کراچی:
کراچی میں سٹی وارڈنز اور ریلوے پولیس کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا۔
ڈائریکٹر سٹی وارڈنز صائم عمران کی مدعیت میں ریلوے پولیس اہلکاروں کے خلاف اغوا، تشدد اور نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق صائم عمران کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ سے ناتھا خان سے پہلوان گوٹھ تک سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے اور وہ گزشتہ روز بھی وہاں ٹریفک مینجمنٹ کی ڈیوٹی پر موجود تھے۔
صائم عمران نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او کینٹ احسن رشید پولیس اہلکاروں کے ہمراہ وہاں آئے، انہیں مارا پیٹا اور زدوکوب کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جہاں ان پر تشدد کیا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق صائم عمران کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے افسران کی ایما پر پاؤں پکڑنے اور جوتا چاٹنے کے لیے کہا گیا، انکار کرنے پر مزید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ تشدد کے باعث صائم عمران بے ہوش ہوگئے اور جب ہوش آیا تو وہ عباسی شہید اسپتال میں موجود تھے۔
کے ایم سی کی جانب سے شاہراہ فیصل تھانے میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ واقعے میں عائد کیے گئے الزامات پر ریلوے پولیس کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دریں اثنا میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے واقعے کے حوالے سے کہا کہ ریلوے اہلکاروں نے کے ایم سی افسر کے ساتھ بہت زیادتی کی جس پر ہم قانونی کارروائی کررہے ہیں اور ایف آئی آر درج کرادی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کام کرتے ہیں تو مشکلات بھی آتی ہیں لیکن ہم اس شہر کے ساتھ کسی کو بھی زیادتی نہیں کرنے دیں گے، کے ایم سی عملے کو یقین دلاتا ہوں کہ انکا میئر انکے ساتھ کھڑا ہے۔