مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ صدارتی مدت مکمل ہونے کے بعد 2030 میں عہدہ چھوڑ دیں گے اور آئین میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی جائے گی۔
یہ بات 71 سالہ صدر السیسی نے ہفتہ کے روز قاہرہ کے قریب نئے انتظامی دارالحکومت میں واقع ایجپشن ملٹری اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب میں کہی
مصری صدر نے کہا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مصری آئین کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔ 2030 تک کا عرصہ اگر میں زندہ رہا تو میری بطور صدر آخری مدت ہوگا۔ یہ معاملہ مکمل طور پر طے شدہ ہے اور اس پر اب کوئی بحث نہیں ہوگی۔
السیسی نے اعلان کیا کہ 2030 تک کے ملک کی قیادت کے لیے نئی نسل تیار کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ملٹری اکیڈمی میں 30 ماہ کا خصوصی لیڈرشپ پروگرام شروع کیا جائے گا۔
ان کے مطابق یہ پروگرام پی ایچ ڈی ہولڈرز اور ملکی و غیر ملکی جامعات کے قابل افراد کے لیے ہوگا، جنہیں ریاست، وسائل اور حکمرانی کے امور پر تربیت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا میں مصری ریاست کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک یہ ذمہ داری سنبھالنے کے قابل بیٹوں اور بیٹیوں سے بھر نہ جائے۔
اس منصوبے کے لیے پارلیمنٹ اسپیکر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جائے گی جس میں دانشور، سیاستدان، وزیر اعلیٰ تعلیم اور وزیر انصاف شامل ہوں گے۔
صدر السیسی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ حکومت آئین میں ایک اور ترمیم کرکے انہیں چوتھی مدت کے لیے بھی اہل بنا سکتی ہے۔
مصر کا موجودہ آئین 2014 میں سابق اسلام پسند صدر محمد مرسی کی 2013 میں فوجی برطرفی کے بعد منظور ہوا تھا، جس میں صدر کے لیے دو مرتبہ 4-4 سالہ مدت کی حد تھی۔
2019 میں ہونے والے ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی مدت 4 سال سے بڑھا کر 6 سال کر دی گئی اور عبوری شق شامل کی گئی جس سے السیسی کو تیسری بار انتخاب لڑنے کا موقع ملا۔
انہوں نے دسمبر 2023 میں چھ سالہ مدت کے لیے دوبارہ کامیابی حاصل کی جو 2030 میں ختم ہوگی۔
یاد رہے کہ جنرل السیسی 2013 میں مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کو ہٹا کر اقتدار میں آئے تھے اور 2014 میں پہلی بار صدر منتخب ہوئے تھے۔