انسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن، سپریم کورٹ

ممکن نہیں عینی شاہد یقین سے بتا سکے فائر مقتول کے جسم کے کس مقام پر لگا


جہانزیب عباسی October 19, 2026

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے قتل کیس میں عینی شاہدین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی عینی شاہد کیلیے ناممکن ہے اچانک ہونے والے مہلک حملے کے دوران وہ فضا میں تیزی سے سفرکرتی ہوئی گولی کی حرکت کا تعاقب کرے اوریقین کے ساتھ بتا سکے کہ ہرفائر مقتول کے جسم کے کس مقام پر لگا۔

انسانی ذہن سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی وہ کسی تیز رفتارکیمرے کی طرح کام کرے گا،ایک غمزدہ بیٹا جس نے اپنی ماں کو قتل ہوتے دیکھا ہو،اس سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ حکام کو واقعے کی اطلاع دینے سے پہلے جائے وقوعہ پر اپنی والدہ کے جسم کا باقاعدہ معائنہ کرے ۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلے میں کہاکہ فوجداری قانون کے تحت انسانی رویے کوکسی ایک مقررہ فارمولے میں محدودنہیں کیا جا سکتا،نہ توقع کی جا سکتی ہے ہرگواہ واقعات پر ایک جیسا ردِعمل ظاہر کرے گا،عمر قیدکی سزابرقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کی جاتی ہے۔

ملزم اظہر اور شریک ملزم کو خاتون کوقتل کرنے کے الزام میں نامزدکیاگیا تھا۔ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی جبکہ شریک ملزم کو بری کردیا۔