کچھ ایسا کریں کہ کل بھی پیٹ بھر سکے

اور جو اناج ، پھل اور سبزیاں دوکان ، ریسٹورنٹ اور گھروں تک پہنچ بھی جاتی ہیں ان کا بھی بیس فیصد استعمال کے بغیر یا دوران ِ استعمال ضایع ہو جاتا ہے


وسعت اللہ خان October 20, 2026

کوئی اندازہ ہے کھیت سے پلیٹ تک آتے آتے ہم کتنا کھانا ضایع کر بیٹھتے ہیں اور اپنی اس حرکت سے کتنے کروڑ لوگوں کے پیٹ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں ؟ عالمی ادارہِ خوراک بتا رہا ہے کہ جو اناج ، پھل اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں ان کی تیرہ فیصد سالانہ پیداوار بازار تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کے مرحلے میں ضایع ہو جاتی ہے۔صرف اس نقصان کی مالیت ہی چار سو ارب ڈالر ہے۔

اور جو اناج ، پھل اور سبزیاں دوکان ، ریسٹورنٹ اور گھروں تک پہنچ بھی جاتی ہیں ان کا بھی بیس فیصد استعمال کے بغیر یا دوران ِ استعمال ضایع ہو جاتا ہے۔یہ مقدار ایک ارب ٹن سے زائد ہے۔یعنی یہ اتنا رزق ہے کہ اگر اس کی بیس ٹن مقدار ایک ٹرک میں ڈالی جائے تو سوا پانچ کروڑ ٹرک درکار ہوں گے۔اس ضایع شدہ مقدار سے دنیا کے لگ بھگ بیس فیصد بھوکوں یا ناکافی غذائیت سے دوچار انسانوں کی سال بھر کی غذائی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔

سب سے زیادہ غذا گھروں میں ( ساٹھ فیصد) ، اس کے بعد ریسٹورنٹس میں ( اٹھائیس فیصد) اور دوکانوں اور گوداموں میں ( بارہ فیصد) پڑے پڑے گل سڑ جاتی ہے یا کچرے میں پھینک دی جاتی ہے۔اس مجموعی نقصان کی عالمی معاشی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سالانہ ہے۔

ظلم یہ ہے کہ اٹھائیس فیصد زیرِ کاشت عالمی رقبے ( ساڑھے پانچ ارب ایکڑ ) پر جو بھی غذائی شے اگتی ہے وہ بنا استعمال یا دورانِ استعمال ضایع ہو جاتی ہے (یہ رقبہ کینیڈا کے رقبے سے بھی زیادہ ہے)۔سوچیِے اس ضایع شدہ خوراک پر کتنا پانی ، کھاد اور محنت صرف ہوتی ہے۔اور پھر گلی سڑی خوراک سے جو گیسیں ریلیز ہوتی ہیں وہ ماحولیاتی گیسز کے آٹھ سے دس فیصد کے برابر ہیں۔

اگر ضایع شدہ خوراک کی مقدار کو تمام انسانوں پر تقسیم کیا جائے تو اوسط ایک سو بتیس کیلوگرام سالانہ بنے گا۔اگر خوراک بچانے والے سرِ فہرست ممالک کو دیکھا جائے تو اسپین میں خوراک ضایع ہونے کا سالانہ اوسط انتالیس کیلوگرام اور روس میں چھپن کیلوگرام فی کس ہے۔

جبکہ چھ لاکھ آبادی والا مقبول سیاحتی مسلمان ملک مالدیپ خوراک ضایع کرنے والی بین الاقوامی انڈیکس میں اول ہے۔وہاں سالانہ فی کس دو سو ساٹھ کیلوگرام خوراک ضایع ہوتی ہے۔

اس کے بعد شام ، ڈومینیکن ریپبلک ، سیشلز ، میکسیکو اور تیونس ہیں جہاں سالانہ دو سو دس کیلوگرام فی کس خوراک ضایع ہوتی ہے۔اگر ہم جنوبی ایشیا کا جائزہ لیں تو بھوٹان میں فی کس سالانہ اکسٹھ کیلوگرام ، بھارت میں ستانوے کیلو گرام ، سری لنکا میں ایک سو اٹھارہ کیلوگرام ، بنگلہ دیش میں سوا سو کیلوگرام ، نیپال میں ایک سو پینتیس کیلوگرام اور افغانستان میں ایک سو انہتر کیلو گرام جبکہ پاکستان میں ایک سو تہتر کیلوگرام فی کس سالانہ خوراک ضایع ہو جاتی ہے۔یعنی اس معاملے میں بھی پاکستان جنوبی ایشیا میں آگے آگے ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( یو این ڈی پی ) کے مطابق پاکستان میں اس وقت غریبی بڑھنے کی رفتار بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ ہے۔ یہاں لگ بھگ اڑتالیس فیصد آبادی غربت کی بین الاقوامی تعریف پر پورا اترتی ہے۔گلوبل ہنگر انڈیکس دو ہزار چھبیس میں ایک سو بائیس ممالک کی رینکنگ میں پاکستان ایک سو چھ نمبر پر ہے جہاں ساڑھے پچیس فیصد آبادی بھوک کے چنگل میں ہے۔سولہ فیصد آبادی ناکافی غذائیت کا مسلسل شکار ہے۔چنانچہ پانچ برس سے کم عمر کے لگ بھگ چونتیس فیصد پاکستانی بچوں کی جسمانی نشوونما نارمل نہیں ہے اور آبادی ہے کہ مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اس آبادی کا پیٹ بھرنے کے لیے گندم کی ناکافی پیداوار کے سبب تقریباً ایک ملین ٹن گندم باہر سے منگوانا پڑ رہی ہے۔

