کچھ فلمیں سینما ہال میں ختم ہو جاتی ہیں اور کچھ ہمارے ساتھ گھر تک چلی آتی ہیں۔ میرے لیے روسی سینما ہمیشہ دوسری قسم میں رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ روسی زبان اور روسی ثقافت سے میرا تعلق کتابوں اور کلاس روم تک محدود نہیں رہا۔ طالب علمی کے زمانے سے لے کر تدریس کے طویل سفر تک روسی فلمیں بھی میرے ساتھ ساتھ چلتی رہی ہیں۔ کبھی انھوں نے ہنسایا، کبھی اداس کیا اور کبھی کسی ایسی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا جس پر فلم ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک سوچتی رہی۔
اسی لیے جب اسلام آباد میں حالیہ روسی فلمیں دیکھنے کا موقع ملا تو میں محض ایک تماشائی کی حیثیت سے سینما ہال نہیں گئی۔ میرے ساتھ کئی دہائیوں کی یادیں بھی تھیں۔ ذہن میں پرانی سوویت فلموں کے کردار، مکالمے اور مناظر تھے۔ دل میں ایک تجسس بھی تھا: جس روسی سینما سے میں نے برسوں پہلے محبت کی تھی، کیا آج کا روسی سینما بھی مجھے ویسے ہی چھو سکے گا؟
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جواب کسی بڑے دعوے میں نہیں ملا۔ وہ آہستہ آہستہ چار مختلف کہانیوں کے ذریعے سامنے آیا۔
’’سنہری چابی: پینوکیو کی ایک نئی کہانی ‘‘دیکھتے ہوئے مجھے بار بار محسوس ہوا کہ بچوں کی کہانیاں دراصل صرف بچوں کے لیے نہیں ہوتیں۔ لکڑی کا ایک ننھا سا کردار، ایک تنہا کاریگر اور ایک گھر کی خواہش۔ کہانی بظاہر پریوں کی دنیا میں چلتی ہے لیکن اس کے جذبات بہت حقیقی ہیں۔ پاپا کارلو کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ والدین کی محبت، تنہائی اور اولاد کی خواہش کے لیے کسی مترجم کی ضرورت نہیں ہوتی یہ کسی خاص ثقافت تک محدود نہیںہوتی۔ روس ہو یا پاکستان، یہ احساس فوراً پہچانا جاتا ہے۔
پھر ’’چیبی 2: میرا پیارا ننھا دوست ‘‘ آیا اور سینما ہال کا مزاج ہی بدل گیا۔ چیبوراشکا اب کچھ بڑا ہو چکا ہے، آزادی آزمانا چاہتا ہے اور گینا اسے ذمے داری اور اچھے رویے کا مطلب سمجھانے میں لگا ہے۔ ایک سالگرہ کی تقریب میں اس کی شرارت سب کچھ الٹ پلٹ کر دیتی ہے اور پھر بچوں کا پہاڑوں کی طرف نکل جانا ہنسی کو اچانک فکرمندی میں بدل دیتا ہے۔ لیکن اس سارے ہنگامے کے پیچھے ایک بہت مانوس سی گھریلو دنیا آباد ہے۔
مجھے یہ دنیا اجنبی نہیں لگی اور سب خاصا پاکستانی لگا۔ ہمارے گھروں میں بھی محبت اکثر نصیحت کی صورت میں آتی ہے، ناراضی کے پیچھے فکر چھپی ہوتی ہے اور بعض اوقات ایک ہی گھر میں سب لوگ ایک دوسرے سے محبت بھی کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات بھی نہیں سن رہے ہوتے۔ فلم اسی چھوٹی سی حقیقت کو ہنسی کے ساتھ سامنے رکھ دیتی ہے کہ گھر صرف ساتھ رہنے سے نہیں بنتا، ایک دوسرے کو سننے سے بنتا ہے۔
’’بے بی ‘‘نے فضا بالکل بدل دی۔ دونیتسک کا اٹھارہ سالہ دیما ایک عام نوجوان ہے۔ اس کی دنیا ریپ طرز کی موسیقی اور شہرت کے خوابوں کے گرد گھومتی ہے۔ پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ماں محاصرے میں گھرے ماریوپول شہر میں پھنسی ہوئی ہے اور اس سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔ وہ اپنی موسیقی ایک طرف رکھ کر اسے ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ یوں ایک نوجوان کی ذاتی دنیا اچانک جنگ کی بے رحم حقیقت سے ٹکرا جاتی ہے اور کہانی رفتہ رفتہ ایک بیٹے اور ماں کے تعلق کی کہانی بن جاتی ہے۔
فلم دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار یہ بات آتی رہی کہ کبھی حالات ایک ہی لمحے میں وہ ذمے داری سامنے رکھ دیتے ہیں جس کے لیے انسان خود کو تیار نہیں سمجھتا۔ فوجی یونٹ میں دیما کو "بے بی" کے نام سے پکارا جانے لگتا ہے۔ میرے لیے اس کہانی کی اصل قوت اسی تبدیلی میں ہے، جہاں ایک بے فکر نوجوان حالات کی سختی سے اچانک زندگی کی سنگین ذمے داریوں کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ زندگی انسان کو بالغ ہونے کے لیے ہمیشہ مہلت نہیں دیتی؛ کبھی ایک ہی لمحہ بچپن اور پختگی کے درمیان پوری مسافت طے کرا دیتا ہے۔
