یہ میرے سمندر کی لہروں کو اپنے سینے سے لگانے اور سمندر کی جولانی اور مدوجزر کو سمجھنے والے محنت ومشقت کرنے والوں کا وہ ’’لیاری‘‘ ہے جہاں زندگی کی خوشیاں سانجھے بانٹی جاتی ہیں، جہاں زندگی کو برتنے اور سمجھنے کے لیے مست ومگن وسرشاری میں گرفتار کرنے والے ’’وش ولے‘‘ کی لڈی اور جھومرکی موسیقی کے تارپور کو سمجھنا بھی دانش مندی مانگتی ہے۔
بھلا لیاری کے تہذیبی اور روایتی ڈانس’’لداخ‘‘ کے نکھرے اور ستھرے پن کو عالمی طور سے ’’گینز بک آف ورلڈ‘‘ میں جگہ پانے کی منزلت وآزادی کوموسیقی سے ناآشنا اور تنگ ذہن فرد بھلا کیونکر سمجھے گا، یہ وہ ’’لیاری‘‘ ہے جہاں زندگی کے مختلف مفاہیم کی اپنی ایک تاریخ ہے، لیاری ہی تو ہے جو دلوں سے کدورتیں نکال کر فراخدلی اور روشن خیالی تقسیم کرتا ہے، میرے ’’لیاری‘‘ کو دوئی سے نفرت ہے۔
وہ انسان کی حرمت، عزت اور توقیر کو سمجھنے والی وہ بستی ہے جہاں کے رنگ ڈھنگ کو اپنائیت سے ہی سمجھا جا سکتا ہے، ہاں ’’لیاری‘‘ اپنے بیری اور سماج دشمن کو بھی معاف کرنے پر جلدی راضی نہیں ہوتا، وہ آزاد فضا میں سب کے خیال اور احساسات کا ایسا ساتھی بن جاتا ہے جس کی محبت بھری چاشنی کی مٹھاس آپ کے سماجی ذائقے کی وہ عادت بن جاتی ہے جس میں محبت، امن، شانتی اور بے غرضی کے سوتے ہی پھوٹتے ہیں جو کراچی شہر کی پہچان اور سربلندی کا نشان بنتے ہیں۔
لیاری کے چاکیواڑہ کی قبل از پاکستان کی تہذیب یا تاریخ ہو یا آٹھ چوک کے سیاسی ہلچل اور جمہوریت کی سربلندی کے لیے مظاہرے اور احتجاج کا منفرد انداز، لیاری اپنے سیاسی وسماجی شعور کی بنیاد پر اپنی آبادی میں کسی آمر کو قبول نہیں کرتا ہے، اس بات سے باخبر رہا جائے کہ ’’لیاری‘‘ اپنی جانفشانی اور سب کو قبول کرنے کے جذبے کے سبب کھرے اور کھوٹے کی بھی تمیز رکھتا ہے۔
لیاری اپنی روایتی تہذیب کے زیر اثر اگر کسی کی تکریم یا عزت کرتا ہے تو اس کے منفی رجحان کو بھی جانتا ہے، لیاری کے درگزر کرنے کے عمل کو نہ ہی لیاری کے محبت سے سرشار دوستوں کی کمزوری سمجھا جانا چاہیے اور نہ ہی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کسی کی بھی منفی سوچ کو سمجھتے نہیں ہیں، جہاں لیاری بہت حوصلہ مند اور فراخدل ہے تو وہیں لیاری تنگ نظر سوچ کے اذہان کو اپنی بستی سے نکلا دینے کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ فیض احمد فیض کو بھلا کیا سوجھی کہ وہ سمندر کے سینے چیرنے والے ناخداؤں کی پسماندہ بستی میں علم وشعور کے دیئے جلانے پہنچ گئے؟ مجھے یقین ہے کہ فیض احمد فیض کو ان محنت کشوں کے چوڑے سینوں میں وہ محبت اورسرفروشی کی تمنا دکھی ہوگی جن کو بھانپ کر فیض احمد فیض نے اپناپڑاؤ لیاری میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔
لیاری کے مکینوں کے اسی ذوق و شوق اور علم و شعور کی لگن کو دیکھتے ہوئے ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض نے اپنا ٹھکانہ لیاری کو بنایا ہوگا، فیض احمد فیض ایسا علم شناس جانتا تھا کہ علم کے سوتے اگر لیاری سے نکلے تو یہی روشن خیالی کا کارواں عوام کے جمہوری عمل کا وہ شعوری نشان ثابت ہوں گے جن کی علم دوستی، محنت ومشقت سے ہی انسانی آزادی اپنی منزل پائے گی۔
