پشاور:
گریڈ 21 کے اعلیٰ سرکاری افسر کے دو بچوں کے مبینہ اغوا کا معمہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود حل نہ ہوسکا، تفتیشی اداروں کو اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے اور اغوا کاروں کی جانب سے ساتھ لے جانے والی سرکاری افسر کی گاڑی کوہاٹ روڈ سے برآمد کرلی گئی۔
سرکاری حکام کے مطابق بچوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چار خصوصی ٹیمیں مختلف پہلوؤں پر تحقیقات میں مصروف ہیں، گزشتہ ہفتے نامعلوم افراد نے حیات آباد میں گریڈ 21 کے سرکاری افسر اکرام اللہ خان کی رہائش گاہ سے ان کے دو بچوں کو مبینہ طور پر اغواء کیا تھا، ملزمان واردات کے بعد سرکاری افسر کی گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جسے اب پشاور کے کوہاٹ روڈ سے برآمد کرلیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے اور سرکاری افسر کی رہائش گاہ کے آس پاس واقع گھروں میں بھی چیکنگ کی گئی ہے تاکہ ملزمان کی نقل و حرکت اور واردات سے متعلق ممکنہ شواہد حاصل کیے جاسکیں۔
سرکاری حکام کے مطابق بچوں کی بازیابی کے لیے چار ٹیمیں کام کررہی ہیں جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جیوفینسنگ کا عمل بھی جاری ہے تاکہ وقوعہ کے وقت علاقے میں موجود مشتبہ افراد اور ممکنہ رابطوں کا سراغ لگایا جاسکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی کی برآمدگی کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جارہا ہے اور اغواء میں ملوث افراد کی شناخت اور ان تک رسائی کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
دوسری جانب واقعے کی رپورٹ تھانہ حیات آباد میں درج ہے، تاہم تاحال بچوں کی بازیابی یا ملزمان کی گرفتاری سے متعلق کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