساتھ کیوں ہوا۔ پھر ملازمتوں کی دوڑ بھاگ نے بھی تھکا دیا زندگی کی آسائشات ایسے ہی تو میسر نہیں ہوتیں۔ سب کچھ بیچ باچ ایک سو بیس گز کے اس گھر میں سکونت اختیار کی، شادی ہوئی دو بچے ہوئے اور ذمے داریوں کا گھیرا بڑھا۔

’’نہیں ہوتا برداشت… اتنی سی کمائی میں کیسے گھر چل سکتا ہے؟‘‘

گھریلو مسائل سر اٹھانے لگے، بات اتنی بڑھی کہ بیوی بچے لے کر چلی گئی، ماں تو پہلے ہی گزر چکی تھی، باپ بھی رخصت ہوا اور اب تنہائیوں کے ناگ نے ڈسنا شروع کر دیا، ڈپریشن اس حد سر اٹھا چکا تھا کہ پستول کی ایک گولی نے ہمیشہ کے لیے ان کی نظر میں سارے مسائل کا خاتمہ کر دیا۔ اور اس دن اپنا وہ مجبور بھائی بہت یاد آیا جس نے اپنے لیے حرام موت کا انتخاب کیا تھا۔ اتنی روشنیوں میں بھی خودبخود آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