زباں فہمی299 ؛ اردو کے ضرب المَثل اشعار پر ایک نظر (حصہ دُوُم/آخر)

زباں فہمی299 ؛ اردو کے ضرب المَثل اشعار پر ایک نظر (حصہ دُوُم/آخر) ؛ تحریر : سہیل احمد صدیقی


سہیل احمد صدیقی October 21, 2026
زباں فہمی299 ؛ اردو کے ضرب المَثل اشعار پر ایک نظر (حصہ دُوُم/آخر) ؛ تحریر : سہیل احمد صدیقی


گزشتہ سے پیوستہ

ہمارے ایک سو پانچ سالہ بزرگ محقق، شمس الحق صاحب (یکم مارچ 1920ء بمقام قصبہ گروار ضلع بلیا، یوپی، ہندوستان۔ تا۔ 9 فروری 2025ء بمقام کراچی، پاکستان) نے زیرِنظر موضوع پر اِس قدر عرق ریزی سے کام کیا کہ اُن کی کتاب ’’اردو کے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں‘‘ سند کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ ہم مؤخرالذکر کتاب کو کسی دائرۃ المعارف (Encyclopaedia) جیسا درجہ بھی دے سکتے ہیں۔ اگر ہمارے ملک میں اعلیٰ اعزازات فقط اہلیت کی بنیاد پر دیے جانے کا رِواج ہوتا تو یقیناً ایک گوشہ نشیں بزرگ کی ان مساعی پر توجہ دی جاتی، مگر افسوس یہاں تو کسی کو ’خوش‘ کرنے کے عوض بھی اعلیٰ اعزاز سے نوازنا کوئی انوکھی بات نہیں!

 خواجہ میر دردؔ نے کہا تھا:

وائے نادانی کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سُنا ، افسانہ تھا

اس شعر میں بعض لوگوں نے ترمیم کرکے یوں کردیا تھا: ع  وائے ناکامی کہ پس اَ ز مرگ یہ ثابت ہوا

میر ؔکا شعر مشہور تو یوں ہے کہ

سرہانے مِیرؔ کے آہستہ بولو

ابھی ٹُک روتے روتے سوگیا ہے

مگر درحقیقت پہلا مصرع (شمس مرحوم کی تحقیق کی رُو سے) یوں ہے:

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو

میرؔ اور اَمیرمینائی دونوں سے منسوب ایک شعر کی حقیقت بھی شمس الحق نے کھولی:

شکست و فتح نصیبوں سے ہے، ولے اے میرؔ

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

۔یا۔شکست و فتح نصیبوں سے ہے، ولے اے ا میرؔ

دونوں ہی غلط ہیں۔یہ شعر محمد یار خاں امیرؔ کا ہے، جو قائم چاند پوری کے شاگرد تھے۔ شعر کی اصل شکل اس طرح ہے:

شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن

مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا

اسی طرح شمس صاحب نے لکھا کہ ’’ڈاکٹر ابوالخیر کشفی نے اپنی کتاب ’یہ لوگ بھی غضب تھے: خاکے اور شخصی مطالعے‘‘ کے پہلے صفحے پر حسبِ ذیل شعر میر تقی میرؔ سے منسوب کیا ہے:

یہ لوگ بھی غضب کے ہیں، دل پر یہ اختیار

شب موم کرلیا، سحر آہن بنا لیا

یہ شعر، نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کا ہے۔ شعر کی شکل قدرے مختلف ہے:

تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار

شب موم کرلیا، سحر آہن بنا دیا

اسی طرح مندرجہ ذیل شعر، اکبر الہ آبادی کے نام سے منسوب کیا گیا:

اگرچہ شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی

مگر وہ بات کہاں، مولوی مدّن کی سی

اکبر الہ آبادی کے کلیات، جلد اول، دوم، سوم اور چہارم میں یہ شعر درج نہیں ہے۔ مولوی مدّن، نواب سعادت علی خاں کے اتالیق تھے اور ان کی تعریف میں سیّد انشاؔ نے مزاحاً یہ شعر کہا:

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی

مگر وہ بات کہاں، مولوی مدّن کی سی

(’فنِ تحقیق‘: ایک وادی پُرخار۔ ازمحمد شمس الحق، مطبوعہ 29 اگست، 2018ء)

برسبیلِ تذکرہ ایک شعر اَپنے شاعر احباب کی دل چسپی کے لیے پیش کرتا ہوں جو موضوع سے متعلق زیرنظر کتاب میں بھی شامل ہے:

کسی کا کب کوئی روزِ سیہ میں ساتھ دیتا ہے

کہ تاریکی میں سایہ بھی جُدا رہتا ہے انساں سے

یہاں گُر کی بات یہ ہے کہ اس شعر کے مصرع اولیٰ میں تنافُرِ حرفی ہے، مگر چونکہ استاد شاعر، ناسخؔ کا ہے اور بربنائے ضرورت ایسا کرنا ہی ناگزیر تھا، لہٰذا جدید دور کا شاعر اِسے ہدفِ تنقید نہیں بناسکتا، ورنہ تنافرِ حرفی و صوتی کو شعر کا عیب سمجھا جاتا ہے۔ ایسی دیگر متعدد مثالیں اساتذہ کے یہاں موجود ہیں۔

ہم نے ایک مدت تک لکھا دیکھا، پڑھا اور سُنا :  ع  مریضِ عشق پر رحمت خدا کی

مگر صحیح شعر میں پہلا مصرع یوں ہے:

وصالِ یار سے دُونا ہوا عشق

اور دوسرا مصرع ہے:

مرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دَوا کی

اس کے شاعر بالکل ہی گمنام رہے: میرزا علی اکبر مضطربؔ

میرزا تقی خاں ترقیؔ جیسے گمنام شاعر نے کیا خوب شعر کہا تھا کہ نہ صرف وہ مشہور ہوا، بلکہ اُس میں تحریف کرکے جو فلمی گانا تیّار کیا گیا وہ بھی بہت مقبول ہوا تھا، ملاحظہ فرمائیں:

دنیا کے جو مز ے ہیں، ہرگز یہ کم نہ  ہوں   گے

چرچے یہی رہیں گے، افسوس! ہم  نہ  ہوں گے

اسے 1948ء میں نمائش کے لیے پیش ہونے والی ہندوستانی فلم ’میلہ ‘ کے لیے شکیل بدایونی نے نغمے کی صورت یوں تحریر کیا:

یہ زندگی کے میلے

یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے

افسوس ہم نہ ہوں گے

عظیم گلوکار رَفیع کی آواز، مُوسِیقارِ اعظم نوشاد کی دُھن اور یوسف خان المعروف دلیپ کمار کی اداکاری نے اس گانے کو خوب کامیا ب کیا۔ فلم کی ہیروئن نرگس تھی۔

مولوی عبدالرّضا رضاؔ تھانیسری پنجاب کے قدیم اردو شاعر نے شعر کہا:

آدمی بُلبُلہ ہے پانی کا

کیا بھروسا ہے زندگانی کا

  (کتاب محولہ بالا ص 44)

یہاں خاکسار اپنے سلسلہ زباں فہمی کے ایک پرانے مضمون سے اقتباس مع ترمیم واضافہ پیش کرتا ہے:

امیرؔ مینائی، حالیؔ، میرتقی میرؔ اور قدیم پنجابی اردوشاعر، رضاؔ تھانیسری: امیرؔ مینائی، حالیؔ اور اپنے میرؔ صاحب کی عظمت سے کس کافر کو اِنکار ہوگا، مگر کیا کیجئے کہ اُن حضرات سے منسو ب ایک مشہور شعر، اُن سے مدتوں پہلے، پنجاب کے ایک قدیم اردوشاعر رضاؔ تھانیسری کے یہاں ملتا ہے۔ بارہویں صدی ہجری کے شاعررضاؔ تھانیسر ی نے کہا تھا:

آدمی بًلبًلہ ہے  پانی کا

کیا بھروسا (ہے) زندگانی کا

(’’اردو کے مشہور اشعار۔ ایک جائزہ‘‘ از سہیل احمد صدیقی : 2001ء ، کراچی، بحوالہ پنجاب کے قدیم اردو شعراء از خورشید احمد خان یوسفی: اکتوبر 1992ء ، مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد)۔ نریش کمار شاد ؔ نے امیرؔ مینائی کا شعر یوں نقل کیا:

زیست کا اعتماد کیا ہے امیرؔ

آدمی بلبلہ ہے  پانی  کا

کتاب محولہ بالا کے صفحہ نمبر 78پر اِسی شعر کی دوسری شکل، امیرؔ مینائی سے منسوب اس طرح نقل کی گئی:

زیست کا اعتبار کیا ہے امیرؔ

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

 یہی شعر مصرعوں کی ترتیب بدل کر، حالی ؔسے منسوب کردیا گیا:

کیا بھروسا ہے زندگانی کا

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

جبکہ بعض جگہ دیکھا کہ (اسی شکل میں) یہ شعر میرؔ سے منسوب کردیا گیا۔ اب کوئی کہے کہ صاحب! یہ محض اتفاق ہے یا توارُد ہے، تو کم ازکم یہ خاکسار اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