شاید یہی وہ وجہ رہی ہوکہ ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض نے عبداللہ کالج کھڈہ لیاری کی پرنسپل شپ اپنے ترقی پسند ساتھی م، ر، حسان کے ساتھ مل کرقبول کی اور لیاری کے محنت کش اور پرخلوص مکینوںکے ساتھ چوپال بنائی، تھڑے پر بیٹھے اور علم و فنون کی وہ شمعیں جلائیں جن کی وجہ سے لیاری آج بھی آمرانہ قوتوں کیخلاف مزاحمت کا ایک عالمی مقام رکھے ہوئے ہے۔
بات یہاں نہیں رکتی بلکہ لیاری نے فیض احمد فیض کا ہم رکاب بن کر جب کراچی آرٹس کونسل کی بنیاد رکھی تو اس میں آرٹس کونسل بنانے کی فکر یہ تھی کہ ہر فن اور ثقافت، اپنے فن کی آزادی کا استعمال اور فنکارانہ صلاحیتوں کو بلا روک ٹوک اور بلامعاوضہ ادا کرکے سماج کی روشن خیال قدروں کو موسیقی کے تارپور سے مسحور کرے اور اپنے تھیٹر اور فنکارانہ صلاحیتوں سے کراچی آرٹس کونسل کے ذریعے سماج کی زندہ وروشن خیال قدر تہذیب وادب کو زندہ رکھے۔ یاد رہے کہ کراچی آرٹس کونسل میں پہلا تھیٹر گروپ بھی لیاری کے فنکاروں کی مدد سے فیض احمد فیض نے بنایا۔
کراچی میں تہذیب، فن، ادب اور موسیقی کے سرتار سمجھنے والوں کو کون بتائے کہ کراچی کی لیاری ہی کا ایک موسیقی کا استاد فیض محمد بلوچ (فیزوک) کراچی کی موسیقی کی آن بان شان تھا، کبھی لیاری کے استاد فیض بلوچ کی ’’سنگان منجان‘‘ کی بلوچی ’’بربط‘‘ اور ’’چنگ‘‘ کی دھن پرمحفل رقصاں رہا کرتی تھی، استاد فیض بلوچ نے ایران کے سیستان سے آکر محنت مزدوری کے لیے ’’لیاری‘‘ کو چنا اور یہیں کے ہوکے رہ گئے، یہی نہیں بلکہ بلوچی موسیقی کے لیلیٰ او لیلیٰ فیم کے فیض بلوچ اور نور بخش بلوچ کی موسیقی بھی لیاری کے دل جیتنے اور انھیں جھومنے کے مواقع دیتی رہتی ہے۔
ایسے ہی سوشلسٹ فکر کی تحاریک کو جلا دینے والی لیاری نوجوان تحریک، بی ایس او کی طلبہ تنظیم کی ترقی پسند سوچ اور کامریڈ لال بخش رند کی سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے لیے کی گئیں لیاری کی خدمات کو یا رحیم بخش آزاد ایسے تاریخ دان اور لسان دان کو، صبا دشتیاری ، ن، م، دانش اور نور محمد شیخ کی ترقی پسند ادبی مشقت کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔
آج بھی مذکورہ افراد کی سیاسی، ادبی اور فنکارانہ قدروں اور فکر کو سلامت رکھنے میں اور لیاری کے سماج میں جستجو ولگن کی شمع جلانے میں کہیں پروین نازمصروف عمل ہیں تو کہیں لال بخش رند کے خانوادے زرخان گفتگو کی بیٹھک سجا کر کراچی اور لیاری کے ذہنوں کو ترقی پسند سوچ کے سانچے میں ڈھالنے پر جتے ہوئے ہیں تو کہیں رخسانہ ایسی شائستہ لہجے کی صحافی اپنی نسل میں لیاری کا جوش وجذبہ بیدار رکھنے میں مصروف ہے اور کہیں امجد بلیدی اپنی روشن خیال سوچ کے تحت پورے کنبے کو لیاری کے لیے وقف کرنے میں سرگرم عمل ہے، ان سب کے جذبے اور لگن کو میراسلام ۔