سلطان مقرب خان آخری گکھڑ حکم راں

سلطان مقرب خان اپنے والد سلطان معظم علی خان (ولد سلطان دلاور خان حاکم پھروالہ) کی وفات کے بعد تخت نشیں ہوئے۔



بطور سیاح میں مختلف جگہوں کا سفر کرتا رہتا ہوں اور وہاں موجود آثارقدیمہ میں میری خاص دل چسپی ہے۔ کچھ دن پہلے اسلام آباد کے نواح میں واقع باغ جوگیاں جانا ہوا۔

مجھے یہ جان کر بہت خوشی اور حیرت ہوئی کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں اتنا وسیع اور شاندار تاریخی و ثقافتی ورثہ موجود ہے جب کہ عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسلام آباد کی تاریخ اور ترقی کا آغاز صرف 1960 کی دہائی میں وفاقی دارالحکومت کے قیام کے بعد شروع ہوا۔

یہاں ایسی اور کئی تاریخی جگہیں موجود ہیں لیکن میں یہاں خصوصی ذکر کروں گا سلطان مقرب خان کے مقبرے کا۔

سلطان مقرب خان اپنے والد سلطان معظم علی خان (ولد سلطان دلاور خان حاکم پھروالہ) کی وفات کے بعد تخت نشیں ہوئے۔

 وہ پوٹھوہار کے آخری بااختیار اور خود مختار گکھڑ حکم راں تھے جنہوں نے تقریباً 22 جنگوں میں فتح حاصل کی اور بہترین جنگی حکمتِ عملی کا ثبوت دیا۔

سلطان کی کئی شادیاں تھیں۔ ان کی ازواج میں سے ایک علی مردان خان یوسفزئی کی بیٹی، دوسری ٹھوٹھا رائے بہادر کے چب خاندان سے، تیسری فیروزوال کے سرخرو خان کی بیٹی، چوتھی ہاشم خان سدال کی بہن اور ایک راجوری کے جرال خاندان سے تھیں۔

ان کے پانچ لڑکے تھے :

٭  نادر علی خان               ٭  اسد علی خان

٭  منصور علی خان ٭  براہم خان

٭  شادمان خان

 مقرب خان، ایک طاقتور حکم راں ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فارسی زبان کے بہترین شاعر اور صاحبِ علم انسان تھے۔ ان کا تخلص ’’حامی‘‘ تھا اور ان کا ’’دیوانِ حامی‘‘ ان کے اعلیٰ ادبی ذوق کا مظہر ہے۔

 بطور حکم راں ان کی سب سے بڑی خوبی ان کی غیرجانب دارانہ اور منصفانہ پالیسی تھی، جہاں انہوں نے مسلم اور ہندو رعایا کے حقوق میں کوئی فرق نہ رکھا اور تمام مذہبی و دنیاوی معاملات میں مساوات اور عدل قائم کیا۔

ان کے دور میں یہ شعر زبان زدعام تھا۔

حامی دین مکرم شاہ والا جہاں پناہ

درمیانِ اٹک و جہلم شد مُقَرب بادشاہ

 دھن ملوکی کا معرکہ گکھڑ تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اس دوران سلطان کی ملاقات اس دور کے مشہور بزرگ حضرت شاہ مرادؒ (جن کا آستانہ بھون کے قریب تھا) سیہوئی جس نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔

حضرت شاہ مرادؒ نے سلطان کو دنیا کی فانی حقیقت اور عاجزی کی یاد دہانی کرواتے ہوئے ارشاد فرمایا؛

آکھے شاہ مراد مقرب خان نوں

غرب نہ کریاں پہاوے نہ اس قبر دے مہمان نوں

( اتنی بڑی سلطنت، فتوحات اور شاہانہ لباس و رتبے پر کبھی غرور یا تکبر نہ کرنا، انسان خواہ کتنا ہی بڑا فاتح یا حکم راں کیوں نہ بن جائے، بالآخر اس نے اس فانی دنیا سے کوچ کر کے قبر کا مہمان بننا ہے)

یہ نصیحت سلطان مقرب خان کے مزاج پر اس قدر اثر انداز ہوئی کہ اتنی جنگیں جیتنے اور پوٹھوہار کا مطلق العنان حکم راں ہونے کے باوجود وہ عدل و انصاف، درویشی اور صوم و صلوٰۃ کی پابندی کو اپنی زندگی کا شعار بنائے رہے۔

جب ۱۸ ویں صدی میں مغل بادشاہوں کی باہمی کشمکش کی وجہ سے مرکزی حکومت (دہلی) کم زور پڑگئی، تو گکھڑ سرداروں نے حالات کا صحیح ادراک کرتے ہوئے اپنے علاقوں کو متحد اور مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں بانٹ لیا۔

 پرگنہ پھروالہ پر سلطان مقرب خان کا قبضہ تسلیم کیا گیا جو گکھڑوں میں برتری اور مرکزی حیثیت کا ثبوت تھا۔