مُصحفیؔ کا شعر ہے:

میں عجب یہ رسم دیکھی، مجھے روزِ عیدِ قرباں

وہی ذبح بھی کرے ہے ، وہی لے ثواب اُلٹا

      (میں نے دیکھا کی بجائے میں دیکھی، قدیم اردو ہے)

 مغل تاجدارجہاں دار شاہ جہاندارؔ کا یہ شعر تو ضرب المَثَل ہے:

آخر گِل اپنی صَرفِ درِمیکدہ ہوئی

پہنچے وہاں ہی خاک ، جہاں کا خمیر ہو

یہ شعر کئی طرح مشہور ہے، مگر صحیح یہی ہے جو شمس مرحوم نے تحقیق کرکے لکھا۔

 نواب سراج الدولہ کے سانحہ قتل پر راجا رام نرائن موزوںؔ کا کہا ہوا شعر ضرب المثل بن گیا تھا:

غزالاں تم تو واقف ہو، کہو مجنوں کے مرنے کی

دِوانہ مرگیا آخر کو وِیرانے پہ کیا گزرا

یہاں ’گزری‘ مشہور ہے، مگر بالتحقیق غلط ہے۔ (بحوالہ اردو کے ضرب المثل اشعار اَز محمد شمس الحق)

ماہ نامہ ’’نگار‘‘ لکھنؤ 1957ء میں صفحہ 59 پر ایک مراسلہ چھپا: کس کا ہے؟

وہ آئے بزم میں اتنا تو میرؔ نے دیکھا

پھر اس کے بعد، چراغوں میں روشنی نہ رہی

یہ شعر میر تقی میرؔ سے منسوب ہے، لیکن ’’کلیاتِ میرؔ‘‘ میں یہ شعر درج نہیں ہے۔ اس کے بعد یہی شعر یوںمشہورہواکہ شمس صاحب جیسا محقق دھوکا کھا گیا:

وہ آئے بزم میں اتنا تو برقؔ نے دیکھا

پھر اس کے بعد، چراغوں میں روشنی نہ رہی

یعنی اسے مہاراج بہادر برقؔ سے منسوب کردیا گیا اور ’’اردو کے ضرب المثل اشعار: تحقیق کی روشنی میں ‘‘ کے ابتدائی تین ایڈیشنوں میں یہ شعر مہاراج بہادرؔ برقؔ کے نام سے درج کردیا گیا۔ مابعد جب خلیق الزماں نصرت نے ایک کتاب ’’برمحل اشعار اور ان کے مآخذ‘‘ ( رضوی کتاب گھر، دہلی :2012 صفحہ 214) کے نام سے لکھی تو اُس میں مندرجہ ذیل مراسلہ شامل کرتے ہوئے یہ بات واضح کی کہ اصل شعر فکرؔ یزدانی رام پوری کا ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو فکرؔ نے دیکھا

پھر اس کے بعد، چراغوں میں روشنی نہ رہی

الطاف الرحمن فکرؔ یزدانی، رازؔ یزدانی رام پوری کے شاگرد تھے۔ والد کا نام مولوی حبیب الرحمن تھا۔ رازؔ کہتے ہیں کہ اُن کی موجودگی میں مذکورہ شعر کی غزل صاحب زادہ محمود علی خاں رزمؔ کے دولت کدے واقعے محلہ واجد وارہ، رام پور پر 1940ء میں ایک مشاعرے میں سنائی تھا، جس میں رام پور کے بزرگ محقق شبیر علی خاں شکیب بھی موجود تھے، جنہوں نے اس شعر کا ذکر اپنی کتاب ’’رام پور کا دبستانِ شاعری میں کیا ہے۔ اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد، شمس مرحوم نے رجو ع کرلیا اور اَصل شاعر کے نام کے ساتھ شعر کی صحیح شکل قبول کی۔

ایک فلمی گیت میں یہ مصرع دوسرا مصرع بدل کر شامل کیا گیاتھا: ع  چھُٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا

یہ میرزا دبیرؔ کا شعر ہے:

نہ پھول تھے، نہ چمن تھا، نہ آشیانہ تھا

چھُٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا

اسی طرح پاکستانی گلوکار بشیر احمد (بی اے بیگ) کے گانے کے مشہور بول ’’جدھر دیکھتا ہوں، اُدھر تُو ہی تُو ہے‘‘ کا پہلا مصرع یوں ہے:

