تیل سے مالا مال صوبے البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کیلیے ریفرنڈم؛ حیران کن نتائج آگئے

ووٹروں سے پوچھا گیا تھا کہ آیا صوبائی حکومت کو مستقبل میں علیحدگی سے متعلق حتمی ریفرنڈم کرایا جائے یا نہیں


ویب ڈیسک October 20, 2026
البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی مسترد، 76 فیصد ووٹروں نے اتحاد کے حق میں فیصلہ دیا (فائل فوٹو)

کینیڈا کے تیل سے مالا مال صوبے البرٹا کی ملک سے علیحدہ ہونے سے متعلق ریفرنڈم کے نتائج سامنے آگئے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق کینیڈا کے تیل سے مالا مال صوبے البرٹا کے 76 فیصد ووٹروں نے ملک سے علیحدگی کی تحریک کو بڑا دھچکا دیتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج میں 24 فیصد ووٹرز نے مستقبل میں کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ہونے والے حتمی ریفرنڈم کے انعقاد کی حمایت کی ہے۔

خیال رہے کہ پیر 19 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ میں صوبے البرٹا کی کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر پہلی رائے شماری تھی۔

اس میں ووٹروں سے پوچھا گیا تھا کہ آیا صوبائی حکومت کو مستقبل میں علیحدگی سے متعلق حتمی اور پابند ریفرنڈم کرانے کا قانونی عمل شروع کرنا چاہیے یا نہیں۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ البرٹا کے شہریوں نے واضح فیصلہ کیا ہے اور تمام کینیڈین نئے عزم کے ساتھ متحد ہوکر آگے بڑھیں گے۔

گزشتہ برسوں شہرت حاصل کرنے والی البرٹا کی علیحدگی کی تحریک کے رہنماؤں نے امریکی حکام سے ملاقاتیں کرکے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔

امریکی صدر کی جانب سے کینیڈا کے خلاف محصولات اور الحاق سے متعلق بیانات کے باعث یہ معاملہ مزید حساس ہوگیا تھا اور اسے صوبے البرٹا کی علیحدگی کی حمایت سمجھا گیا۔

ادھر علیحدگی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی نظام میں البرٹا کی نمائندگی مناسب نہیں اور ماحولیاتی پالیسیاں صوبے کی تیل و گیس کی صنعت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

تاہم وزیراعظم کارنی نے خبردار کیا تھا کہ علیحدگی کی کوشش صوبے کو برسوں کی سیاسی تقسیم اور غیر یقینی صورت حال میں دھکیل سکتی ہے۔