معاشرے میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان کیوں؟

ہمیں اپنی عملی زندگی میں بعض اوقات بہت سے گھریلو، سماجی، معاشی اور قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


جبار قریشی October 22, 2026

ہمیں اپنی عملی زندگی میں بعض اوقات بہت سے گھریلو، سماجی، معاشی اور قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً غربت، کام کا دباؤ، مالی وسائل کی کمی، کسی عزیز کا جدا ہونا، خاندانی تنازعات، بے روزگاری، ناقابل برداشت بیماری، بچپن کے تلخ تجربات، ظلم و تشدد، طلاق، ذہنی اذیت، مقدمہ بازی، کاروباری نقصان وغیرہ ایسے مسائل ہیں جن سے جب ہم دوچار ہوتے ہیں تو یہ مسائل ہمارے لیے بے چینی، افسردگی، الجھن اور تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔

سائنسی اور طبی نقطہ نظر سے ہمارے جسم کے ہارمونز ہمارے جسمانی توازن کو برقرار رکھتے ہیں اگر یہ توازن کی حالت میں رہیں تو ہماری جسمانی صحت کے لیے معاون ہوتے ہیں لیکن جب انسان کو چیلنجز، مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہمارا دماغ فطری ردعمل دیتا ہے جس کے نتیجے میں یہ ہارمونز عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمارا جسم دکھی، افسردہ، غمگین، پریشان اور تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان کا کسی تکلیف دہ معاملے پر پریشان ہونا، اداس ہونا اور بے زار ہونا ایک فطری بات ہے لیکن اگر یہ کیفیت ایک ہفتے یا دو ہفتے سے زیادہ وقت رہے اور مستقل ایک کیفیت اختیار کر جائے تو اسے ڈپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔

یہ ایک ایسی ذہنی بیماری ہے جو انسان کی جسمانی اور نفسیاتی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ نہ صرف ہمارے سونے جاگنے، کھانے پینے کے انداز پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ہماری سوچ، رویے اور ہمارے جذبات پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔

جب ڈپریشن اس قدر بڑھ جائے کہ انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو جائے تو وہ اپنے مسائل اور پریشانیوں سے نجات پانے کا راستہ خودکشی کی صورت میں تلاش کرتا ہے یعنی ڈپریشن جب اپنی انتہائی شکل اختیار کرتا ہے تو انسان خودکشی جیسے انتہائی اقدام سے گریز نہیں کرتا۔ ڈپریشن ایک ایسی سنگین بیماری ہے جو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے تو انسان اپنی جان لینے سے گریز نہیں کرتا۔ یہ ایسی بیماری ہے جو عمر، جنس، اعلیٰ تعلیم، معاشرتی رتبے اور سماجی پس منظر سے قطع نظر کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

موجودہ دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کا انسان جتنا بے سکون ہے اتنا پہلے کبھی نہ تھا۔ اس ڈپریشن کے مریضوں میں اضافے کے سبب خودکشی کے رجحانات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟

میری ناقص رائے میں اس کا بڑا سبب مادہ پرستی کا فروغ ہے۔ مادہ پرستی کی کوکھ سے دنیا پرستی جنم لیتی ہے، دنیا پرستی انسان کے شعور میں ایک خاص زاویہ نگاہ پیدا کرتی ہے جس میں جسمانی تقاضوں کو اولین اہمیت دی جاتی ہے۔ روحانی تقاضوں، غیر مادی اقدار اور ذہنی سکون کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں انسان دنیا پرست ہو جاتا ہے۔ دنیا پرستی انسان کو اپنے اس دائرے میں مقید کر دیتی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے یہ طرز زندگی انسان کو ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا کر دیتی ہے۔

مادہ پرستی اور دنیا پرستی کے تصور نے دنیا میں ایک ظالمانہ استحصالی نظام کو بھی جنم دیا ہے۔ یہ نظام بظاہر ایک معاشی نظام ہے لیکن اپنے فکری ڈھانچے میں ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جس نے لفظ ترقی کے نام پر انسان کو لامحدود خواہشات کا اسیر بنا کر اسے بے سکونی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ظاہر ہے اس کا نتیجہ ڈپریشن کی صورت میں ہونا ہے۔

