کراچی:
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے جامعہ کراچی میں اسکول آف نرسنگ کے فوری قیام کے لیے اپنے تعاون کی پیشکش کردی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جیسے ہی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کی جانب سے اس سلسلے میں انھیں باقاعدہ خط موصول ہوگا وہ نرسنگ کونسل کا ہنگامی اجلاس بلاکر اس معاملے میں پیش رفت کروائیں گے۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں اسکول آف نرسنگ کی خواہش یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کی جانب سے تقریب افتتاح سے قبل وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں وزیر صحت مصطفی کمال کے ساتھ ’ون ٹو ون‘ ملاقات میں کی گئی تھی۔
تقریب سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی اور چیئرمین شعبہ ڈاکٹر صادق علی خان نے بھی خطاب کیا۔
جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کی جانب سے منعقدہ کیریئر کنیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ سنجیدہ بحث ہے کہ نئے انتظامی یونٹ بنا کر اسپتالوں اور جامعات سمیت تمام پبلک سروس اداروں کو ترقی دی جائے۔ اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ موجودہ نظام سے بہتری آئی ہے یا مزید ابتری آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 8884 ارب روپے وزرائے اعلیٰ کو دیے گئے ہیں، یہ پیسے کسی کو واپس نہیں کرنے صرف سوشل سیکٹر کی ترقی کے لیے خرچ ہونے تھے پھر بھی کراچی کا یہ حشر ہے، 22 ہزار ارب روپے انہیں دیے جا چکے ہیں، سوچنا ہے ملک بچانا ہے یا لوگوں کی خواہشات کو بچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو صوبوں میں جنگ چل رہی ہے۔ پڑوسی ملک دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ بیڈ گورننس بجلی، پانی اور سڑکیں پیدا نہیں کرتی، بددل طبقہ پیدا کرتی ہے۔ یہ نظام لوگوں کو غدار بنا رہا ہے۔ ہمارے زمانے میں کراچی پر 300 ارب خرچ ہوئے۔ اس وقت کراچی دنیا کا 12 واں اچھا شہر تھا۔ اب بڑے شہروں کی رینکنگ میں کراچی کا تیسرا نمبر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جامعہ کراچی ہماری ماں ہے، یہاں کے طلبہ کو اچھی ڈائریکشن دیں، بہت کم وقت میں نئے وائس چانسلر نے جامعہ کراچی کے مسائل کی شناخت کر لی ہے۔ جامعہ کراچی اس شہر کا لینڈ مارک ہے۔ وائس چانسلر کے ہنی مون کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہاں تبدیلی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو کراچی شہر کا حشر ہے وہی اس جامعہ کا حشر ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں نرسنگ کالج کے قیام کے تذکرے پر ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستان سے ساڑھے 5 ہزار اور پڑوسی ملک سے ساڑھے 5 لاکھ نرسز گئے ہوئے ہیں۔ دنیا میں 25 لاکھ اور پاکستان میں 9 لاکھ نرسز کی ضرورت ہے۔
مصطفیٰ کمال نے آبادی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2023 میں مردم شماری ہوئی، ہم ہر سال نیوزی لینڈ سے بڑی آبادی پیدا کرتے ہیں اور ہر 5 سال میں ایک آسٹریلیا بناتے ہیں، جہاں جہاں ترقی آئی ہے وہاں پیدائش کی شرح کم ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی وسائل سے میل نہیں کھاتی۔ ہر سال 6.7 ملین بچے پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ کراچی کے سب سے بڑے نجی اسپتال کی ایمرجنسی میں 3 سے 4 گھنٹے کی ویٹنگ ہے۔ ہر اسپتال اوور کراؤڈڈ ہے، ہمارے صحت کا نظام برباد ہونے کے قریب ہے، اسپتال بنانا ہیلتھ کیئر نہیں ۔ ’سک کیئر‘ ہے۔ ہیلتھ کیئر آبادی پر کنٹرول کا نام ہے۔ صاف پانی دینے کا نام ہے۔ ہیلتھ کیئر اکیلا وفاقی وزیر یا وزیر اعظم نہیں کرسکتا ۔
انہوں نے کہا کہ 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول نہیں جارہے، جو اسکول جارہے ہیں ان میں سے بہت سارے بچے دو سطر پڑھ نہیں سکتے۔ ہر سال 11 ہزار مائیں مر جاتی ہیں، 1300 بچے روزانہ مرتے ہیں ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے شعبہ کمپیوٹر سائنس کو عمیر باشا انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے نام سے یاد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس انسٹی ٹیوٹ کے تحت 3 پروگرام جاری ہیں، ہم چاہیں گے کہ نیشنل ایکریڈشن کونسل کے ساتھ انٹرنیشنل ایکریڈشن کونسل سے بھی ہمارے پروگرام منظور ہوجائیں ۔ ہم نالج کے فرنٹیئر ہیں، دنیا نالج کی جانب جارہی ہے ہمیں بھی دنیا کے ساتھ جانا ہے۔جامعہ کراچی کی انتظامیہ پیپر لیس سسٹم کی جانب کوشش کررہی ہے۔ 2 ماہ کے اندر اس شعبے میں سب کچھ ڈیجیٹائز ہوجائے گا ۔
وائس چانسلر نے بتایا کہ چین کے قونصل جنرل نے پاک چائنا سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس سینٹر فار سائبر سیکیورٹی بنانے کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ہم کریکیولم کو ری اسٹریکچر کررہے ہیں تاکہ طالب علم کلاس روم کے بجائے انڈسٹری میں وقت گزارے۔ 6 ماہ میں بزنس انکیوبیشن سینٹر بنالیں گے، تاکہ طلبہ یہاں سے اپنے بزنسز خود شروع کرسکیں اور طلبہ روزگار نہیں ڈھونڈیں بلکہ روزگار دے سکیں۔
چیئرمین شعبہ کمپیوٹر سائنس ڈاکٹر صادق علی خان کا کہنا تھا کہ اکیڈمیا اور انڈسٹریز کے مابین تعلق استوار کرنے کے لیے کیریئر کنیکٹ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ وائس چانسلر وسیم قاضی ہمیں اکیڈمک ایکسیلنس اور اسٹریٹیجک گائیڈنس دے رہے ہیں۔ ہمارے گریجویٹ دنیا کی ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے ہیں۔ پبلک ویلفیئر آفس کو ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہمارے طلبہ کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈھائی ہزار طلبہ شعبہ کمپیوٹر سائنس کے 3 مختلف ضابطوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جس میں کمپیوٹر سائنس، سوفٹ ویئر انجینئرنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس 3 ڈسپلن شامل ہے جبکہ بی ایس ان سائبر سیکیورٹی اور ایم ایس ان ڈیٹا سائنس جلد شروع کریں گے۔