سمایا ہے جب سے تُو نظروں میں میری

یہ نصیر الدین حیدر بادشاہؔ کا شعر ہے۔

نواب رام پور آصف علی خان نے ایک کنیز کی ادھوری انگڑائی پر یہ مصرع کہا ’’ انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اُٹھا کے ہاتھ‘‘ اور متعدد شعراء سے اس پر گرہ لگانے کو کہا۔ نظام ؔ رام پوری نے گرہ لگاتے ہوئے پوری غزل کہہ دی اور داد پائی:

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اُٹھا کے ہاتھ

دیکھا مجھے تو چھوڑ دیے مُسکرا کے ہاتھ

تعجب ہے کہ شمس صاحب نے پورا شعر تو نظام ؔ کے نام سے منسوب کیا، مگر نواب کا ذکر رہ گیا۔

میرزا صادق شررؔ کا شعر، زیربحث کتاب میں درج کیا گیا:

گئے دونوں جہان کے کام سے ہم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

نہ خدا ہی ملا نہ وِصال ِ صنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

اس سے مماثل ایک شعر گھنشام لعل عاصیؔکا مجھے انٹرنیٹ پر ملا۔ افسوس کہ شمس صاحب سے اس بابت بات نہ ہوسکی۔ شعر یہ ہے:

خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے

رہے دل میں ہمارے یہ رنج و اَلَم، نہ اِدھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے

’’اردو کے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں‘‘ کے آخری دو شعروں کے بارے میں کچھ وضاحت ضروری ہے۔ شعر نمبر 799کمال ؔسالارپوری سے منسوب یوں نقل کیا گیا:

دیوارِ چمن پر زاغ وزغن، مصروف ہیں نوحہ خوانی میں

ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے، انجام ِ گلستاں کیا  ہوگا

تمام مباحث کو سموتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ ہمارے فاضل خُرد معاصر برادرم جنید احمد نُور نے بہرائچ (ہندوستان) سے تحقیقی مواد پیش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ درحقیقت شعر یوں ہے:

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی اُلّو کافی تھا

ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے، انجام ِ گلستاں کیا  ہوگا

اور شاعر کا نام ہے ریاست حسین شوقؔ بہرائچی (6جون1884ء بمقام فیض آباد تا13جنوری 1964ء بمقام بہرائچ)۔ ممکن ہے کہ ایک سے زائد شاعروں نے اُن کے اس مقبول شعر کو اَپنا بنانے کے لیے اس پر گرہ لگائی ہو۔ شوقؔ کا ایک اور مشہور شعر اسی طرح مختلف ہندوستانی شاعروں سے منسوب ہوتا رہا ہے:

اللہ‘ غنی!  اِس دنیا میں سرمایہ پرستی کا عالَم

بے زر کا کوئی بہنوئی نہیں، زردار کے لاکھوں سالے ہیں

شعر نمبر 800کے شاعر کا نام ہوش ؔ چکوروری شایع ہوا تھا، لیکن بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ شعر نذیر ؔ دہقانی کا ہے تو شمس الحق صاحب نے کتاب دیتے ہوئے اپنے ہاتھ سے تصحیح کردی۔

جہاں بے شمار اَشعار کسی نہ کسی سبب ہمارے ممدوح کی نظرِانتخاب سے اوجھل رہے، ایک شعر ایسا بھی ہے جسے مُنّی بیگم کی گائی ہوئی غزل کے حوالے سے عوام میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی:

آوارگی میں حد سے گزرجانا چاہیے

لیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے

شاعرہیں حسن عباس رضاؔ۔ منّی بیگم نے یہ غزل اپنی جوانی میں گائی تھی، پھر جب شارق رُومی نے ٹیلیوژن پر اِس کا اپنے انداز میں دھڑن تختہ کیا تو وہ ایک مرتبہ پھر منظرعام پر آئیں اور یہ غزل دوبارہ پی ٹی وی پر پیش کی۔

محمد شمس الحق مرحوم کے مختصر حالات اس کتاب میں درج ہیں۔ وہ1980ء میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوئے، پھر اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوگئے جہاں آخری سانس تک مقیم رہے۔ اُن کی کتب کے عنوانات حسبِ ذیل ہیں:

1۔ گل ہائے رنگ رنگ (تین حصص)

2۔ پیمانہ ئغزل (تین حصص)

3۔ غزل اس نے چھیڑی (دو حصص)

4۔ اردو کے ضرب المثل اشعار، تحقیق کی روشنی میں

5۔ دل چسپ (تاریخی و ادبی لطائف کا انتخاب)

6۔ آو پھر گزرے ہوئے ایام کی باتیں کریں (آپ بیتی)