اور پھر ’’لاڈوگا کے فرشتے‘‘۔ شاید اسی فلم کے لیے میں ذہنی طور پر سب سے زیادہ تیار تھی، اور شاید اسی لیے پردے پر اسے دیکھتے ہوئے خود کو سب سے کم تیار پایا۔ لینن گراڈ کے محاصرے کے بارے میں، میں نے برسوں پڑھا بھی ہے اور پڑھایا بھی۔ تانیا ساویچیوا کی مختصر سی ڈائری، محصور لینن گراڈ میں گونجتی اولگا برگولٹس کی آواز اور منجمد جھیل لاڈوگا پر قائم وہ راستہ جسے تاریخ نے "روڈ آف لائف" کے نام سے یاد رکھا، یہ سب میرے لیے نئی باتیں نہیں تھیں۔ لیکن کتابوں میں پڑھی ہوئی تاریخ اور بڑی اسکرین پر سانس لیتی تاریخ میں بہت فرق ہوتا ہے۔
فلم میں یہ نوجوان کھلاڑی کسی مقابلے کی تیاری نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ وقت اور دشمن دونوں کے خلاف ایک دوڑ میں ہوتے ہیں۔ برف پر ہر قدم خطرناک ہے اور ہر گزرتا لمحہ قیمتی۔ انھیں نہیں معلوم کہ اگلا قدم انھیں منزل کے قریب لے جائے گا یا برف ان کے نیچے سے ٹوٹ جائے گی۔ پھر سامنے آتے ہیں وہ بچے جنھیں ہر حال میں بچانا ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب میرے لیے یہ فلم محض ایک کہانی نہیں رہی، بلکہ انسانی ہمت، ذمے داری اور بقا کی ایک پْرعزم جدوجہد بن گئی۔
میں خاموش بیٹھی اسکرین دیکھتی رہی اور آنسو بے اختیار بہتے رہے۔ پہلے انھیں روکنے کی کوشش کی، پھر یوں لگا جیسے اس کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ سینما ہال میں صرف میری نہیں، بہت سی آنکھیں نم تھیں۔ میں ان بچوں کے لیے رو رہی تھی جو ابھی جنگ کو سمجھنے کی عمر میں بھی نہیں تھے، اور ان نوجوانوں کے لیے بھی جو چند ہی لمحوں میں ان کے محافظ، سہارا اور ان کے لیے فرشتے بن گئے تھے۔ شاید یہی احساس اس لمحے کو میرے لیے اور بھی گہرا کر گیا۔ سینما ہال کی خاموشی اور میرے آنسو جیسے ایک ہی کیفیت کا حصہ بن گئے تھے۔ فلم پردے پر چل رہی تھی، مگر برسوں سے پڑھی ہوئی تاریخ اچانک میرے لیے بہت ذاتی ہو گئی تھی۔ لاڈوگا کے فرشتے ختم ہوئی تو میں فوراً اپنی نشست سے نہیں اٹھی۔ آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور دل بھاری تھا۔ کچھ فلمیں ختم ہوتے ہی آپ ان پر بات کرنا چاہتے ہیں، مگر اس فلم کے بعد میں کچھ دیر خاموش رہنا چاہتی تھی۔
شاید اسی خاموشی میں مجھے اپنے اس سوال کا جواب بھی مل گیا جو میں سینما ہال میں لے کر گئی تھی۔
ان چاروں فلموں میں مجھے روس کے چار مختلف چہرے دکھائی دیے۔ ایک میں بچپن اور پریوں کی دنیا تھی، دوسری میں خاندان اور ہنسی، تیسری میں ایک بیٹے کی بے چینی، اور چوتھی میں تاریخ، قربانی اور انسانی ہمدردی۔ شاید سینما کی سب سے بڑی طاقت بھی یہی ہے کہ وہ ایک ہی ملک کو اتنے مختلف انسانی تجربات کے ذریعے ہمارے سامنے لے آتا ہے۔
ہم اکثر کسی ملک کو خبروں کے ذریعے جانتے ہیں۔ خبریں ہمیں حکومتیں، تنازعات، معاہدے اور بیانات دکھاتی ہیں۔ فلم کسی ملک کے گھر کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ وہاں بچے شرارت کرتے ہیں، والدین پریشان ہوتے ہیں، لوگ ہنستے ہیں، کسی کو کسی کا انتظار ہوتا ہے اور مشکل وقت میں کوئی اجنبی کسی اجنبی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔
روسی زبان پڑھاتے ہوئے میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ کسی زبان کے الفاظ سکھانا نسبتاً آسان ہے، لیکن اس زبان کے پیچھے موجود لوگوں کو سمجھانا کہیں زیادہ مشکل۔ کبھی کبھی ایک اچھی فلم وہ کام کر دیتی ہے جو کئی لیکچر نہیں کر پاتے۔
سینما ہال سے باہر نکلتے ہوئے مجھے اپنے طالب علمی کے وہ دن یاد آئے جب سوویت فلموں کے ذریعے روس میرے لیے آہستہ آہستہ ایک مانوس دنیا بنتا گیا تھا۔ شاید آج کے کسی نوجوان پاکستانی کے لیے سنہری چابی، چیبی 2: میرا پیارا ننھا دوست، بے بی یا لاڈوگا کے فرشتے بھی ایک ایسا دروازہ کھول دیں جو روس کو محض خبروں میں نظر آنے والے ایک ملک کے بجائے ایک جیتی جاگتی انسانی دنیا کے طور پر اس کے سامنے لے آئے۔
فلم ختم ہوتی ہے، روشنیاں جل جاتی ہیں اور لوگ اپنی نشستوں سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن اچھی فلم کا اصل سفر شاید وہیں سے شروع ہوتا ہے۔
(مصنفہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد میں شعبہ روسی زبان کی سربراہ ہیں اور انھیں پشکن میڈل سے نوازا جا چکا ہے۔)