گورنر راج ، ایمرجنسی اور احتساب

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ایسے اقدامات ہیں جسے ہر جمہوری سوچ رکھنے والا شخص ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔


[email protected]

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ایسے اقدامات ہیں جسے ہر جمہوری سوچ رکھنے والا شخص ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ جمہوریت اور آئین کی روح ہمیشہ منتخب نمائندوں کی حکومت کا تقاضا کرتی ہے لیکن اس تلخ حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آئین و قانون میں غیر معمولی حالات، انتظامی مفلوجیت اور ریاستی وقار کی بحالی کے لیے گورنر راج اور ایمرجنسی کا آئینی اختیار موجود ہے۔

یہ اقدام بالکل طلاق کی مانند ہے، طلاق جائز تو ہے لیکن اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ یا پھر جیسا کہ بلاول بھٹو نے اس کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے اسے مجبوری کی حالت میں استعمال ہونے والا "قانونی ایٹم بم" قرار دیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے تمام تر اثرات، نتائج اور ذمے داری کا بوجھ بالآخر وفاقی حکومت کے ذمے داروں پر ہی پڑے گا۔ اب جب کہ یہ غیر معمولی قدم اٹھایا جا چکا ہے تو وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ زبانی جمع خرچ اور سیاسی بیان بازی سے باہر نکلیں۔ اب وقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلا امتیاز، بلا خوف اور انتہائی بے رحم احتساب کا آغاز کیا جائے۔

تاریخِ عالم اس بات کی شاہد ہے کہ وہی قومیں اور ریاستیں تاریخ میں سرخرو ہوئیں جن کی بنیادیں عدل و انصاف، شفافیت، خوفِ خدا اور بے لاگ احتساب پر رکھی گئی تھیں۔ تاریخ اسلام کے درخشندہ باب "ریاستِ مدینہ" کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ اظہرمن الشمس ہے کہ وہاں حکمرانی کا محور و مرکز اقتدار کی ہوس یا مالی مفادات نہیں بلکہ عوام کی امانت داری اور شدید ترین احساسِ جواب دہی تھا۔ خلیفہ ثانی امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت احتساب کی ایسی لازوال مثالوں سے بھرا پڑا ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔

آپؓ کا واضح فرمان تھا کہ حکمران اور عمالِ حکومت عام شہریوں سے زیادہ جواب دہ ہیں۔ ایک مرتبہ جب بیت المال سے کپڑا تقسیم ہوا اور حضرت عمر فاروقؓ نے اس سے قمیص بنوائی تو جمعہ کے خطبے کے دوران ایک عام شہری نے کھڑے ہو کر خلیفۃ المسلمین کو ٹوک دیا اور کہا کہ جب تک آپ یہ نہیں بتائیں گے کہ اتنے لمبے قد کے باوجود آپ کی قمیص ایک چادر میں کیسے بن گئی، ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ خلیفہِ وقت نے ناراض ہونے کے بجائے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو گواہی کے لیے کھڑا کیا، جنھوں نے وضاحت کی کہ انھوں نے اپنے حصے کا کپڑا اپنے والد کو دیا تھا تب جا کر شہری مطمئن ہوا۔

خلیفہ صالح حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے زمامِ اقتدار سنبھالی تو ان کے پیشِ نظر سب سے پہلا کام حکمرانوں کے غیرقانونی اثاثوں کا خاتمہ تھا۔ اپنی زوجہ محترمہ کے قیمتی زیورات حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے یہ کہتے ہوئے بیت المال میں جمع کروائے کہ خلیفہ کے گھر میں عوام کے پیسے سے حاصل کی گئی آسائشوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ کے خوفِ خدا اور تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ سرکاری کام کے دوران بیت المال کا چراغ جلاتے اور جیسے ہی ذاتی یا خاندانی بات شروع ہوتی اس چراغ کو بجھا کر اپنا ذاتی چراغ روشن کر لیتے تاکہ سرکاری تیل کا ایک قطرہ بھی ذاتی کام میں استعمال نہ ہو۔

اس روشن و تابناک تاریخ کے برعکس جب ہم پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ آج کے حکمرانوں کی اکثریت اچانک خانہ 4 سے خانہ 1 میں داخل ہوئی اور "کھک پتی سے کھرب پتی" ہوگئے مگر پوچھنے اور سوال کرنے والا کوئی نہیں۔ کلمہ طیبہ کے نام پر بنے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران، وزراء اور سرکاری افسران و ملازمین اپنے عہدوں کا حلف اٹھاتے وقت آئین کی پاسداری، دیانت داری اور امانت داری کا عہد کرتے ہیں لیکن کس قدر افسوس اور شرمندگی کا مقام ہے کہ وہی حکمران جن کے ہاتھوں میں اس غریب قوم کی باگ ڈور دی جاتی ہے تو وہ مملکت خداداد پاکستان کو دونوں ہاتھوں اور بے دردی سے لوٹنا شروع کر دیتے ہیں، احتساب تو بلا امتیاز سب کا ہونا چاہیے مگر سردست تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا کڑوا گھونٹ پیا جا چکا ہے جہاں تحریکِ انصاف کی تیرہ سالہ بلا شرکت غیرے حکمرانی کے دوران کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑے جاچکے ہیں۔