پھر احمد شاہ ابدالی نے سلطان ْمقرب خان کی شجاعت سے متاثر ہو کر انہیں ’’نواب‘‘ کا خطاب دیا اور گجرات سے لے کر راولپنڈی/پوٹھوہار تک کا علاقہ ان کے سپرد کیا۔

ابدالی جب لاہور میں تھا تو سکھوں کی فوج نے جمع ہو کر شاہی لشکر پر یورش کی اور ان کے رسل و رسائل کو نقصان پہنچانے لگے۔ احمد شاہ نے سلطان مقرب خان کو لاہور تک کا حکمران مقرر کیا اور کابل چلا گیا۔

یہاں چڑت سنگھ و گوجر سنگھ کی جماعت طاقت پا کے گکھڑوں پر حملے کرنے لگی تو سلطان نے انتظامی طور پر لاہور، دیوان کابلی مل کے حوالے کیا اور خود پیش قدمی روکنے کے لیے سیالکوٹ پہنچے۔

سیالکوٹ میں جموں کا راجا رنجیت دیو ناراضی کے بعد ان سے علیحدہ ہو گیا اور مقامی چوہدریوں (چیمہ، وڑائچ، چٹھے) نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے انہیں گجرات کی طرف پسپائی اختیار کرنی پڑی۔

چناب عبور کر کے متحدہ سکھ افواج نے گجرات پر حملہ کیا۔ مقامی زمینداروں اور اپنے قریب ترین حامیوں کی بے وفائی کے باوجود نواب مقرب خان نے بے مثال شجاعت سے جنگ لڑی اور میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا۔

سلطان مقرب خان کی شہادت کے ساتھ ہی پوٹھوہار اور گجرات کے خطے میں گکھڑ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا اور اس علاقے پر بھنگی و سکر چکیہ مثلوں کا مکمل تسلط قائم ہوگیا۔

پوٹھوہار کی مقامی تاریخ اور روایات میں سلطان مقرب خان کی وفات سے متعلق دو مختلف آراء ملتی ہیں، ایک رائے کے مطابق وہ گجرات کے معرکے میں شہید ہوئے، جب کہ دوسری روایت کے مطابق وہ شدید زخمی حالت میں میدانِ جنگ سے نکلے، اپنے وفاداروں کے ساتھ دریائے جہلم عبور کیا اور سلطان پور، وانگلی سے ہوتے ہوئے قلعہ پھروالہ پہنچے۔

یہیں ان کا انتقال ہوا اور انہیں دریائے سواں کے بائیں کنارے، قلعہ پھروالہ کے بالمقابل تدفین کی گئی۔

برج ناتھ کے مطابق ان کی شہادت کا سال 1177 ھ بمطابق 1763ء ہے۔

اس کے بعد سلطان کے بیٹوں اسد علی خان اور نادر علی خان جنگِ گجرات سے بقیہ فوجوں کے ساتھ بھاگ کے پوٹھوہار آ گئے اور پرگنہ وانگلی کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا۔ پرگنہ پھروالہ کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر لیا اور اس پہ قابض ہو گئے۔ یوں پوٹھوہار مختلف اکائیوں میں تقسیم ہو کے رہ گیا۔ 1826ء میں سکھوں نے اٹک سے لیکر جہلم تک تمام علاقے گکھڑوں سے چھین لیے اور اس خطے کے حکم راں بن بیٹھے۔

باغ جوگیاں کمپلیکس اسلام آباد میں واقع سلطان مُقرب خان کا مقبرہ ایک چاردیواری میں ہے جس کے مشرقی سمت ایک محرابی دروازہ موجود ہے۔

 مقبرے کا گنبد عام ہندوستانی طرز کا ہے۔ بلندوبالا گنہ بہت خوب صورت اور نفیس ہے۔ اس کے پیچھے دو کمرے بلند چبوترے پر بنائے گئے ہیں جو اب کھنڈرات کا منظر پہش کرتے ہیں۔ مقبرے کے اندر شمالاً جنوباً ایک قبر ہے جب کہ دروازہ جنوبی سمت ہے۔ چند قبریں ابھی بھی صحن میں باقی ہیں۔

اگرچہ سکھوں نے اس علاقے کو بہت نقصان پہنچایا تھا لیکن حکومت پاکستان کے 2022 میں شروع ہونے والے یونیسکو بحالی پراجیکٹ کے بعد یہ جگہ بہت بہتر ہوگئی ہے۔ دیواروں اور مقبرے کی تعمیرومرمت کے علاوہ یہاں ایک پارک اور بیٹھنے کے لیے بنچ بھی بنائے گئے ہیں۔ کچی پکی اور چھوٹی گزرگاہوں کو پکا کیا گیا ہے جب کہ پانی کا انتطام بھی موجود ہے۔

یہاں ایک چیز کی اشد ضرورت ہے، پکی سڑک۔ ان مقامات تک رسائی بہتر بنانا اب بھی ایک اہم ضرورت ہے، خصوصاً تاریخی مقامات تک جانے والی سڑک کی مناسب تعمیر اور بحالی۔

(حوالہ؛ کیگوہرنامہ)