روزانہ کھائی جانے والی کئی غذائیں ذائقے میں اچھی ہونے کے باوجود صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب انہیں ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔
مارجرین، میٹھے سافٹ ڈرنکس، سفید بریڈ، پراسیسڈ گوشت اور زیادہ نمک والی غذائیں اسی حوالے سے زیر بحث آتی ہیں۔ تاہم، ہر غذا کو یکساں طور پر خطرناک قرار دینا درست نہیں؛ اس کے اثرات اجزا، مقدار اور استعمال کی عادت پر منحصر ہوتے ہیں۔
مارجرین
مارجرین سبزیوں کے تیل سے تیار کی جانے والی غذا ہے جسے مکھن کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی بعض اقسام میں پہلے ٹرانس فیٹس کی مقدار زیادہ ہوتی تھی، جو دل کی بیماریوں کے خطرے سے وابستہ ہیں۔ تاہم، ہر قسم کی مارجرین میں ٹرانس فیٹس کی مقدار یکساں نہیں ہوتی۔ خریدتے وقت غذائی لیبل دیکھنا اور ایسی مصنوعات کا انتخاب کرنا بہتر ہے جن میں ٹرانس فیٹس کم یا نہ ہونے کے برابر ہوں۔ زیادہ مقدار میں استعمال ہونے والی چکنائی مجموعی کیلوریز میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔
سوڈا اور میٹھے سافٹ ڈرنکس
کاربونیٹڈ پانی، ذائقہ اور مٹھاس سوڈا ڈرنکس کے عام اجزا ہیں۔ ان مشروبات میں شامل اضافی شکر کی زیادہ مقدار وزن بڑھنے، دانتوں کی خرابی اور ٹائپ ٹو ذیابیطس جیسے مسائل کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہے۔ فروکٹوز سمیت مختلف اقسام کی شکر جسم میں توانائی فراہم کرتی ہیں، لیکن ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال ہونے پر اضافی توانائی چربی کی صورت میں ذخیرہ ہو سکتی ہے۔ پانی کو روزمرہ کا بنیادی مشروب بنانا اور میٹھے ڈرنکس کی مقدار محدود رکھنا بہتر ہے۔
سفید بریڈ
سفید بریڈ عموماً ریفائنڈ آٹے سے بنتی ہے، جس میں ثابت اناج کی روٹی کے مقابلے میں فائبر کم ہوتا ہے۔ فائبر پیٹ بھرنے کے احساس کو برقرار رکھنے اور نظام ہاضمہ کی صحت کے لیے اہم ہے۔ سفید بریڈ کھانے سے خون میں شکر کی سطح بعض صورتوں میں تیزی سے بڑھ سکتی ہے، خصوصاً جب اسے زیادہ مقدار میں کھایا جائے یا کھانے میں فائبر اور پروٹین کی کمی ہو۔ ثابت اناج سے تیار کردہ روٹی زیادہ فائبر حاصل کرنے کا ایک بہتر ذریعہ ہو سکتی ہے۔
خالص شہد
خالص یا غیر پاسچرائزڈ شہد کو بعض افراد زیادہ قدرتی غذا سمجھتے ہیں، لیکن اسے ہر صورت میں جراثیم یا نقصان دہ مادوں سے پاک نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض علاقوں میں مخصوص پودوں سے حاصل ہونے والے شہد میں گرایانوٹاکسن جیسے زہریلے مادے موجود ہو سکتے ہیں، جن سے چکر آنا، کمزوری، زیادہ پسینہ آنا اور متلی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ خطرہ ہر قسم کے شہد میں یکساں نہیں ہوتا۔ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد نہیں دینا چاہیے، جبکہ بالغ افراد کو بھی شہد مناسب مقدار میں استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اس میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
پروسیسڈ گوشت
ساسیجز، ہاٹ ڈاگز اور بعض اقسام کے تیار شدہ گوشت کو محفوظ رکھنے یا ذائقہ بہتر بنانے کے لیے مختلف طریقوں سے پراسیس کیا جاتا ہے۔ پراسیسڈ گوشت کا زیادہ استعمال بڑی آنت کے سرطان سمیت بعض بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک پایا گیا ہے۔ گوشت کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر پکانے سے بھی بعض نقصان دہ مرکبات بن سکتے ہیں۔ اس لیے پراسیسڈ گوشت کی مقدار محدود رکھنا اور خوراک میں دالیں، سبزیاں اور دیگر غذائیت بخش اجزا شامل کرنا مفید ہے۔
فرنچ فرائز
فرنچ فرائز عموماً آلو کو تیل میں گہرا تل کر تیار کی جاتی ہیں۔ اس طریقے سے ان میں چکنائی اور کیلوریز کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ بار بار گرم کیے جانے والے تیل کے معیار میں بھی کمی آ سکتی ہے، جبکہ بہت زیادہ درجہ حرارت پر آلو تلنے سے ایکریلامائڈ نامی مرکب بن سکتا ہے۔ فرائز کبھی کبھار مناسب مقدار میں کھانا اور انہیں روزانہ کی خوراک کا بنیادی حصہ نہ بنانا بہتر ہے۔
نمک
نمک کھانے کا ذائقہ بڑھاتا ہے، لیکن اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال بلڈ پریشر میں اضافے اور دل کی بیماریوں و فالج کے خطرے سے وابستہ ہے۔ چپس، نمکین اسنیکس، پراسیسڈ گوشت اور بعض تیار شدہ غذاؤں میں بھی کافی مقدار میں نمک موجود ہو سکتا ہے۔ اس لیے صرف کھانے میں اوپر سے ڈالا جانے والا نمک ہی نہیں، بلکہ پیک شدہ مصنوعات میں موجود نمک پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
ڈبہ بند غذائیں
ڈبہ بند غذائیں مصروف معمولات میں کھانا محفوظ رکھنے اور تیاری کا وقت بچانے کا ایک آسان ذریعہ ہیں۔ مناسب طریقے سے تیار اور محفوظ کی گئی کین شدہ خوراک کئی ماہ یا برسوں تک قابل استعمال رہ سکتی ہے، اور اس عمل میں بعض غذائی اجزا بھی برقرار رہتے ہیں۔ تاہم، کچھ مصنوعات میں نمک یا اضافی شکر زیادہ ہو سکتی ہے۔ ڈبے پر درج اجزا، غذائی معلومات اور تاریخ استعمال کرنے سے پہلے دیکھنی چاہیے۔ اگر ڈبا پھولا ہوا، رسنے والا، زنگ آلود یا غیر معمولی طور پر خراب ہو تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
صحت مند غذا کا مطلب ہر پسندیدہ چیز کو مکمل طور پر ترک کرنا نہیں، بلکہ مقدار، معیار اور مجموعی غذائی توازن کا خیال رکھنا ہے۔ تازہ پھلوں، سبزیوں، ثابت اناج اور مناسب پروٹین کو خوراک میں جگہ دینا طویل مدت میں بہتر صحت کے لیے زیادہ مفید حکمت عملی ہے۔