سی پیک شنگھائی تعاون تنظیم کو معاشی انضمام کے مشترکہ سفر میں تیزی کا موقع فراہم کرتا ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایس سی او سربراہان حکومت کے اجلاس سے خطاب کیا


ویب ڈیسک October 20, 2026
فوٹو: پی آئی ڈی

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار اقتصادی نمو میں ایس سی او قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے جبکہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ایس سی او شراکت داروں کو معاشی انضمام کے مشترکہ سفر میں تیزی لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان حکومت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او کا خطہ عالمی اقتصادی ترقی کا اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، رابطوں کے استحکام کے لیے ایس سی او کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں، رکن ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ایس سی او کے اقتصادی تعاون کی کامیابی کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار اقتصادی نمو میں ایس سی او قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم باہمی اعتماد اور تنوع کے احترام کے اصولوں پر قائم ہے، شنگھائی تعاون تنظیم نے تجارت، بنیادی ڈھانچے، ثقافت اور جدت کے شعبوں تک اپنا دائرہ کار وسیع کیا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت شنگھائی اسپرٹ سے ہماری وابستگی کا عکاس ہے، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری معاشی انضمام کے لیے اہم ہے، زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے حامی ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارنے کہا کہ سی پیک ایس سی او شراکت داروں کو معاشی انضمام کے مشترکہ سفر میں تیزی لانے کا موقع فراہم کرتا ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت ایس سی او کے مستقبل کے تعاون کے اہم ستون ہونے چاہئیں، توانائی میں تعاون اور عالمی معلوماتی سلامتی کو ایس سی او کا اہم حصہ بننا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کی پاکستانی صدارت کا وژن پیش کیا، پاکستان نے افغانستان کی ترقی اور افغان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں، افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، پاکستان پرامن اور مستحکم ہمسائیگی کے قیام کے لیے پرعزم ہے جو علاقائی ترقی اور خوش حالی کی بنیادی شرط ہے۔