اسلام آباد:
وزارتِ خزانہ اور آئی ایم ایف کے زیرِ اہتمام پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کی 2 روزہ ورکشاپ کا آغاز ہو گیا۔
ورکشاپ کی تقریب میں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے افتتاحی کلمات ادا کیے، جبکہ آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور شعبۂ مالیاتی امور کے ڈائریکٹر روڈریگو والڈیز بھی افتتاحی کلمات میں شریک ہوئے۔
اس اہم ورکشاپ میں اعلیٰ حکام، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے نمائندگان، بین الاقوامی ٹیکس ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نجی شعبے کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔
ورکشاپ میں پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے سے متعلق اہم ترجیحات اور پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس اور اقتصادی ترقی ورکشاپ کے اہم موضوعات میں شامل ہیں، جہاں پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے مختلف پہلوؤں پر غور ہو رہا ہے۔
اس موقع پر وفاق اور صوبوں میں یکساں سیلز ٹیکس نظام کے قیام و نفاذ پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ سادہ اور غیر جانب دار انکم ٹیکس نظام کی تشکیل بھی ورکشاپ کا اہم موضوع ہے۔ ورکشاپ کے دوران ٹیکس نظام کے انتظامی امور اور ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی نشست منعقد کی گئی، جس میں ٹیکس قوانین پر عمل درآمد اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔
اجلاس کے ایجنڈے میں مالیاتی وفاقیت اور صوبائی ٹیکس محصولات بھی شامل ہیں، جبکہ وسیع، منصفانہ، سادہ اور شفاف ٹیکس نظام کی تشکیل پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس اصلاحات کے ذریعے محصولات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ورکشاپ میں ٹیکس نظام میں اصلاحات کے ذریعے کاروباری وسعت، پیداواری صلاحیت کے فروغ اور بہتر ٹیکس پالیسی کے ذریعے اقتصادی ترقی کے امکانات پر غور ہوا، جبکہ پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنا اس ورکشاپ کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
2 روزہ ورکشاپ کے اختتام پر ایک اعلیٰ سطح کا پینل مباحثہ منعقد کیا جائے گا، جس میں ٹیکس اصلاحات سے متعلق تمام تجاویز کو یکجا کرنے پر غور ہوگا اور آئندہ کے لیے ترجیحی اقدامات کا تعین کیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی متعلقہ فریقین کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون کے طریقۂ کار پر بھی غور ہوگا۔ حکومت نے مؤثر اور معاشی ترقی کے لیے سازگار ٹیکس نظام کے قیام کے لیے اصلاحات پر مکمل زور دیا ہے۔