 اس پس منظر میں اب ہمارا یہ کارنامہ دیکھئے کہ فوڈ سیکیورٹی کی وزارت کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں جتنی بھی خوراک پیدا ہوتی ہے اس کا کم ازکم بیس فیصد ( دو کروڑ ٹن ) اور بین الاقوامی آنکڑوں کے مطابق چالیس فیصد ( ساڑھے تین سے چار کروڑ ٹن ) بلا استعمال ضایع ہو جاتا ہے۔یعنی چار ارب ڈالر مالیت کی خوراک ہم اگا کر مٹی میں ملا دیتے ہیں۔ ریسٹورنٹس ، شادی بیاہ اور دیگر استقبالیوں کے لیے جس پیمانے پر کھانا تیار ہوتا ہے اس کا بمشکل ساٹھ فیصد ہی پیٹ میں اترتا ہے۔یہ وہ خوراک ہے جو کسی نہ کسی طرح کھیت سے ٹرانسپورٹ ہو کر کسی دوکان سے گذرتی ہوئی کسی ریستوران ، شادی ہال اور گھر کے کچن تک پہنچ کر پکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔پھر بھی اس کا چالیس فیصد ضایع ہو جاتا ہے۔

مگر یہ ناشکری صرف ہم تک محدود نہیں بلکہ گلوبل ہے۔یوں سمجھئے کہ ہر پانچ پلیٹ کھانے میں سے ایک پلیٹ کھانا کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے یعنی سالانہ ایک ارب ٹن سے زائد کھانا۔یہ وہ دنیا ہے جس میں کم ازکم پینسٹھ کروڑ لوگ رات کو بھوکے پیٹ سوتے ہیں ( یعنی ہر تیرہواں انسان )۔ان میں سے آدھے فاقہ زدگان افریقہ میں بستے ہیں۔ (بھوک کے شکنجے میں کسے ممالک کی رینکنگ میں صومالیہ ، کانگو، چاڈ ، مڈغاسکر ، سوڈان ، جنوبی سوڈان ، برونڈی اور یمن علی الترتیب چوٹی پر ہیں )۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ان حالات میں ہم اپنا ضمیر ذرا سا جگا کر خود کو معمولی سا سدھار پائیں ؟ بس اتنا کر لیں کہ بازار سے بنیادی اشیا اتنی ہی مقدار میں خریدیں جو ہفتہ وار یا ماہانہ گھریلو ضروریات کے لیے کافی ہوں۔آج کل کھانے پینے کی اشیا پر ’’ فلاں تاریخ تک استعمال کرلیں‘‘ جیسی ہدایات درج ہوتی ہیں۔مگر ان میں سے بہت سی اشیا آپ پھینکنے کے بجائے ایکسپائری ڈیٹ کے کم ازکم دو ہفتے بعد تک بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ جن گھروں میں فریج یا ڈیپ فریزر ہے اسے منہ تک بھرنے کے بجائے بس اتنی ہی اشیا ٹھونسیں جو زیادہ سے زیادہ مہینے بھر میں استعمال ہو جائیں۔روزانہ بس اتنا کھانا پکائیں جو رات تک ختم ہو جائے اور بچ بھی جائے تو پھینکنے کے بجائے اردگرد موجود بیسیوں مستحقین میں سے کسی ایک کو خاموشی سے دے دیں تاکہ وہ بھی چین کی نیند سو سکے۔

میری نانی رات تک بچی خوراک اگلے دن کسی اور ڈش کی شکل میں بدل کے کھلانے کی ماہر تھیں۔بس اس ہنر کے لیے ذرا سی تربیت اور سلیقہ درکار ہے تاکہ باسی کھانے کو تازہ بنایا جا سکے۔ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ مدعوئین کو امپریس کرنے کے چکر میں اپنی جیب پھاڑ ڈالیں۔اتنا کھانا منگوائیں جو سب آرام سے کھا لیں۔بچ جائے تو پیک کروا کے گھر لے جائیں یا راستے میں یا آس پڑوس میں کسی کو خوشدلی سے سونپ دیں۔ دعائیں بھی ملیں گی اور پیسہ بھی بچے گا۔

کسی شادی بیاہ یا پارٹی میں اپنی پلیٹ پر خوراک کا کوہِ گراں نہ بنائیں۔اس میں یہ قباحت ہے کہ آپ سے یہ ماؤنٹ ایورسٹ ایک تو پورا ختم نہیں ہو گا اور آس پاس کے لوگ بھی یہ منظر دیکھ کر آپ کے بارے میں عجیب و غریب ناقابلِ بیان باتیں سوچنے لگیں گے۔لہذا خود کو شرمندگی سے اور پیٹ کو بے جا بوجھ سے بچائیں۔یقین جانئے نہ تو تقریب میں کھانا ختم ہو گا اور نہ ہی یہ آپ کا آخری کھانا ہے۔چنانچہ میز پر لوٹ مار میں شریک ہو کر اپنے حسب نصب کا پتہ نہ چھوڑئیے۔ خود کو اشرف المخلوقات سمجھئے نہیں ثابت بھی کیجیے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)