امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو اپنے جوہری عزائم یا پھر امریکا کی تباہ کن فوجی کارروائی میں سے کسی ایک کا جلد انتخاب کرنا ہو گا۔
امریکی ریاست ٹینیسی کی ایک یونیورسٹی میں ریزرو آفیسرز ٹریننگ کور کے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات تسلیم کرتا ہے یا فوجی کارروائی کا خطرہ مول لیتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ تہران اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے روایتی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ تیار کر رہا ہے جبکہ واشنگٹن کو اس کے جوہری عزائم پر بھی تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق امریکی فوجی طاقت مخالف قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ہیگسیتھ نے ایران پر حزب اللہ اور یمن کے حوثی گروپ کی مالی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے فوجیوں اور بحری جہازوں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
خطاب کے دوران امریکی وزیر دفاع نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن لاطینی امریکا میں ایران، چین اور روس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر اسے امریکا کے لیے تزویراتی لحاظ سے اہم بناتے ہیں۔