عالمی انڈیکسز میں شماریاتی شعبدہ بازی اور ہم

جیو پالیٹکس ان سروے رپورٹس کا ایک غیراعلانیہ رہنما اصول ہے


خالد محمود رسول October 18, 2026

اقوامِ متحدہ کے ادارے UNDP کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ’’گلوبل ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس (MPI) 2026‘‘ کی رپورٹ جیسے ہی سامنے آئی، ہمارے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پر سنسنی خیز تبصروں کی دوڑ شروع ہو گئی۔ انتہائی بے جوڑ اور غیرمربوط نتائج کے باوجود شاذ ہی کسی نے نتائج کے تضادات پر غور کیا اور رپورٹ مرتب کرنے کے طریقہ کار کو پرکھنے کی زحمت کی۔

بس ہر طرف ایک ہی ہیڈلائن کی چنگھاڑ تھی کہ پاکستان میں کثیرالجہتی غربت کی شرح 38 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ بھارت میں یہ محض 16 فیصد اور بنگلہ دیش میں 15 فیصد کے قریب ہے۔ مشہور محاورے کا سا منظر تھا کہ ’’کتا کان لے گیا اور شہر کتے کے پیچھے دوڑ بھاگا۔‘‘

یہ ہمارا روایتی احساس کمتری ہے یا پھر دماغ کو تکلیف دینے سے گریز کہ ہم بغیر سوچے سمجھے اور حقائق کو پرکھے بغیر کسی بھی بین الاقوامی ادارے کے ناقص اعداد وشمار کو حرفِ آخر مان کر سینہ کوبی شروع کر دیتے ہیں، آہ و فغاں کا شور اور بھی بڑھ جاتا ہے، اگر اعداد وشمار میں ملک کی پسماندگی اور تحقیر کا پہلو نمایاں ہو۔ اس رپورٹ کے بے جوڑ نتائج کو ہی دیکھ لیجیے، کیا یہ اعداد و شمار واقعی زمینی حقائق کے عکاس ہیں یا یہ محض ’’شماریاتی ہیر پھیر‘‘ (Statistical Manipulation) کا کرشمہ ہیں؟

اس رپورٹ کے تین نمایاں انڈیکیٹرز ہیں: تعلیم، صحت اور معیار زندگی جنھیں ملا کر نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ عالمی معیشت میں غربت ماپنے کے مختلف پیمانے مستعمل ہیں جو ریسرچ ماڈل کی تشکیل اور اعداد وشمار کی سلیکشن کے اعتبار سے مختلف ہیں، عالمی مالیاتی اداروں کے علاوہ دنیا بھر میں مخلتف تھنک ٹینک ادارے بھی غربت شماری کے دھندے سے اپنا امیرانہ معیار زندگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

شاذ ہی ان میں کوئی ادارہ فیلڈ سرویز کا کشٹ خود اٹھاتا ہے۔ عالمی انڈکس ٹکسالی دھندے میں اپنا ایک چونکا دینے والا ماڈل بنا کر ڈھنڈورا پیٹنا اور دنیا کو باور کرانا ایک فن ہے کہ ’’کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے۔‘‘ حکومتوں کے نئے پرانے، ادھورے یا فرسودہ ڈیٹابیس اور کچھ غیرسرکاری اداروں کے کچے پکے اعداد وشمار اٹھا کر اپنی شاہکار رپورٹ تشکیل دینا ایک خاصا بڑا دھندا ہے۔

جیو پالیٹکس ان سروے رپورٹس کا ایک غیراعلانیہ رہنما اصول ہے۔ سرمایہ کاروں اور بڑی طاقتوں کے محبوب ممالک کے منفی نتائج کی پیکنگ خوشنما کر دی جاتی ہے یا پھر طریقہ کار میں میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا فلٹر کر دیا جاتا ہے۔ غربت شماری ہو، چائلڈ لیبر ہو، کرپشن گمانی ہو، صنفی شراکت سمیت بے شمار انڈیکس ہیں جن میں جیو پالیٹکس اور مارکیٹس کی پیشانی کے پڑنے والے ممکنہ بل کے کس بل میتھیڈولوجی میں نکال دیئے جاتے ہیں۔