مادہ پرستی اور دنیا پرستی جہاں ڈپریشن کے فروغ کا باعث ہے وہاں ہمارے معاشرے کا ذہنی صحت کے حوالے سے منفی رویہ بھی اس بیماری کے فروغ کا باعث رہا ہے۔ ڈپریشن کے مریض خصوصی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں لیکن دیکھا گیا ہے کہ لوگ ان سے دور بھاگتے ہیں۔ ڈپریشن کے مریض اپنے مسائل کا اظہار کرتے ہیں تو لوگ انھیں رونے دھونے والا، ڈرامہ باز کہہ کر ان کی تذلیل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انھیں نفسیاتی اور آدھا پاگل قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ معاشرے کے اس منفی طرز عمل کے نتیجے میں یہ لوگ عزیز و اقارب، عوام الناس سے کٹ جاتے ہیں، تنہائی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ خودکشی جیسا انتہائی اقدام اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات جہالت کی وجہ سے انھیں جادو ٹونے والوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے بعض اوقات مریض بھی خود ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے کہ کہیں لوگ اسے نفسیاتی یا پاگل نہ سمجھ لیں، یہ طرز فکر پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ ڈپریشن کے شکار افراد بالخصوص نوجوان ڈپریشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے منشیات، نشہ اور شراب کا سہارا لیتے ہیں اور اسے ڈپریشن کا علاج تصور کرتے ہوئے ڈپریشن سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نشہ کی یہ لت انھیں مزید مشکلات کے دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ڈپریشن اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا تدارک ممکن ہے؟

 میری ذاتی رائے میں جس طرح ہم جسمانی صحت کو اہمیت دیتے ہیں ہمیں اسی طرح ذہنی صحت کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی میں مشکلات کم ہوتی ہیں ورنہ دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جن کو مصائب، مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔مصائب، مشکلات اور چیلنجز وقتی چیزیں ہیں یہ کبھی جلد رفع ہو جاتی ہیں کبھی اس میں وقت لگتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی مشکلات کا مقابلہ نہ کرے۔ انسان کو اچھے مستقبل کی امید کے ساتھ منظم طریقے سے ان مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ منفی سوچ اور پاؤں کی موچ انسان کو بے سکون کر دیتی ہے۔ اس لیے ڈپریشن سے نجات کے خواہش مند ہیں تو منفی سوچ سے گریز کریں۔

عمومی طور پر ہر شخص اپنے خاندان کا رکن، معاشرے کا فرد اور معاشی عمل کا ایک پرزہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات میں اپنا بھی ایک وجود رکھتا ہے۔ ان سب کے ساتھ نبھاؤ کرنا انصاف کے تقاضے پورے کرنا ایک مشکل اور کٹھن کام ہے۔ اس لیے ہر ایک کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا اور نہ خوش رکھا جا سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا مزاج بھی خودغرض مطلبی اور ناشکری والا ہوتا ہے اس لیے ہر ایک کو خوش رکھنے کی کوشش نہ کریں اور نہ خود کو ہلکان کریں ورنہ آپ ڈپریشن کا شکار ہو جائیں گے۔ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور اپنی ذات پر بھی توجہ دیں۔

مصائب، مشکلات اور چیلنجز کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر بھی نظر رکھیں اور جو مسائل پیش آئیں ان پر جذباتی ردعمل دینے سے گریز کریں۔ معاملے کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔ ماضی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ماضی کے تلخ واقعات میں غوطہ خوری سے گریز کریں۔ فضول تصورات اور خیالات کو ذہن میں نہ لائیں کہ کاش ایسا نہ ہوتا، کاش ایسا ہو جاتا۔ ایسا کیوں ہوا، جیسے تصورات اور خیالات کو ذہن میں لانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