خیبرپختونخوا کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر صوبے کو ملنے والے 800 ارب روپے کے حسابات کھولنے کا فیصلہ کرلیا اور اس حوالے آڈٹ کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کی حکومت نے وفاق اور پنجاب کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز کہاں اور کیسے خرچ ہوئے، اس حوالے سے تمام تفصیلات طلب کرتے ہوئے فنڈز کا باقاعدہ آڈٹ کرانے کا اعلان کردیا ہے۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے، بالخصوص قبائلی اضلاع کے نام پر ملنے والی خطیر رقم کے استعمال کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا یہ فنڈز واقعی دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور قبائلی اضلاع کی بہتری پر خرچ ہوئے یا نہیں۔
ثمر ہارون بلور نے سابقہ ادوار میں فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 800 ارب روپے کوئی معمولی رقم نہیں کہ پتنگ کی طرح اڑا دی گئی ہو، اس کی ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔
مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ملنے والے اربوں روپے کہاں گئے اور ان کے کیا نتائج سامنے آئے۔