اس حالیہ رپورٹ کے تناظر میں اگر ہم گینی انڈیکس (Gini Index) سمیت دیگر معاشی اور بین الاقوامی معاشی عدم مساوات کے اعداد وشمار کا پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے تناظر میں تقابلی اور تنقیدی جائزہ لیں تو اس رپورٹ کے نتائج ناقص اور میتھوڈالوجی کی یکساں بنیادوں سے محروم ثابت ہوتے ہیں۔

بھارت کی مثال لیجیے۔ بھارتی حکومت کے اپنے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بھارت میں اس وقت 80 کروڑ سے زائد افراد کو ’’پردھان منتری غریب کلیان اناج یوجنا‘‘ (PM-GKAY) کے تحت مفت یا انتہائی سبسڈائزڈ راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ تعداد بھارت کی کل آبادی کا تقریباً 57 فیصد حصہ بنتی ہے۔ جس ملک کی 57 فیصد آبادی کو اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ریاست کے فراہم کردہ راشن کا محتاج ہونا پڑے، وہاں یہ دعویٰ کرنا کہ صرف 16.4 فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے، عقلی اور سائنسی لحاظ سے ایک مذاق نہیں تو اور کیا ہے!

یہ تضاد کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ UNDP کی کثیرالجہتی غربت (MPI) ناپنے کا ناقص ماڈل ہے۔ اس ماڈل میں کسی انسان کی ’’معاشی خودکفالتی‘‘ (Economicb Self-Reliance) کو نہیں ناپا جاتا بلکہ صرف اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ کیا اس وقت اسے کھانا یا بنیادی سہولت میسر ہے یا نہیں۔

جب بھارتی حکومت 80 کروڑ لوگوں کو سرکاری خزانے سے مفت اناج بانٹتی ہے، تو UNDP کا شماریاتی ماڈل کاغذوں پر ان 80 کروڑ لوگوں کی خوراک کی ضروریات کو ’’پورا‘‘ فرض کر لیتا ہے یعنی 57 فیصد عوام کی شدید معاشی ’’محتاجی‘‘ کو رپورٹ نے غربت شمار ہی نہیں کیا!

غربت، عدم مساوات اور آمدنی کی تقسیم کو ناپنے کے لیے معاشیات میں ’’گینی انڈیکس‘‘ (Gini Index) کو بنیادی معیار مانا جاتا ہے۔ پیرس کے معاشی ادارے ’’ورلڈ ان ایکویلیٹی لیب‘‘ (World Inequality Lab) کی جانب سے جاری کردہ ’’World Inequality Report‘‘ کے مطابق، بھارت اور بنگلہ دیش دونوں میں عدمِ مساوات اس وقت تاریخی سطح پر ہے۔

بھارت میں ملک کی بالائی 10 فیصد آبادی کل قومی آمدنی کے 58 فیصد کی مالک ہے جبکہ نچلی 50 فیصد آبادی کے حصے میں محض 15 فیصد آمدنی آتی ہے۔ عدمِ مساوات کا یہ عالم ہے لیکن UNDP کی رپورٹ جو چشمے لگا کر لکھی گئی، اسے شدید غربت پر استوار یہ عدمِ مساوات نظر ہی نہ آ سکی۔

بنگلہ دیش میں گینی انڈیکس بڑھ کر 0.49 تک پہنچ چکا ہے جو معاشی ناہمواری کی خطرناک حد ہے لیکن اس رپورٹ کو یہ عدم مساوات اور اس کی بنیاد میں غربت دکھائی نہ دی۔

