صدر زرداری کے دستخط کے بغیر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ممکن نہیں تھا، بلاول

پی پی نے ہمیشہ آئینی طریقے سے ایمرجنسی لگائی، فضل الرحمان ہم پر تنقید کریں مگر دہشت گردوں کے خلاف کھل کر بات کریں


اسٹاف رپورٹر October 18, 2026

کراچی:

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی بزدل ہے جو اپنی دھرتی کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں، پی پی کا فیصلہ صاف ہے آئینی اور قانونی طریقے سے صوبے بن سکتے ہیں، مولانا فضل الرحمان ہم پر سیاسی تنقید کرسکتے ہیں مگر دہشت گردوں کے خلاف مولانا کو کھل کر بات کرنی چاہیے تھی۔

18 اکتوبر سانحہ کارساز کی 19ویں برسی پر تقریب سے خطاب میں انہوں ںے سانحۂ کارساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ 18 اکتوبر ملکی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، شہید بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر دہشت گردی کے ذریعے انہیں نشانہ بنانے کی بزدلانہ کوشش کی گئی، استقبال کے لیے آنے والے جیالوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اپنی قائد کی حفاظت کی، سانحۂ کارساز کے شہداء کا لہو گواہی دیتا ہے کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور تشدد جمہوریت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، پیپلز پارٹی جمہوری اداروں کے استحکام، آئین کے تحفظ اور عوام کے حقوق کی پاسداری کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں ںے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، شہید محترمہ نے اپنے آخری جلسے میں بھی کہا تھا کچھ قوتیں سوات میں پاکستانی رٹ نہیں دیکھنا چاہتے، دو ہزار آٹھ میں پی پی نے جب حکومت بنائی ہم نے سوات کے پی میں آپریشن شروع کیے اور بی بی کا وعدہ پورا کیا، ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے کرتے دہشت گردوں کو شکست دلوائی، ہم نے وہ کر دکھایا جو پوری دنیا کی فوج افغانستان میں نہیں کر سکی۔

بلاول نے کہا کہ جو دہشت گرد پاکستان کے جیل میں تھے انہیں جیل سے آزاد کرایا گیا، پاکستان آج ان غلط فیصلوں کا نقصان اٹھا رہا ہے، آج ہم پھر اس جگہ پر پہنچ گئے ہیں جہاں کچھ قوتیں ہمارا جھنڈا سوات سے اتارنا چاہتی ہیں، خیبر سے خضدار تک دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ وزیراعلی کے پی بزدل تھا وزیر اعلی اپنی دھرتی کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں مگر پیپلز پارٹی سے مقابلے کے لیے تیار ہے، ہمارے یہاں دہشت گردی کے واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا کارساز واقعے میں سارے ثبوت دھو دیے گئے پیپلز پارٹی دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی تھی اب ہم نے پورا معاشرہ تیار کیا پاکستان کا ہر شہری دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے  ہم پر امن ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ یہ کہہ سکیں کہ ہم نے ملک میں بی بی کا خواب پورا کیا، ایم آر ڈی کی جب بنیاد رکھی تھی تو جو جماعتیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کرتی تھی ان کے ساتھ بیٹھیں، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے لیے سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کیا، ایم آر ڈی کی تحریک میں مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی مفاہمت کی گئی، شہید بینظیر بھٹو کی مخالفت کرنے والے بھی بعد میں سیاسی مفاہمت کا حصہ بنے۔

انہوں نے کہا کہ 1988 میں حکومت بنانے کے لیے بھی شہید بینظیر بھٹو کو سیاسی سمجھوتے کرنا پڑے، شفاف انتخابات ہوتے تو شہید بینظیر بھٹو کو دو تہائی اکثریت مل سکتی تھی، شہید بینظیر بھٹو نے ذاتی مفاد کے بجائے جمہوری نظام اور عوام کے مستقبل کو ترجیح دی، شہید بینظیر بھٹو نے پارٹی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کے مفادات کو بھی مقدم رکھا، اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے منظور ہوئی، اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے لیے تمام فریقین نے مل بیٹھ کر بات چیت کی، سیاسی مذاکرات میں درمیانی راستہ نکالنا اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے، سیاست میں کمپرومائز کا مطلب باہمی مشاورت سے قابلِ قبول راستہ تلاش کرنا ہے، جمہوریت میں سیاسی مفاہمت اور اتفاقِ رائے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، موجودہ سیاسی حالات میں منشور پر عمل درآمد کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے، بنیادی ایشوز پر عوام کو ریلیف دینا اور منشور پر عمل کرنا ضروری ہے۔

انہوں ںے کہا کہ سیاسی حکمتِ عملی ایسی ہونی چاہیے جس سے بنیادی ایشوز پر ڈیلیور کیا جا سکے اپنے منشور اور بنیادی اصولوں کا دفاع کرنا بھی سیاست کا اہم حصہ ہے موجودہ حالات میں مؤثر سیاست کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے،

ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی پالیسی کیا ہے، صدر زرداری کی دستخط کے بغیر یہ کام ممکن نہیں، پیپلز پارٹی کا فیصلہ صاف ہے آئینی اور قانونی طریقے سے صوبے بن سکتے ہیں، اگر یہ سیاسی شوشا نہیں ہے پھر جہاں اتفاق رائے موجود ہے وہاں صوبے کیوں نہیں بن رہے؟ گلگت میں کوئی پریشانی نہیں پھر صوبے کیوں نہیں بن رہے؟

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا حق ہے بحیثیت اپوزیشن وہ حکومت پر تنقید کریں، ایمرجنسی قائم کرنے کا جہاں تک ذکر ہے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور قانونی طریقے سے ایمرجنسی لگائی، مولونا فضل الرحمان کی جماعت کے لوگ بھی دہشت گردوں کے حملوں میں شہید ہوئے مولانا فضل الرحمان ہم پر سیاسی تنقید کر سکتے ہیں دہشت گردوں کے خلاف مولانا کو کھل کر بات کرنی چاہیے تھی، جہاں بلوچستان اور کے پی میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، ایک صوبے کی حکومت کا وزیر اعلی جواب دے رہا تھا لیکن مولانا صاحب انکاری تھے، دہشت گردی کو لے کر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