تحریک انصاف وہ جماعت تھی جس نے "ریاستِ مدینہ" کا نعرہ لگا کر، انصاف کا پرچم اٹھا کر، تبدیلی کا ڈرامہ رچایا تھا، لیکن تیرہ سالہ اقتدار کے بعد جو حقائق سامنے آئے ہیں اس نے شفافیت اور سادگی کے تمام دعوؤں کے پول کھول دیے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں عجب کرپشن کی غضب داستانیں گلی گلی اور نگر نگر زبانِ زدِ عام ہیں۔ صحت کارڈ جیسا شاندار منصوبہ عوامی فلاح و بہبود کے لبادے میں بدعنوانی، لوٹ مار اور خیانت کا شہکار بن کر سامنے آیا۔ وزراء، حکومتی اہلکاروں، پرائیویٹ اسپتالوں اور انشورنس کمپنی کے ملی بھگت سے قوم کے اربوں روپے لوٹے گئے، خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ اب "لوٹ مار کارڈ" کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ شعبہ صحت جو براہِ راست انسانی صحت و زندگی سے جڑا ہوتا ہے، وہاں اس بے دردی سے لوٹ مار کی گئی کہ انسانیت شرمسار ہو جائے۔

صرف صحت کارڈ ہی نہیں ہر منصوبہ لوٹ مار منصوبہ تھا، بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی میں اربوں روپے کی کرپشن زبان زد عام ہے، سیاحت کے فروغ کے نام پر فنڈز اور ترقیاتی ٹینڈرز میں من پسند افراد کو نوازنے اور بھاری کک بیکس حاصل کرنے کے کھلے ثبوت اور داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ تحریک انصاف کے گزشتہ ادوار حکومت اور موجودہ معطل شدہ حکومت کے وزراء اعلیٰ، وزراء، مشیران اور بیوروکریٹس نے مل کر خیبرپختونخوا کے عوام کے کھربوں روپے لوٹے ہیں، ان کو بے نقاب اور گرفتار کرکے بے رحم اور کھڑے احتساب سے گزار کر لوٹی گئی ایک ایک پائی وصول کر کے خیبرپختونخوا کی ترقی اور بد حال عوام کی خوشحالی پر خرچ کی جائے، اور ہر بدعنوان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آیندہ کوئی بھی ذمے دار آیندہ قوم کے مال پر ڈاکہ ڈالنے کا سوچے بھی نہ۔

گزشتہ 13 سال میں جو لوگ فقیر، مفلس اور کنگال تھے، جن کے پاس کھانے کو مناسب روٹی اور پہننے کو مناسب لباس نہ تھا وہ اچانک ارب پتی بن چکے ہیں، ان سب کو پکڑ کر سیدھا سوال کیا جائے کہ یہ جائیدادیں اور گاڑیاں کہاں سے آئیں؟ کل تک جن افراد کے پاس چند مرلے ذاتی زمین نہ تھی وہ مربعوں اراضی کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ کل تک جن کے پاس سر چھپانے کے لیے چند مرلے کا ذاتی مکان تھا، آج اسلام آباد، بنی گالہ اور گلیات کے مہنگے ترین علاقوں میں بڑے بڑے فارم ہاؤسز، ولاز کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ کل جو مانگے تانگے کے موٹر سائیکل پر چلتے تھے آج بلٹ پروف گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں۔

اس راتوں رات ہونے والی"قارونی پیش رفت" سے پتہ چلتا ہے کہ قومی امانت میں کس بے دردی اور بے شرمی سے خیانت کی گئی۔ بے رحم احتساب کے ساتھ ساتھ ریاست اور وفاقی حکومت کی یہ بھی ذمے داری ہے کہ وہ صوبے میں قائم کی گئی انتظامی کونسل یا گورننس باڈی کی کارکردگی کو ہفتہ وار بنیادوں پر مانیٹر کرے۔ کونسل کا ہر اجلاس، ہر فیصلہ اور ہر قدم شفاف ہونا چاہیے۔

اگر اس نظام کے اندر بھی کوئی شخص بدعنوانی، سستی، غفلت یا نااہلی کا مظاہرہ کرے تو اسے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر عہدے سے ہٹا کر قانون کے حوالے کیا جائے۔ اگر اب بھی ریاست اور حکومت کے ذمے داران نے سستی دکھائی، سیاسی سمجھوتے کیے یا اس بوجھ اور ذمے داری کو نبھانے میں ناکام رہے تو یاد رکھیں کہ وہ اس گورنر راج اور ایمرجنسی تلے دب کر تاریخ بن جائیں گے یاد رکھیں عوام کا غیظ و غضب اور تاریخ کے فیصلے ایسے مواقع پر انتہائی سخت ہوتے ہیں۔