پاکستان کے کیس میں UNDP کی رپورٹ کے مطابق یہاں غربت کی شرح 38.3% دکھانے کی بڑی وجہ پرانے اعداد وشمار کا غیرمتوازن استعمال (Data Lag) ہے۔ پاکستان میں آخری بڑا کثیرالجہتی سروے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) اور وزراتِ منصوبہ بندی کے تحت کووڈ کے ایام کے آس پاس ہوا تھا۔

UNDP نے پاکستان کے لیے اسی پرانے ڈیٹا کو بنیاد بنایا جبکہ بھارت کے حال ہی میں تبدیل شدہ ہاؤس ہولڈ سروے (HCES) کو اپنایا۔ اس رپورٹ میں مختلف ممالک کے 2014 اور 2025 کے درمیان دستیاب سروے نتائج کو اپنے ون سائز فٹ آل ماڈل میں ڈال اور گھما کر جنوبی ایشیا کی حد تک بے جوڑ اور ناقص نتائج دیئے اور وہ بھی دھڑلے سے، خم ٹھوک کر…

پاکستان کا ایک بڑا معاشی سچ یہاں کی غیررسمی معیشت (Informal Economy) ہے، جہاں کئی تخمینوں کے مطابق ڈاکومنٹڈ اکانومی کے برابر دولت موجود ہے تاہم عالمی ادارے صرف سرکاری اعداد وشمار پر انحصار کرتے ہیں، نتیجتاً وہ عام پاکستانی کی حقیقی قوتِ خرید کا اندازہ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) بھی کروڑوں خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرتا ہے لیکن یہ وسیع سیفٹی نیٹ عالمی رپورٹس میں اس انداز میں شامل نہیں کیا گیا جیسے بھارت کی راشن اسکیم شامل کی گئی، جس کے سبب کم از کم رپورٹ کی حد تک وہاں غربت 16% دکھائی گئی۔

ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ عالمی ادارے ایسی رپورٹس مرتب کرتے وقت اتنے بڑے تضادات کو نظرانداز کیوں کر دیتے ہیں؟ اس کی ایک بنیادی وجہ جیوپولیٹکس اور عالمی منڈیوں کا دباؤ ہے۔ بھارت اس وقت مغرب کی اسٹریٹجک ضرورت اور ایک بڑی تجارتی منڈی ہے۔ عالمی مالیاتی وترقیاتی اداروں کے لیے یہ سودمند ہوتا ہے کہ وہ ایسی بڑی معیشتوں کے بارے میں ’’فیل گڈ‘‘ (Feel Good) بیانیہ قائم رکھیں تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔

اس کے برعکس پاکستان جیسے ممالک جو مالیاتی اور قرضوں کے دباؤ میں جکڑے ہوئے ہیں، ان کا منفی یا غیرمتوازن ڈیٹا کسی سخت اسکریننگ کے بغیر شائع کر دیا جاتا ہے اور ہمارے اپنے ادارے اور میڈیا بغیر پرکھے اس پر واویلا مچانا شروع کر دیتا ہے۔

متبادل معاشی حقائق اور عالمی ڈیٹا یہ ثابت کرتے ہیں کہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کوئی حتمی یا مقدس نہیں ہیں۔ حالیہ زیربحث رپورٹ اس قدر ناقص میتھوڈالوجی اور غیرحقیقی نتائج کی حامل ہے کہ اس پر اس قدر واویلا مچانے کی ضرورت ہی نہ تھی لیکن ہم احساس کمتری کے مارے لوگ دانش کا پلو پکڑنے کا مشکل کام کیوں کرتے! جب تک ہم رٹی رٹائی بین الاقوامی ہیڈلائنز پر اندھادھند یقین کرتے رہیں گے، تب تک ہم نہ تو اپنے معاشی مسائل کو درست سمجھ سکیں گے اور نہ ہی سچائی تک پہنچ سکیں گے۔