پاک ایران تعلقات اور علاقائی امن

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران اسی پیچیدہ علاقائی صورت حال میں اہمیت کا حامل ہے۔


ایڈیٹوریل October 22, 2026
اغلب گمان ہے کہ کوئی وطن دشمن نادیدہ قوت ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرکے پاکستان کو مغربی سرحد پر بھی الجھانا چاہتی ہے۔ فوٹو: فائل

ایران کے دارالحکومت تہران میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتوں اور پاک ایران سرحد کی بحالی نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری میں پاکستان کے لیے ایک اہم موقع پیدا کیا ہے۔مشرق وسطی ‘افغانستان اور مجموعی طور پر جنوبی ایشیا کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ملاقاتیں دوررس اثرات کی حامل ہیں۔

ادھر پاکستان کو بیک وقت متعدد حساس محاذوں پر اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے، جہاں ایک جانب سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کی ذمے داریاں ہیں، وہیں ایران کے ساتھ تاریخی ہمسائیگی، سرحدی امن اور اقتصادی روابط بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی کامیابی کا پیمانہ صرف سفارتی رابطوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ وہ متحارب قوتوں کو تصادم سے دور رکھنے اور اپنے معاشی و تزویراتی مفادات محفوظ بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں نے بھی خطے کی صورت حال کو خاصا پیچیدہ بنا دیا۔ امریکا اور یورپ کے دارالحکومتوں میں بھی اس حوالے سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران اسی پیچیدہ علاقائی صورت حال میں اہمیت کا حامل ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں علاقائی کشیدگی، جنگ بندی، دوطرفہ تعلقات اور ایران امریکا تنازع پر تبادلہ خیال ہواہے۔ ان ملاقاتوں کی اہمیت اس امر سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور سفارتی رابطوں کی بحالی کے لیے کوششیں کر چکا ہے۔ جون میں جنگ بندی کی عبوری پیش رفت کے بعد تنازع کا دوبارہ بھڑک اٹھنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ محض عارضی مفاہمت پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

جب تک بنیادی اختلافات کا قابلِ قبول حل تلاش نہیں کیا جاتا، جنگ بندی کا ہر انتظام نئے تصادم کے خطرے سے دوچار رہے گا۔مشرق وسطی کی صورت حال خاصے عرصے سے پیچیدہ چلی آ رہی ہے اور اب اس میں بہت زیادہ الجھاؤ پیدا ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران اور وہاں اعلیٰ سطح پر ہونے والی ملاقاتوں کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پوری دنیا کی نظریں اس پیش رفت پر لگی ہوئی ہیں اور وہ دیکھ رہی ہیں کہ معاملات کس کروٹ بیٹھتے ہیں۔

ایران کو بھی جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے ‘موجودہ صورت حال میں ایرانی قیادت کے تدبر اور دور اندیشی کا بھی امتحان ہے اور دوسری جانب یمن کے حوثیوں کی قیادت پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ایکشن کے نتائج پر بھی غور کریں۔ حوثی جو کچھ کر رہے ہیں وہ نہ تو یمن کے ہمسایہ ممالک کو قبول ہے اور نہ ہی اقوام عالم کو قبول ہے۔اس لیے انھیں بھی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا چاہیے۔ اگر انھوں نے اپنے اسی جارحانہ طرز عمل کو جاری رکھا تو اس کے نتائج ان کے لیے اچھے ثابت نہیں ہوں گے۔

تاہم، اس پیش رفت کو وسیع تر علاقائی منظرنامے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی تنازع اب بھی برقرار ہے۔ تہران کا اصرار ہے کہ امریکی دباؤ، پابندیوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی جیسے اقدامات ختم کیے جائیں، جب کہ واشنگٹن ایران کی جوہری سرگرمیوں اور افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کر رہا ہے اور اسے قومی اثاثہ قرار دیتا ہے۔ دوسری طرف امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی بلند سطح کی یورینیم افزودگی کو جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ایران جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کرتا ہے، لیکن فریقین کے درمیان عدم اعتماد اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ تکنیکی معاملات بھی قومی خودمختاری اور سلامتی کی علامت بن گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سفارت کاری کا امتحان شروع ہوتا ہے، اگر اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل یا رابطوں کی بحالی میں مدد فراہم کرتا ہے تو یہ ایک قابلِ قدر کردار ہے۔کامیاب ثالثی کے لیے فریقین کے خدشات کو سمجھنا، قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنا اور ایسے اعتماد ساز اقدامات تجویز کرنا ضروری ہے جن سے مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔

دوسری جانب سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں، ریاض کی جانب داغے گئے میزائل اور ڈرون کو روکنے کے دعوؤں، اور برطانیہ کی جانب سے سعودی دفاع کے لیے لڑاکا طیارے تعینات کرنے کے اعلان نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بندش اور تیل بردار جہازوں سے متعلق متضاد اطلاعات بھی عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اگر اس اہم بحری گزرگاہ میں مسلسل رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں تو اس کے اثرات صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ تیل کی قیمتوں، جہاز رانی کے اخراجات، بیمہ پریمیم اور درآمدی معیشتوں کے توازن پر بھی پڑیں گے۔ پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتا ہے، ایسی صورت حال سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے باہمی تعلقات کے تناظر میں دوستانہ کردار ادا کرتے ہوئے توازن برقرار رکھنا آسان امر نہیں، لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ دفاعی تعاون کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ سفارتی دروازے بند کر دیے جائیں۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ کسی علاقائی کشمکش کو اپنے لیے مستقل محاذ آرائی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے، بلکہ پاکستان کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے، غلط فہمیوں کے ازالے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی صلاحیت بروئے کار لائی جائیں۔

ایران کی جانب سے ہر حملے کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی اور امریکا کی جانب سے دباؤ برقرار رکھنے کا موقف اس خطرے کو بڑھاتا ہے کہ کوئی محدود واقعہ وسیع تر جنگ کا محرک بن جائے۔ آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگوں اور تیل بردار جہازوں سے متعلق دعوؤں اور تردیدوں کے درمیان آزادانہ تصدیق، شفاف اطلاعات اور فوری رابطوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ سمندری گزرگاہوں کی سلامتی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، اس کا تعلق عالمی تجارت اور متعدد ریاستوں کی توانائی کی ضروریات سے ہے۔ پاکستان کو ایسے بین الاقوامی انتظامات کی حمایت کرنی چاہیے جو بحری جہاز رانی کو محفوظ بنائیں اور فوجی تصادم کے امکانات محدود کریں۔

پاکستان کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ سفارتی سرگرمی کو دیرپا نتائج میں کیسے بدلا جائے۔ تہران میں ملاقاتیں، سرحد کی بحالی اور پیغامات کا تبادلہ اہم اقدامات ہیں، مگر ان کی کامیابی کا فیصلہ مستقبل کی پیش رفت کرے گی۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے خطے کے تنازعات سے الگ تھلگ رہنے کی اجازت نہیں دیتی، لیکن یہی حیثیت اسے مفاہمت کے لیے ایک موثر وسیلہ بھی فراہم کرتی ہے، اگر اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، اور اپنے مغربی ہمسائے کے ساتھ مستحکم تجارتی روابط کو ایک مربوط حکمت عملی میں ڈھال سکے تو وہ نہ صرف علاقائی امن میں حصہ ڈالے گا بلکہ اپنے معاشی مفادات کی بھی بہتر حفاظت کر سکے گا۔

سفارت کاری کی اصل فتح کسی ایک فریق کی شکست میں نہیں، بلکہ اس مرحلے تک پہنچنے میں ہے جہاں جنگ کا فائدہ کم اور امن کا امکان زیادہ ہو جائے۔ امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف ہے۔ ہم ہر اس شخص کے خلاف ہیں جو دہشت گردی کو سپانسر کرتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ امریکا کو تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے۔ انڈیا کے دورے کے دوران ایک انٹرویو میں ان سے پاکستان پر پابندیوں کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا اب میں سینیٹر نہیں ہوں بلکہ وزیرِ خارجہ مجھے امریکا کی خارجہ پالیسی کو چلانا ہے۔ اس تقاضے کے تحت ہمیں ممالک کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا پڑتے ہیں، بشمول ان کے جن کے ساتھ ہمارے کچھ اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں، یہ ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ ہمیں تعلقات رکھنے ہی ہیں۔

یہ ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے۔ اگر جغرافیائی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہمارے لیے ان کے ساتھ روابط رکھنا ضروری ہے، بالکل اسی طرح جیسے انڈین حکومتِ کو ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے پڑتے ہیں اور وہ ان کے رہنماؤ ں سے ملاقاتیں کرتی ہے۔ لہٰذا یہ ایسی چیزیں ہیں جن میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہونی چاہئیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کو تین روزہ دورے پر ممبئی پہنچے ہیں۔ ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ صرف چند قدم دور ہے۔ رواں سال بھارت کا یہ ان کا دوسرا سرکاری دورہ ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی کشیدگی کو کم کرنا اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