مبینہ سعودی حملے سے متاثرہ کشتی میں سوار بھارتیوں کو ریسکیو کر رہے ہیں؛ ترجمان حوثی

تفریح و سیاحت کے لیے استعمال ہونے والی کشتی میں 14 بھارتی شہری سوار تھے


ویب ڈیسک October 22, 2026
سعودی حملے سے متاثرہ کشتی میں سوار 14 بھارتیوں کو ریسکیو کر رہے ہیں؛ (فائل فوٹو)

یمن کے حوثیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں ذُقر جزیرے کے قریب 14 بھارتی شہریوں کو لے جانے والی ایک تفریحی کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں کہی۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھارتی کشتی کو نشانہ بنایا جس پر 14 بھارتی شہری سوار تھے اور ان سب کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔

یحییٰ سریع نے سعودی حملے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ ہیں۔

حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب کو ایسی کارروائیوں سے روکا جائے۔

تاہم کشتی کو نشانہ بنائے جانے کے حوثیوں کے الزام کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی فوری طور پر یہ واضح ہوسکا کہ کشتی کو کتنا نقصان پہنچا یا اس پر سوار تمام افراد محفوظ ہیں یا نہیں۔

حوثی ترجمان نے بھی اپنے بیان میں کسی جانی نقصان کی اطلاع بھی نہیں دی جب کہ سعودی عرب اور بھارت کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب بھارتی سفارت خانے نے بتایا کہ گزشتہ روز دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں ایک بھارتی شہری ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب کے شیبہ آئل فیلڈ پر حملے میں بھی ایک بھارتی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملے کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ ذُقر جزیرہ یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں واقع ہے جبکہ باب المندب آبنائے اس خطے کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے یہ آبی راستہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