کنگ چارلس کی عمان کیلیے پڑھی گئی حدیث کا حوالہ اور پس منظر

کنگ چارلس نے سلطان عمان کے اعزاز میں تقریب کے دوران حدیث مبارکہ کا حوالہ دے کر خیر مقدم کیا


ویب ڈیسک October 22, 2026

برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوئم نے 44 سال سے زائد عرصے کے بعد عمان کے سربراہ کے دورے کا خیر مقدم ایک حدیث پیش کر کے کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ششدر کردیا۔

عمان کے سلطان ہیثم بن طارق تقریبا 44 برس کے بعد برطانیہ کے سرکاری دورے پر پہنچے جہاں اُن کا شاندار استقبال کیا گیا۔

عمان کے سلطان کے اعزاز میں برطانوی بادشاہ کنگ چارلس کی جانب سے استقبالیہ تقریب رکھی گئی تھی جس میں عمانی وفد کے اراکین اور شاہی خاندان کے افراد سمیت حکومتی و دیگر شخصیات شامل تھیں۔

https://img.express.pk/media/videos/AQN5BQzBKb9m2eQAEjW-cuv7gwsl4yue18osi_Qm7ts8H7rWZpLIAPasY3PG7oI6o6Mx4_M1CXt57kPxjsbMcN3huzBUjDcpkcKNZgjYwNmXNw.mp4

لندن میں ہونے والی اس شاہی تقریب میں کنگ چارلس نے 44 سال بعد عمان کے سربراہ کے دورے کا خیر مقدم کیا اور اس موقع پر انہوں نے حدیث نبوی بھی پیش کی۔

No photo description available.

کنگ چارلس نے تقریب میں یہ حدیث عربی زبان میں پڑھ کر سنائی جس کی روایت صحیح مسلم میں اور حدیث نمبر 2544 ہے۔

مفہوم و ترجمہ:

حدیث مبارکہ کا ترجمہ اور مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ایک صحابی کی شکایت پر کہا کہ اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھارے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے اور برے سلوک سے گریز کرتے۔

اس حدیث میں عربی کے جو الفاظ تحریر کیے گئے ہیں ان کا لفظ بہ لفظ ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ’اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھیں گالیں دیتے اور نہ ہی مارتے‘۔

اس حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہ ہیں جنہوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک صحابی کو کسی عرب قبیلے کے پاس بھیجا اور جب وہ واپس آئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ اُس قبیلے کے لوگوں نے مجھے مارا پیٹا ہے۔

اس پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔

مفسرین کے مطابق اس حدیث میں آپ ﷺ نے جس ملک عمان کا ذکر کیا اُس کا دارالحکومت مسقط ہے۔ واضح رہے کہ اردن کے دارالحکومت کا نام بھی اردو میں عمان لکھا جاتا ہے جبکہ اس کا انگریزی تلفظ Amaan بنتا ہے۔